ایک چارج میں 1ہزار کلومیٹر، نئی ’ریو‘ گاڑیوں نے دھوم کیسے مچائی؟

پاکستانی آٹو مارکیٹ میں ایک چارج کے ساتھ ایک ہزار کلومیٹر سے زائد چلنے کا دعویٰ کرنے والی نئی ’ریو‘ الیکٹرک گاڑیوں نے دھوم مچا دی ہے۔ ایک جانب ان گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی فروخت کو مستقبل کی ٹیکنالوجی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے تو دوسری طرف حکومت کی جانب سے ان گاڑیوں پر دی جانے والی ٹیکس چھوٹ نے مقامی آٹو صنعت میں ایک نیا تنازع چھیڑ دیا ہے۔ معاشی اور صنعتی حلقوں میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا پاکستانی مارکیٹ میں متعارف کرائی جانے والی ’ریو‘ گاڑیاں واقعی مکمل الیکٹرک ہیں یا دراصل ہائبرڈ ٹیکنالوجی کی ایک نئی شکل؟
خیال رہے کہ حال ہی میں پاکستانی کسٹمز کی کلاسیفیکیشن کمیٹی نے فیصلہ دیا کہ ’ریو‘ گاڑیوں کو الیکٹرک وہیکل کی کیٹیگری میں ہی شمار کیا جائے گا، جس کے بعد وہ ان تمام ٹیکس مراعات کی اہل قرار پائیں گی جو مکمل الیکٹرک گاڑیوں کے لیے مخصوص ہیں۔ تاہم آٹو انڈسٹری کے بعض حلقے اس فیصلے کو مارکیٹ میں عدم توازن کا باعث قرار دے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ چونکہ ان گاڑیوں میں ایندھن سے چلنے والا انجن بھی نصب ہوتا ہے، اس لیے انہیں ’زیرو ایمیشن‘ یا خالص الیکٹرک کہنا تکنیکی طور پر درست نہیں۔
واضح رہے کہ رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک وہیکل (REEV)Range-Extended Electric Vehicle بنیادی طور پر ایسی گاڑی کو کہا جاتا ہے جس کے پہیے صرف الیکٹرک بیٹریوں سے چلتے ہیں۔ تاہم اس میں ایک اندرونی انجن بھی موجود ہوتا ہے، مگر اس کا کردار گاڑی کو براہِ راست چلانا نہیں بلکہ بیٹری کو چارج کرنا ہوتا ہے۔ جب بیٹری ایک مخصوص سطح تک خالی ہو جاتی ہے تو انجن جنریٹر کے طور پر کام کرتے ہوئے اسے دوبارہ چارج کر دیتا ہے، یوں گاڑی کی مجموعی رینج بڑھ جاتی ہے۔ اس کے برعکس پلگ اِن ہائبرڈ گاڑی میں انجن پہیوں کو براہِ راست چلاتا ہے، جبکہ بیٹری محدود فاصلے تک گاڑی کو الیکٹرک موڈ پر چلا سکتی ہے۔ دونوں اقسام کی گاڑیوں میں فیول ٹینک اور ایندھن کے جلنے سے دھواں پیدا ہوتا ہے، یہی نکتہ موجودہ تنازع کی بنیاد بنا ہواہے۔
آٹو سیکٹر انڈسٹری ماہرین کے مطابق ملکی موجودہ آٹو پالیسی کے تحت مکمل طور پر بیٹری پر چلنے والی الیکٹرک گاڑیوں کو کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر محصولات میں نمایاں چھوٹ دی گئی ہے۔ درآمد شدہ کم پاور ای وی گاڑیوں پر نسبتاً کم کسٹمز ڈیوٹی اور جنرل سیلز ٹیکس عائد ہوتا ہے، جبکہ مقامی طور پر پرزہ جات کی صورت میں درآمد کر کے تیار کی جانے والی گاڑیوں کو مزید رعایتیں حاصل ہیں، جن میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے چھوٹ اور کم شرح جی ایس ٹی شامل ہے۔ کلاسیفیکیشن کمیٹی کے فیصلے کے بعد ’ریو‘ گاڑیاں بھی انہی مراعات کی مستحق قرار پائیں گی، حالانکہ ان میں کمبسچن انجن موجود ہوتا ہے۔ یہی پہلو مقامی صنعت کے لیے باعثِ تشویش بنا ہوا ہے۔
ان کمپنیوں کا خدشہ ہے کہ اگر ’ریو‘ گاڑیاں کم ڈیوٹی پر درآمد ہو کر بڑی تعداد میں مارکیٹ میں آئیں تو مقامی طور پر تیار کی جانے والی ہائبرڈ یا پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کے بقول ایک ہی نوعیت کی ٹیکنالوجی رکھنے والی گاڑیوں میں سے صرف ایک کو بھاری ٹیکس چھوٹ دینا مسابقتی ماحول کو متاثر کرے گا۔دوسری جانب درآمد کنندگان کا مؤقف ہے کہ چونکہ ’ریو‘ میں پہیے صرف بیٹری سے چلتے ہیں اور انجن براہِ راست ڈرائیو سسٹم کا حصہ نہیں بنتا، اس لیے اسے تکنیکی طور پر الیکٹرک گاڑی ہی سمجھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ ٹیکنالوجی اُن صارفین کے لیے موزوں ہے جو مکمل الیکٹرک گاڑی کی محدود رینج اور چارجنگ انفراسٹرکچر کی کمی کے باعث ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔
جوہری ہتھیار نہ بنانے پر آمادگی کے باوجود ایران پر حملہ کیا گیا،اسحاق ڈار
ماہرین کے بقول پاکستان میں مکمل الیکٹرک گاڑیوں کو اپنانے میں اب تک بنیادی رکاوٹ چارجنگ انفراسٹرکچر اور بیٹری رینج سے متعلق خدشات رہے ہیں۔ اگر ’ریو‘ گاڑیاں نسبتاً کم قیمت پر دستیاب ہوتی ہیں اور لمبی رینج فراہم کرتی ہیں تو ممکن ہے کہ وہ ایسے صارفین کو اپنی طرف متوجہ کریں جو مکمل ای وی خریدنے میں تذبذب کا شکار ہیں۔تاہم اس کے باوجودیہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا حکومت ریو گاڑیوں کو دی جانے والی ٹیکس چھوٹ کے فیصلے پر نظرِ ثانی کرے گی یا اسے نیو انرجی ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ایک عملی قدم کے طور پر برقرار رکھے گی؟ماہرین کے مطابق اس سوال کا جواب تو آنے والا وقت ہی بتائے گا تاہم فی الحال اتنا واضح ہے کہ ایک ہزار کلومیٹر رینج کا دعویٰ کرنے والی یہ نئی گاڑیاں صرف سڑکوں پر ہی نہیں، بلکہ پالیسی سازی کے ایوانوں میں بھی بحث کا مرکز بن چکی ہیں۔
