وزیر اعظم نے تمام اداروں کومتنازع کرنے کی قسم کھا رکھی ہے

پیپلز پارٹی کے رہنما اور صوبائی وزیر تعلیم سید غنی نے کہا ہے کہ پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے لیکن وزیراعظم عمران خان نے قسم اٹھائی ہے کہ میں کسی ادارے کو غیر متنازع رہنے نہیں دوں گا۔
کراچی میں پی پی پی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران سید غنی نے کہا کہ آئی ایس پی آر کے ترجمان متعدد مرتبہ بیان دے چکے ہیں کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن وزیراعظم مسلسل اصرار کرتے ہیں کہ ‘نہیں تمھارا سیاست سے تعلق ہے’۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک میں کورونا وبا کی کمی کے بعد تمام معاشی سرگرمیاں بحال ہوچکی ہیں اور تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں اپنی سرگرمیاں کررہی ہیں تو صرف اپوزیشن کے جلسوں پر اعتراض مناسب نہیں ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ ‘پیپلزپارٹی کے جلسے میں لاکھوں شرکا شریک ہوں گے اور ہم نے لاکھوں ماسک کی تقسیم کا بھی انتظام کیا ہے’۔
سید غنی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حالیہ ریلی میں شرکا سمیت رہنماؤں نے ماسک پہنے تھے جبکہ میں نے خود ایک رپورٹر کو ماسک پیش کرکے پہننے کی درخواست کی تھی۔ایک سوال کے جواب میں وزیر تعلیم نے کہا کہ ‘بول نیوز کے صدر اور ان کے ساتھی لاپتہ یا اغوا ہوئے ہیں ہم اس کی پر زور مذمت کرتے ہیں، سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اغوا شدہ افراد کو بازیاب کرائیں اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائیں’۔سید غنی نے کہا کہ ‘اس دور حکومت میں میڈیا پر عائد قدغن سابق صدر (ر) جنرل پرویز مشرف اور ضیاالحق کے دور میں بھی نہیں لگی ہوگی، جو سیاسی جماعت ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا کی پیداوار ہے وہ ٹک ٹاک پر پابندی لگارہی ہے’۔
کراچی میں گیس کے بحران سے متعلق سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ بلاشبہ سندھ میں گیس کا بحران شدت اختیار کرگیا ہے اور حال ہی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فردوس شمیم نقوی نے کراچی کی نمائندگی کرتے ہوئے وزیراعظم اور وفاقی وزرا پر زبردست تنقید بھی کی۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت اس وقت بوکھلاہٹ کا شکار ہے، شبلی فراز شہباز گل بناگیا اور شہباز گل شبلی فراز بن گیا ہے، کسی کو کچھ نہیں معلوم کہ کیا کرنا ہے۔
خیال رہے کہ 30 ستمبر کو پی ٹی آئی کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اپنے ویڈیو بیان میں فردوس شمیم نقوی نے کہا تھا کہ ‘جس دن میں نے ایس ایس جی سی سے متعلق بیان دیا تھا، میں نے اخلاقی طور پر معذرت کی تھی اور ساتھ ہی وزیر اعظم عمران خان کو اپنا استعفیٰ بھی بھیج دیا تھا’۔انہوں نے کہا کہ ‘میرا استعفیٰ اس وقت پارٹی چیئرمین کے پاس ہے جسے منظور کرنا یا نہ کرنا ان کی مرضی ہے، لیکن میں نے اپنی غلطی کا احساس کرتے ہوئے اپنا استعفیٰ انہیں بھیجا تھا’۔
واضح رہے کہ 18 ستمبر کو فردوس شمیم نقوی نے کراچی میں گیس بحران پر اپنی ہی حکومت پر شدید تنقید کی تھی اور ساتھ ہی وزیراعظم عمران خان اور وزیر توانائی عمر ایوب کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔بعد ازاں ٹوئٹ میں انہوں نے اپنے بیان پر تمام پی ٹی آئی کارکنان سے معذرت کی تھی۔