ریاض نائیکو کی موت کے بعد حزب المجاہدین کو تقسیم کا سامنا

مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی خاطر بھارتی فوج کے ساتھ برسر پیکار حزب المجاہدین کے چیف آپریشنل کمانڈر ریاض نائیکو کی شہادت کے بعد اب حزب کو ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے اور وہ ہے کشمیری عسکریت پسندوں کو کسی عالمی ایجنڈےسے بچاتے ہوئے بھارتی فوج کا سامنا کرنا۔
2017 میں حزب المجاہدین کے چیف آپریشنل کمانڈر برہان مظفر وانی شہید کی جگہ لینے والے ریاض نائیکو کی شہادت ایک ایسے نازک موقع پر ہوئی ہے کہ جب ایک طرف حزب والوں کو بھارتی فوج کی جانب سے سخت ترین مزاحمت کا سامنا ہے اور دوسری طرف عالمی دہشت گر تنظیم القاعدہ نے افغانستان سے توجہ ہٹاتے ہوئے کشمیر اور ہندوستان کو اپنا نیا ہدف قرار دے دیا ہے اور مقامی حریت پسندوں کو بھرتی کرنا شروع کر دیا ہے۔
حزب المجاہدین کی سپریم کونسل نے ریاض نائیکو کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ سیف اللہ میرعرف غازی حیدرعرف ڈاکٹر سیف کو جموں وکشمیر میں اپنا نیا چیف آپریشنل کمانڈر مقرر کیا ہے جسے حزب کی تاریخ کے مشکل ترین چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس سے پہلے تیری جان میری جان!! پاکستان پاکستان’  کا نعرہ لگانے والے حزب المجاہدین کے چیف آپریشنل کمانڈرریاض نائیکو کو بھارتی فوج سے لڑنے کے علاوہ ایک اور محاذ کا سامنا بھی تھا جو بیرونی نہیں بلکہ اندرونی تھا کیونکہ برسوں سے ایک صفحے پر رہنے والے کشمیری حریت پسندوں میں اختلافات شدید تر ہو نا شروع  ہوگئے تھے۔ ان فکری اور نظریاتی اختلافات کے پیچھے بنیادی سوچ یہ تھی کہ ماضی میں کشمیری حریت پسندوں سے پاکستان میں بیٹھے کشمیر کے ٹھیکیداروں نے کئی مرتبہ بے وفائی کی لہذا اب ان پر بھروسہ کرنے کی بجائے اس تحریک کو بغیر کسی بیرونی سہارے کے چلانا چاہیے۔
یاد رہے کہ ماضی قریب میں حزب المجاہدین کے اندر اسی معاملے پر ایک بغاوت ہو چکی ہے جب ریاض نائیکو کے ڈپٹی کمانڈر ذاکر موسیٰ کو 2017 میں تنظیم سے نکال دیا گیا تھا۔ اس وقت نائیکو نے اپنی تنظیمی حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے اس فیصلے کے نفاذ کو یقینی بنایا۔ اس کے بعد ذاکر موسیٰ نے انصار غزوۃ الہند کے نام سے ایک نئی تنظیم بنا لی اور سری نگر کی ایک جیل میں پھانسی پانے والے افضل گورو کے اُن مخصوص خیالات اور تحفظات کا پرچار شروع کر دیا جن میں پاکستانی ریاست کی جانب سے انکے ساتھ تعاون نہ کرنے کی شکایات کا تذکرہ تھا۔ انصار غزوۃ الہند کے قیام پر پاکستان میں سید صلاح الدین کی زیر قیادت متحدہ جہاد کونسل نے واضح موقف اپنایا کہ کشمیر کی تحریک آزادی میں القاعدہ یا داعش کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے اور نہ ہی انہیں کشمیر میں کوئی بیرونی حمایت حاصل ہے۔ مزید یہ کہ سادہ لوح نوجوانوں کو خلافت کے نام پر دھوکہ دیا جا رہا ہے۔ چونکہ ریا ض نائیکو کا شمار سینئر ترین کشمیری عسکریت پسندوں میں ہوتا تھا اس لئے انہیں یہ ذمہ داری سونپی گئی  تھی کہ القاعدہ اور داعش کے نام پر پیدا ہونے والی اس نئی سوچ کے آگے بند باندھ کر رکاوٹ کھڑی کی  جائے۔ ریاض نائیکو نے انصار غزوۃ الہند کے کشمیر سے باہر حملوں اور کشمیری پنڈتوں پر سختی کے موقف کو یکسر مسترد کیا تھا لہذا ان حملوں سے انصار غزوۃ الہند عوامی پذیرائی لینے میں ناکام رہی۔
دنیا میں جاری دیگر پر تشدد تحریکوں کے برعکس ابھی تک مقبوضہ کشمیر میں ان تمام تر اختلافات کے باوجود ابھی تک باہمی مسلح تصادم کی نوبت نہیں آئی، اگرچہ ان اختلافات کے آغاز پر یہ اطلاعات تھیں کہ ریاض نائیکو کو وادی کشمیر کے باہر سے پیغام بھجوایا گیا تھا کہ منحرف ہونے والوں سے سختی سے پیش آیا جائے لیکن نائیکو نے اسکے باوجود اپنے سابقہ دوستوں  سے سختی روا نہیں رکھی۔ اسی طرح دوسری طرف القاعدہ کی جانب جھکاؤ رکھنے والے گروہ نے بھی اپنی توجہ  تاحال بھارتی فوج پر حملوں ہی مرکوز رکھی ہوئی ہے۔
یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں عسکریت پسندی کے ‘پوسڑ بوائے‘ برہان مظفر وانی کی زندگی کے آخری سالوں میں حزب کے عسکریت پسندوں میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی  تھی کہ کشمیر میں جاری عسکری کاروائیوں کو کسی دوسرے ملک یا اس کے اداروں کے زیر اثر ہونا چاہیے یا نہیں؟
اس وقت برہان وانی کے قریبی ساتھی ذاکر موسٰی کا موقف تھا کہ ہمیں اپنی آزادی کی جنگ خود لڑنا ہو گی، کسی ملک کو یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اپنی اسٹریٹجک پالیسی کو مد نظر رکھتے ہوئے ہماری تحریک کی مدد میں اضافہ یا کمی کرے۔ نیز نائن الیون کے بعد کشمیریوں کو جس طرح تنہا چھوڑدیا گیا اس کے بعد ہمیں کسی سے کوئی توقع نہیں رکھنی چاہیے کیونکہ ہر ملک اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر پالیسی بناتا ہے۔
اسی بحث کے پیشِ نظر ان دنوں کمانڈر برہان وانی اور جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کی گفتگو کی ایک مبینہ آڈیو ٹیپ سامنے آئی جس میں برہان وانی نے شکوہ کیا کہ آج کل ‘لشکر والوں’  کا سامان اور پیسے نہیں آتے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہمیں اپنا مقصد حاصل کرنے کے لئے وسائل ملنے چاہییں۔ جواب میں حافظ سعید نے کہا تھا کہ ہم آپکے ساتھ پورا تعاون کریں گے۔
لیکن سچ تو یہ ہے کہ اب عالمی حالات اس قدر بدل چکے ہیں کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ بھی کشمیری حریت پسندوں کی مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہ گئی۔ ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ سے بچنے کے لیے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے پہلے ہی حافظ محمد سعید کو عمر قید کی سزا سنا کر جیل میں ڈال دیا ہے۔
کشمیر میں جاری لڑائی اور آزادی کی تحریک میں پاکستان پر کتنا انحصار کر نا چاہئے، اس سوال پر مقبوضہ کشمیر کے عسکریت پسندوں حلقوں میں بحث کوئی نئی نہیں ہے۔ انڈین پارلیمنٹ پر حملہ آوروں کی مدد کرنے کے الزام میں پھانسی پانے والے افضل گورو نے اپنی کتاب ‘آئینہ ‘ میں خود کو کمانڈر غازی بابا کا شاگرد قرار دیتے ہوئے لکھا کہ غازی بابا تنظیمی رسہ کشی، سیاسی و نظریاتی اختلاف، اور خفیہ ایجنسیوں کے خود غرضانہ و منافقانہ رویوں سے باخبر تھا۔ اسی کیے وہ ہمیشہ یہ کوشش کرتا تھا کہ نوجوان ٹریننگ کے لیے مظفر آباد جانے کی بجائے یہاں جموں کشمیر میں ہی تربیت حاصل کریں۔ افضل گورو کی کتاب کو اس لیے بھی مستند شمار کیا جا سکتا ہے کہ اس کی تقریب رونمائی 2014 میں مظفر آباد میں ہوئی جس سے چیئرمین متحدہ جہاد کونسل سید صلاح الدین نے خطاب کیا جبکہ کالعدم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر نے اس موقع پر ٹیلی فونک تقریر کی۔
لہذا موجودہ دور میں ‘انصار غزوۃ الہند’ نامی تنظیم، افضل گورو اور غازی بابا کی انہی شکایات کو بنیاد بنا کر کشمیر میں اپنے نظریات کاپرچار جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ پاکستان میں عمومی رائے یہی ہے کہ کشمیر میں القاعدہ یا داعش کا وجود اور کردار بھارتی اسٹیبلشمنٹ کی سازش ہے جس کا مقصد کشمیر میں جاری تحریک آزادی کو بدنام کر کے نقصان پہنچانا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button