ریاست کیخلاف بغاوت کرنے اوراکسانے پر فوری کارروائی کا فیصلہ

پی ڈی ایم کے 13 دسمبر کو منعقد ہونے والے جلسے سے قبل حکومت نے بڑا فیصلہ کیا ہے کہ ریاست کے خلاف بغاوت اور بغاوت پر اکسانے پر فوری کارروائی کی جائے گی۔
ایسے وقت میں جب اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم اور حکومت کے درمیان سیاسی تناو عروج پر ہے وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ریاست کے خلاف بغاوت اور بغاوت پر اکسانے پر فوری کارروائی کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے ریاست کے خلاف بغاوت اور بغاوت پر اکسانے پر فوری کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد ہنگامی بنیادوں پر ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ سے سرکولیشن کے ذریعے ترامیم کی منظوری لے لی گئی، بغاوت اور بغاوت پر اکسانے پر مقدمہ درج کرنے کا اختیار سیکرٹری داخلہ کو تفویض کیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کے سیکشن 196 کے تحت وفاقی حکومت کا اختیار سیکرٹری داخلہ کو دیا گیا، صوبائی حکومتیں بھی ریاست کے خلاف بغاوت کے مقدمات درج کراسکے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ عدالت سیکرٹری داخلہ کی منظوری کے بغیر درج ہونیوالے مقدمے کا ٹرائل نہیں کرے گی۔ سیکشن 153 اے سمیت 5 سیکشن کے تحت مقدمہ سیکرٹری داخلہ کی منظوری سے ہو گا، سیکرٹری داخلہ کے علاوہ صوبائی حکومتوں کی منظوری سےبھی مقدمہ کا اندراج ہوسکے گا۔ضابطہ فوجداری کے سیکشن 196 کے تحت وفاقی حکومت کا اختیار سیکرٹری داخلہ کو دیا گیا۔صوبائی حکومتیں بھی ریاست کے خلاف بغاوت کے مقدمات درج کراسکے گی۔
بعض دفعہ کابینہ کی منظوری نہ ہونے کی وجہ سے ان مقدمات کی پیروی غیر قانونی ہوجاتی تھی۔ اس لیے حکومت نے بغاوت کے مقدمات قائم کرنے کا اختیار سیکرٹری داخلہ اور صوبائی حکومتوں کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔قوانین میں تبدیلی کے بعد بغاوت کا مقدمہ سیکریٹری داخلہ اور صوبائی حکومت کی منظوری کے بغیر درج نہیں ہو سکے گا۔
وزارت داخلہ کے ایک اعلی افسر نےتصدیق کی ہے کہ ایسے مقدمات میں کارروائی کا اختیار اب وفاقی کابینہ کے بجائے وزارت داخلہ کو مل گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پہلے اس طرح کے مقدمات پر کارروائی جب تک نہیں ہوتی تھی جب تک وفاقی کابینہ اس کی منظوری نہ دے جس کی وجہ سے تاخیر ہو جاتی تھی۔ذرائع کے مطابق بعض دفعہ کابینہ کی اپروول نہ ہونے کی وجہ سے ان مقدمات کی پیروی غیر قانونی ہوجاتی تھی ۔ تاہم اب وفاقی کابینہ نے ایک سرکولر کے ذریعے اختیار سیکرٹری داخلہ کو تفویض کرنے کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد بغاوت اور بغاوت پر اکسانے پر مقدمہ درج کرنے کا اختیار اب سیکرٹری داخلہ کے پاس آ گیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ضابطہ فوجداری کے سیکشن 196 کے تحت وفاقی حکومت کا اختیار سیکرٹری داخلہ کو دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ان مقدمات میں فوری شکایت کرنا اور مقدمات کی پیروی کرنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک عدالتی فیصلے کے ذریعے وفاقی حکومت کو کابینہ قرار دینے کے بعد انتظامی امور بھی کابینہ میں پیش ہونے لگے تھے۔ نئی منظوری کے بعد اب صوبائی حکومتیں بھی ریاست کے خلاف بغاوت کے مقدمات درج کروا سکیں گی۔ذرائع نے بتایا کہ عدالتی فیصلے کے باعث انتظامی نوعیت کے چھوٹے چھوٹے معاملات بھی وفاقی کابینہ کی منظوری سے مشروط ہو گئے۔ ان کے مطابق یہ سی آر پی سی میں کوئی ترمیم نہیں بلکہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ہے۔اب تبدیلی یہ آئی ہے کہ جب بھی ریاست کے خلاف بغاوت پر اکسانے کا کوئی واقعہ ہو گا تو وفاقی حکومت کی طرف سے وفاقی سیکرٹری اس کی شکایت درج کروا سکے گا جب کہ اس سے قبل وفاقی کابینہ کی منظوری کے لیے سمری بھیجنا ضروری تھا۔
یاد رہے کہ اس سال اکتوبر میں سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف اور پارٹی کے دیگر رہنماوں کے خلاف صوبائی دارالحکومت لاہور کے تھانہ شاہدرہ میں ’غداری‘ اور ’ریاست کے خلاف بغاوت پر اُکسانے‘ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ تاہم بعد میں دیگر لیگی رہنماوں کے نام مقدمے سے خارج کر دیے گئے تھے۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن کی مرکزی رہنماء مریم نواز نے کہا ہے کہ کشتی غرق ہونے کو ہے، سواریوں کی جگہ بدلنے سے کچھ نہیں ہوگا، جب کشتی غرق ہونے لگے تو توازن ٹھیک رکھنے کیلئے سواریوں کی جگہ تبدیل کردی جاتی ہے، لیکن عوامی سمندر میں کشتی ڈوبنے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ انہوں نے ٹویٹر پر وفاقی کابینہ میں وزارتوں کے ردوبدل پر اپنے ردعمل میں کہا کہ کشتی غرق ہونے لگے تو توازن قائم کرنے کے لیے سواریوں کی جگہ تبدیل کردی جاتی ہیں۔ لیکن عوام کے سمندر میں ہچکولے کھاتی کشتی کو ڈوبنے سے کوئی نہیں بچا سکتا ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ کشتی غرق ہونے کو ہے انشاءاللّہ! سواریوں کی جگہیں بدلنے سے اب کچھ نہیں ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button