ریفرنس میں اٹھائے گئے سوالات کا سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے میں جواب دے دیا گیا تھا

جسٹس یحییٰ آفریدی نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے صدارتی ریفرنس کو سپریم کورٹ کے سامنے رائے طلب کرنے کےلیے کیوں دائر کیا ہے، جس کا سابقہ فیصلے میں پہلے ہی جواب دے دیا گیا ہے۔
جسٹس یحیٰی آفریدی نے کہا کہ کیا آپ کوئی ایسی مثال قائم کر رہے ہیں کہ دو مختلف بینچز کے فیصلوں کے درمیان تنازع ہو تو آپ کو کسی ریفرنس کے ذریعے وضاحت کی ضرورت ہوگی۔ جسٹس یحیٰ آفریدی نے حیرت کا اظہار کیا کہ جب حکومت کے پاس پہلے ہی کوئی فیصلہ تھا جس میں جواب موجود تھا تو ریفرنس دائر کرنے کی ضرورت کیا تھا۔ یہ مشاہدہ اس وقت ہوا جب اٹارنی جنرل برائے پاکستان (اے جی پی) خالد جاوید خان نے سپریم کورٹ کے سامنے سینیٹ میں ووٹنگ سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان ہائی کورٹ نے 2014 میں کہا تھا کہ بلدیاتی انتخابات ہمیشہ آئین کے تحت ہی ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی نظریہ سن 2017 میں سندھ ہائی کورٹ نے بھی اپنایا تھا تاہم سپریم کورٹ کے تین ججز کے بینچ نے بعدازاں ایک مختلف نظریہ اختیار کیا اور فیصلہ دیا تھا کہ ایسے انتخابات آئین کے تحت نہیں ہوتے تاہم اس کی کوئی تفصیلی وجہ جاری نہیں کی گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعد ازاں دو ججز پر مشتمل سپریم کورٹ کے بینچ ایک فیصلہ لے کر سامنے آیا تھا کہ اس طرح کے انتخابات آئین کے تحت تھے تاہم یہ فیصلہ پر انکیوریم (قانونی تشریح اور حقائق بیان کیے بغیر) تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان خالد جاوید خان نے استدلال کیا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) 2018 میں سپریم کورٹ کے بینچ کے سامنے اس معاملے میں فریق تھا تاہم اس نے سپریم کورٹ بینچ کے سابقہ تین رکنی بینچ کے حکم سے آگاہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک حادثاتی غلطی ہوسکتی ہے، وہ کمیشن کی طرف کسی قسم کی بدنامی کا الزام نہیں لگاسکتے کیونکہ یہ ایک آئینی ادارہ ہے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی کی طرف سے اٹھائے گئے سوال کے بارے میں اے جی پی نے وضاحت کی کہ وہ سپریم کورٹ کے سامنے ریفرنس کو منتقل کرنا محفوظ ترین راستہ سمجھتے ہیں کیونکہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیش نظر کھلی رائے شماری کےلیے کابینہ کو آگے بڑھنے کا مشورہ دینے کا بہت بڑا بوجھ برداشت کرنے نہیں کرسکتے تھے کیوں کہ لوگ ان کے بارے میں منفی رائے اختیار کرلیتے اور کی ساکھ پر حملہ کیا جاتا۔ دریں اثنا اپوزیشن جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے بیرسٹر ظفر اللہ خان کے توسط سے سپریم کورٹ میں سائناپسس دائر کیا اور کہا کہ عدالت عظمیٰ کو اس وقت جب انتہائی اخلاقی طور پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں تو زیادہ سے زیادہ سیاسی ماحول کی روشنی میں اس ریفرنس کا جواب نہیں دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے مباحثوں کا مناسب فورم پارلیمنٹ ہے جو عوام کی عمومی خواہش کی عکاسی کرتی ہے۔
