زمینوں کی الاٹمنٹ: مشرف کا سکہ اب بھی چل رہا ہے

پنجاب حکومت نے فوجی افسران اور جوانوں کی بہبود کے لیے مختص زمینوں کا ایک بڑا حصہ سول سرکاری افسران میں تقسیم کرنے کی باضابطہ قانونی منظوری دی ہے جس پر ایک تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ زمین حاصل کرنے والوں کی لسٹ دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ سابق فوجی آمر جنرل مشرف کا سکہ آج بھی چل رہا ہے کیونکہ زیادہ تر خوش نصیب ماضی میں مشرف کے ساتھی رہے ہیں۔
یاد رہے کہ سابق فوجی آمر کو ملک کا آئین توڑنے کے جرم میں غدار وطن قرار دے کر سزائے موت سنائی جا چکی ہے لیکن وہ مفرور ہیں اور دبئی میں چھپے بیٹھے ہیں۔ لیکن ان کا سکہ اب بھی چل رہا ہے۔
یاد رہے کہ یہ زمینیں حاصل کرنے والے افسران کی الاٹمنٹس سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف نے قانونی اور اخلاقی اعتراضات لگنے کے بعد منسوخ کر دی تھی۔ تاہم وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی سربراہی میں پنجاب حکومت نے 30 اپریل 2020 کو کابینہ کے اجلاس میں ان سول سرکاری افسران و ملازمین کو اربوں روپے مالیت کی کم و بیش پونے آٹھ سو ایکڑ قطعہ اراضی کی الاٹمنٹ کی منظوری دے دی۔ پاک فوج کا محکمہ ایڈجوٹنٹ جنرل پہلے ہی ان الاٹمنٹس کی منظوری دے چکا تھا۔ معلوم ہوا ہے کہ پرویز مشرف اقتدار سے رخصت ہونے سے قبل ان افراد کو زمینوں کی الاٹمنٹ کی منظوری دے گئے تھے۔ مگر پنجاب میں سنہ 2008 کے عام انتخابات کے بعد شہباز شریف کی سربراہی میں بننے والی حکومت نے ان الاٹ شدہ زمینوں اور سرکاری حکام پر سوال اٹھا دیا تھا اور زمینوں کی الاٹمنٹ منسوخ کرتے ہوئے پاکستان فوج کے محکمہ ایڈجوٹنٹ جنرل کو خط بھی لکھ دیا تھا۔ اب پنجاب میں دوبارہ انھی افراد کو زمینوں کی الاٹمنٹ کردی گئی ہے جن کی منظوری مشرف دورمیں ایڈجوٹنٹ جنرل کی طرف سے عمل میں لائی گئی تھی۔
حکومت پاکستان مسلح افواج کو تربیت اور آپریشنل مقاصد کے لیے زمین گاہے بگاہے، فوجی ضروریات کے پیش نظر ملک کے مختلف علاقوں میں الاٹ کرتی رہتی ہے۔ یہ زمین باقاعدہ طور پر وفاقی حکومت الاٹ کرتی ہے اور اس الاٹمنٹ کو باضابطہ قانونی شکل دی جاتی ہے۔ ’اے ون لینڈز‘ کے نام سے الاٹ ہونے والی یہ زمین کسی بھی صورت میں فوج کی تربیت یا آپریشنل مقاصد کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کی جا سکتی۔ اے ون لینڈز کا تمام ریکارڈ وفاقی حکومت کے پاس بھی باقاعدہ محفوظ کیا جاتا ہے اور انھیں باضابطہ ’لیگل اتھارٹی‘ کی منظوری سے مشروط کیا جاتا ہے جو کہ کابینہ یا وزیراعظم ہوتے ہیں۔
دوسری قسم کی زمینیں جو مسلح افواج کو الاٹ کی جاتی ہیں وہ ان کی فلاحی سکیموں کی مد میں الاٹ کی جاتی ہیں۔ یہ زمینیں مسلح افواج کے ویلفیئر ٹرسٹ صوبائی حکومتوں سے ایک طے شدہ رقم ادا کر کے حاصل کرتی ہیں جو عام طور پر بہت معمولی رقم ہوتی ہے۔ مسلح افواج یہ زمینیں فلاحی سکیموں کے لیے استعمال کرتی ہیں جن میں کمرشل منصوبے بھی شامل ہوتے ہیں اور شہدا کے خاندانوں کی فلاح کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہیں۔ بنیادی طور پر یہ زمینیں استعمال کرنے کا پورا حق مسلح افواج کے پاس ہوتا ہے اور اس مقصد کے لیے انھیں صوبائی حکومتوں کی منظوری کی ضرورت نہیں ہوتی۔
ایک اور قسم کی زمینیں جو فوج کی ملکیت میں جاتی ہیں وہ اس کے رہائشی منصوبوں، جیسا کہ ڈی ایچ اے یا عسکری رہائشی منصوبوں میں استعمال ہوتی ہیں لیکن یہ زمینیں افوج کمرشل طریقے سے مارکیٹ سے خریدتی ہیں۔ لیکن اب جن زمینوں کی الاٹمنٹ پر تنازعہ کھڑا ہوا ہے وہ ریٹائر فوجی افسروں کو الاٹ کی جانے والی زرعی زمینیں ہیں جن کی قانونی حیثیت پر بھی سوالیہ نشان ہیں۔ یعنی بعض سرکاری افسران یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ جو زمین فوج نے سول افسران کو الاٹ کرنے کی سفارش کی تھی کیا ان زمینوں پر خود فوج کا کوئی قانونی حق تھا بھی یا نہیں؟ پاکستان کی بری فوج کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ الاٹمنٹ 13 سال پہلے خصوصی استثنی کے تحت کی گئی تھیں۔ انھوں نے تسلیم کیا کہ کسی قانون میں اس الاٹمنٹ کی گنجائش نہیں، اس کے باوجود سابق فوجی آمر مشرف کی ہدایت کی روشنی میں ’ون ٹائم‘ معاملے کے طور پر یہ زمینیں سول افسروں کے نام کرنے کی اجازت دی گئی تھی جن کی الاٹمنٹ شہباز شریف نے اعتراضات اٹھنے کے بعد منسوخ کردی تھی۔
پاکستان فوج کی طرف سے زمینوں کی الاٹمنٹ کا کام فوج کے شعبہ ایڈجوٹنٹ جنرل کے زیرانتظام ویلفئیر اینڈ ری ہیبلی ٹیشن ونگ کرتا ہے جو فوجی افسران اور شہدا کے خاندانوں کو زمینوں کی الاٹمنٹ کے کام کا اصل نگران بھی ہوتا ہے۔ لیکن اس شعبے کی طرف سے زمینوں کی الاٹمنٹ کا کوئی قانون یا پالیسی ابھی تک ریکارڈ پر نہیں لائی گئی۔ دراچل زمینوں کی الاٹمنٹ کا یہ معاملہ ملک کے پہلے فوجی آمر فیلڈ مارشل ایوب خان کے زمانے سے ریکارڈ پر موجود ہے۔
ایوب خان نے آرمی چیف اور پھر صدر بننے کے بعد فوج کے سینئر افسران کو زمینوں کی الاٹمنٹ کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ ابتدا میں تو قبل ازوقت ریٹائر ہونے والے افسران کو یہ زمینیں دی جاتی تھیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ معاملہ سینئر فوجی افسران تک پھیل گیا اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ فوج کو زمینوں کی الاٹمنٹ میں مدد اور معاونت فراہم کرنے والے سول سرکاری افسران کو بھی اس کا حصہ دیا جانے لگا۔ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے اور جنرل مشرف کے دور کی متنازعہ زمینوں کی الاٹمنٹ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ مشرف کے دور میں ان پلاٹوں کی تقسیم تاریخ میں سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
سابق صدر پر اپنے ساتھیوں کو قوانین سے ہٹ کر خصوصی طور پر پلاٹ تقسیم کرنے کا الزام بھی رہا اور اس سلسلے میں ایک سینئر افسر کو تو 80 سے زائد پلاٹ بھی ملے جس کے بارے میں سینئر وکیل اور پاکستانی فوج کے شعبہ ایڈجوٹنٹ جنرل سے ریٹائرڈ کرنل انعام الرحیم نے نیب سے بھی رجوع کیا تھا۔ تاہم تاحال اس پر کوئی پیشرفت سامنے نہیں آ سکی۔ جنرل پرویز مشرف کے بعد آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو بھی پالیسی کے مطابق زمین الاٹ کی گئی تاہم اس حوالے سے کوئی سکینڈل منظر عام پر نہ آیا لیکن جنرل راحیل شریف کو لاہور کے نواح میں 808 کنال قطعہ اراضی 16 دسمبر سنہ 2016 کو الاٹ کیا گیا۔ حیران کن بات یہ تھی کہ جنرل راحیل شریف کو انتہائی قیمتی قطعہ زمین کی الاٹمنٹ ریٹائرمنٹ سے قبل عمل میں آئی۔
پنجاب حکومت کی طرف سے زمینوں کی الاٹمنٹ کے حالیہ فیصلے کی روشنی میں یہ زمینیں پہلے فوج کو الاٹ کی گئیں اور فوج کی طرف سے یہ فوجی افسران یا شہدا کے اہلخانہ کے بجائے سول افسران کو الاٹ کی گئی ہیں جو اپنی نوعیت کی منفرد الاٹمنٹس ہیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ زمینوں کی الاٹمنٹ کا انعام پانے والوں میں سب سے اہم وفاقی سیکرٹری کابینہ احمد نواز سکھیرا اور موجودہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے پرسنل سٹاف آفیسر عامر کریم خان کے علاوہ پرویز مشرف کے باورچی محمد سکندر، انکے نائب قاصد محمود حسین، سابق قاصد نور حسین اور انکے مالی غلام رسول بھی شامل ہیں۔ حال ہی میں تعینات ہونے والے سیکرٹری کابینہ سردار احمد نواز سکھیرا کسی زمانے میں گورنر پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری تعینات تھے۔ اس فہرست میں بعض نام ایسے پٹواریوں اور دیگر افسران کے بھی ہیں جن کے بارے میں بعض انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق اس وقت کے فوجی صدر پرویز مشرف کی حامی سیاسی جماعت مسلم لیگ قاف سے تھا اور انھیں زمینیں الاٹ کرنے کا مقصد سنہ 2008 کے عام انتخابات میں ان کی سیاسی حمایت اور اس کے ذریعے دیہی علاقوں سے ووٹ حاصل کرنا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button