زندگی کی قید سے رہائی پانے والے قدیر خان گھر پر کیوں قید تھے؟


ملکی دفاع کی علامت اور جوہری بم کا خالق قرار دیے جانے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان پچھلے 17 برس سے اپنے گھر پر نظر بند تھے اور تب سے آزادی حاصل کرنے کے لیے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹا رہے تھے لیکن موت تک ان کی شنوائی نہ ہو سکی۔ ڈاکٹر خان کو مشرف دور میں دیگر ممالک کو جوہری ٹیکنالوجی بیچنے کے الزام میں جنوری 2004 میں گرفتار کر لیا گیا تھا اور ان کی نقل و حرکت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ پاکستانی عسکری اسٹیبلشمنٹ کا موقف تھا کہ ان کی نقل و حرکت کو انکی سکیورٹی کی خاطر محدود کیا گیا ہے کیونکہ ان کی جان کو خطرات لاحق ہیں۔ تاہم ڈاکٹر قدیر خان اس موقف سے اتفاق نہیں کرتے تھے اور اس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ تخ گے تھے جہاں انکی نظربندی ختم کرنے کی درخواست اب بھی زیرالتوا ہے۔ یوں ملک کو محفوظ بنانے والا پاکستانی جوہری پروگرام کا خالق جسمانی طور پر فنا ہو گیا لیکن اسے عدالت سے بھی انصاف نہیں مل پایا۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پرویز مشرف کے دور میں 2004 میں سرکاری ٹی وی پر ایک بیان میں جوہری پھیلاؤ میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا۔مشرف کا اقتدار ختم ہونے کے بعد قدیر خان نے یہ موقف اختیار کیا کہ انہوں نے وہ بیان مشرف کے دباؤ پر دیا تھا جس نے اپنی گردن بچانے کے لئے ان کی قربانی دینے کا فیصلہ کیا۔ انکا موقف تھا کہ کہ کسی فوجی سربراہ کی مرضی کے بغیر پاکستان سے جوہری ٹیکنالوجی تو کیا ایک چھوٹا سا پرزہ بھی دوسرے ملک نہیں بھیجا جا سکتا لہذا ان پر ایٹمی ٹیکنالوجی سمگل کرنے کا الزام سراسر جھوٹ اور بے بنیاد ہے۔ تاہم مشرف دور میں ڈاکٹر قدیر خان پر عائد ہونے والی پابندیاں ان کے جانے کے بعد بھی برقرار رہیں۔ وہ نہ تو خود اپنے کسی رشتہ دار اور دوست کو ملنے جا سکتے تھے اور نہ ہی باہر سے کسی کو ان کے گھر آ کر ملنے کی اجازت تھی۔ چنانچہ وہ بنی گالا میں اپنی اہلیہ کے ساتھ گھر پر نظر رہے اور ان پر عائد غیر اعلانیہ نظربندی ان کی وفات تک ختم نہ ہو پائی۔ اپنی زندگی میں لوگوں سے ملنے اور آزاد زندگی گزارنے کے لیے،جو کہ بنیادی انسانی حقوق کے زمرے میں آتے ہیں، ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے عدالتوں میں درخواستیں دیں لیکن سب بے سود ثابت ہوئیں۔

بی بی سی کے مطابق ڈاکٹر قدیر نے خود پر عائد غیر اعلانیہ نظر بندی کے خلاف آخری درخواست دو سال قبل 2019 میں دائر کی گئی تھی جس پر سپریم کورٹ دو سال سے فیصلہ ہی نہیں کر سکی۔ اس دوران ان کے وکلا کو بھی سکیورٹی کے نام پر ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔اس سے پہلے قدیر خان نے اپنی نظربندی کے خاتمے کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی لیکن عدالت نے یہ کہہ کر سماعت کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ اس درخواست کی سماعت کرنا ان کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔ جبری طور پر لاپتہ افراد کے مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اُنھوں نے کہا تھا کہ پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ وفاق نے دائر کیا تھا لیکن اُنھیں سزائے موت دینے والے بینچ کو غیر قانونی قرار دینے والی لاہور ہائی کورٹ نے قدیر خان کی درخواست کو یہ کہہ کر سننے سے انکار کر دیا کہ یہ ان کے دائرہ سماعت میں ہی نہیں آتا۔ قدیر خان کے وکلا شیخ احسن الدین اور توفیق آصف کے مطابق جب سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر ہوئی تب سے انکی وفات تک اس کی صرف پانچ سماعتیں ہوئی جبکہ کیس کی پہلی سماعت درخواست دائر کرنے کے 9 ماہ بعد ہوئی تھی۔

ایک سماعت کے دوران تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو سپریم کورٹ لایا گیا لیکن متعلقہ حکام نے انھیں کمرہ عدالت میں لے کر جانے کے بجائے اُنھیں سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس میں بٹھا دیا گیا اور پھر وہیں سے ہی اُنھیں ان کے گھر منتقل کر دیا گیا۔ جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے اس درخواست کی سماعت کی۔ وکلا نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ان کے مؤکل کو اگر کمرہ عدالت میں نہیں بلایا جاسکتا تو بینچ کے سربراہ انھیں اپنے چیمبر میں ہی سن لیں، تاہم عدالت نے ان کی استدعا پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

عدالت نے بہرحال اس وقت کے اٹارنی جنرل انور منصور خان کو ہدایت کی تھی کہ وہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے ان کے گھر پر جا کر ملاقات کر کے آئیں اور اُن سے پوچھیں کہ انھیں کن مشکلات کا سامنا ہے۔ عدالتی حکم پر تب کے اٹارنی جنرل نے قدیر خان سے ملاقات کی تھی جبکہ عدالت نے 24 جون 2020 میں ڈاکٹر خان کے وکلا کی اپنے مؤکل کے ساتھ ملاقات کرنے کی اجازت دی لیکن ان کی ان کے وکلا سے ملاقاتیں نہیں کروائی گئیں۔

کیس کی سماعت کے دوران ڈاکٹر قدیر کے وکلا نے اپنے مؤکل کے گھر کی تصویر کشی کرتے ہوئے عدات کو بتایا کہ جس جگہ ان کے مؤکل کو سکیورٹی کے نام پر قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اس سے بہت کم لوگوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر کوئی وہاں سے دو بار گزر جائے تو وہاں موجود سکیورٹی اہلکار اسے پکڑ لیتے ہیں اور تفتیش شروع کر دیتے ہیں کہ وہ کس مقصد کے لیے ادھر آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل کی عمر 85 سال سے زیادہ ہے اور انھیں اپنے رشتے داروں اور دوستوں سے ملنے کی ضرورت ہے لیکن انھیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

ایک سال کے بعد ڈاکٹر قدیر کی درخواست دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کی گئی۔ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے درخواست کی چوتھی سماعت کے دوران متعلقہ حکام سے ڈاکٹر حان سے پچھلی ملاقاتوں کا ریکارڈ طلب کیا تھا لیکن حکام کی طرف سے ایسا کوئی ریکارڈ عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ قدیر خان کے وکلا کی طرف سے ذمہ داروں کے خلاف عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے پر سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن عدالت نے متعلقہ حکام کو ایک ماہ میں دوبارہ رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ درخواست کی پانچویں اور آخری سماعت 15 ستمبر کو ہوئی جب قدیر خان ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ تاہم عدالت نے انکی نظربندی کا معاملہ مذید لٹکاتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی تھی۔ تاہم اپنے کیس کا فیصلہ سننے کی آس لئے ڈاکٹر قدیر خان 9 اکتوبر 2021 کے روز اس جہان فانی سے رخصت ہو گے۔

Back to top button