زائرین کی واپسی کا فیصلہ وفاقی حکومت کو کرنا ہے

وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ ایران میں اس وقت بھی 6 سے 8 ہزار تک پاکستانی موجود ہیں، انہیں پاکستان لانے کا فیصلہ وفاقی حکومت کرے گی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا ہے یورپ، چین، امریکا اور دیگر ممالک بھی بہت سوچنے کے بعد لاک ڈاون کرنے پر مجبور ہوئے۔ کورونا وائرس کا سیلف آئسولیشن کے سوا کوئی علاج نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے اسپتالوں میں سہولیات میں اضافہ کرکے دو سے ڈھائی ہزار افراد کے علاج کی گنجائش بنا رہے ہیں، کوئٹہ کے سرکاری اسپتالوں میں وینٹلی لیٹرز کی تعداد میں اضافہ کر دیا گیا ہے اور اب ہمارے پاس 70 سے 80 وینٹلی لیٹر ہوگئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ چین یا دیگر ممالک سے جو اشیاء یا آلات آ رہے ہیں وہ وفاقی حکومت کے پا س آئیں گے جو صوبوں میں این ڈی ایم اے کے ذریعے تقسیم ہوں گے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم نے صوبے کے اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے امدادی اشیاء کی تقسیم شروع کرا دی ہے، اگر صنعت کار کورونا کے سلسلے میں ہماری مدد کرنا چاہیں تو میکنیزم بنا دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button