ریلوے کو مالی بحران سے نکالنے کےلیے نجی شعبے کی مدد لینے کا فیصلہ

پاکستان ریلوے کو جاری مالی بحران سے نکالنے اور اس ادارے کو مستحکم سرکاری ادارہ بنانے کےلیے وزارت ریلوے نے چار بزنس ماڈل پیش کیے ہیں جس کے تحت اہم امور کو حل کرنے میں نجی شعبے کی شمولیت کو ترجیح دی جائے گی۔
پہلے بزنس ماڈل کے تحت ریلوے اپنی بیشتر مسافر ٹرینوں خصوصاً خسارے میں جانے والی ٹرینوں کو آؤٹ سورس کرے گی۔ پاکستان ریلوے کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ 4 ٹرینوں کو پہلے ہی آؤٹ سورس کیا جاچکا ہے اور 8 مزید پائپ لائن میں ہیں اور اس کےلیے متعلقہ محکمہ کو تکنیکی اور مالی بولیاں موصول ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسافر ٹرینوں کے آؤٹ سورس ذریعے ہم نہ صرف بغیر ٹکٹ کے سفر کیے جانے کی عوام کی عادتوں کا خاتمہ ہوگا بلکہ اپنی آمدنی میں بھی اضافہ کریں گے۔ دوسرے ماڈل کے تحت پاکستان ریلویز نے اپنی ٹریک تک رسائی کی پالیسی متعارف کروائی ہے جس کے تحت نجی شعبے کو محکمے کے ساتھ مل کر ملک بھر میں ریل نیٹ ورک پر اپنے اپنے انجن، مسافر خانے اور سامان / مال بردار ٹرینوں کو لانے اور چلانے کی دعوت دی گئی ہے۔ تیسرے ماڈل کے تحت عہدیدار نے بتایا کہ فری ویگنز کی شدید قلت اور موجودہ ویگنز کی بحالی کی لاگت میں اضافے کے پیش نظر پاکستان ریلویز نے ’پروکیور، لیز اور ٹرانسفر‘ اور ’تعمیر، آپریٹ اور ٹرانسفر‘ طریقوں کو متعارف کرایا ہے۔ چوتھے ماڈل میں پاکستان ریلویز ورکشاپس پر توجہ دی گئی ہے جو بین الاقوامی کمپنیوں کو آؤٹ سورس کیا جائے گا۔ اس انتظام کے تحت اداروں کو کوچز اور ویگنز کی تیاری، انجنوں کی مرمت / بحالی اور ریلوے کو سپلائی میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہوگی۔ عہدیدار کا کہنا تھا کہ ‘وہ پاکستانی انجینئرز / کارکنوں کو ٹیکنالوجی کی منتقلی کے بھی ذمہ دار ہوں گے’۔
