سائرہ اور شہروز کی جھٹ شادی اور پٹ طلاق کی کہانی

"سائروز” کے نام سے شروع ہونے والا آٹھ سالوں پر محیط محبتوں کا ایک اور سفر اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ سوشل میڈیا کے ذریعے شوبز انڈسٹری سے منسلک شہروز سبزواری اور سائرہ یوسف نے نہ صرف اپنی طلاق کی خبر کی تصدیق کر دی بلکہ لوگوں سے یہ اپیل بھی کی ہے کہ وہ ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں قیاس آرائیوں سے گریز کریں۔
دراصل اسی سوشل میڈیا پرگذشتہ کئی ماہ سے دونوں میں اَن بَن کی خبریں گردش کر رہی تھیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ شہروز چند ماہ سے ایک ماڈل صدف کنول کے ساتھ دیکھے جارہے تھے، جو سائرہ جیسی انڈیپنڈنٹ اور بولڈ لڑکی کی برداشت سے باہر تھا۔۔ دوسری طرف یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سائرہ شادی کے وقت ہی کافی آزاد خیال تھیں اور انھیں اپنی زندگی میں سسر کی بےجا مداخلت پسند نہیں تھی لہذا انہوں نے ایک پابند ماحول میں اپنی بقیہ زندگی گزارنے سے بہتر یہی سمجھا کہ طلاق لے لیں اور اپنے مستقبل کے سہانے خواب پورے کریں۔ بہرحال جتنے منہ اتنی باتیں۔ سچ کیا ہے یہ تو سائرہ اور شہروز ہی بہتر جانتے ہیں۔
دونوں شوبز ورلڈ میں انتہائی خوبصورت رومانوی جوڑے کی حیثیت سے جانے جاتے تھے لیکن دونوں میں "انسٹنٹ” محبت، شادی، اختلافات اور اب طلاق کی خبروں سے ان کے مداحوں کے ساتھ ساتھ شوبز کی دنیا میں بھی اداسی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ دونوں نے ایک ہی دن، کم و بیش ایک ہی جیسے پیغامات کے ذریعے بتایا کہ ان کے درمیان باقاعدہ طور پر طلاق ہوگئی ہے۔۔۔ لہٰذا غلط قسم کی افواہیں یا معلومات پھیلانے سے گریز کیا جائے۔ سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی پوسٹ میں انھوں نے طلاق کی کوئی خاص وجہ نہیں بتائی تاہم دونوں نے اعتراف کیا کہ یہ ایک مشکل فیصلہ تھا۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ وہ اپنے اس فیصلے کا اثر اپنی اکلوتی بیٹی پر نہیں پڑنے دیں گے بلکہ کوشش کریں گے کہ بہترین والدین کا کردار نبھا سکیں جبکہ نورے فی الحال سائرہ کے ساتھ رہے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دونوں اپنی آئندہ زندگی کس طرح پلان کرتے ہیں کہ ان کی بیٹی ماں اور باپ دونوں سے جڑی رہے۔ ویسے تو دونوں کی فیلڈ ایک ہی ہے، اور تو اور دونوں کے دوست بھی مشترکہ ہیں۔
جہاں تک ان کے سٹارڈم کا تعلق ہے تو شہروز اپنے والد بہروز کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شوبز میں آئے جبکہ سائرہ، جو کبھی "سائروز” کہلاتی تھیں، اپنی بڑی بہن علیشباہ کی دیکھا دیکھی اس فیلڈ میں آئی تھیں مگر آتے ہی انھیں "میرا نصیب” جیسی بلاک بسٹر سیریل کیا ملی، وہ راتوں رات سٹار بن گیئں۔ ادھر سائرہ جلد ہی کراچی کے سوشل سرکل میں بھی پہچانی جانے لگیں۔ کہتے ہیں سائرہ اور شہروز کی ملاقات بھی ایک پارٹی میں ہی ہوئی تھی۔ شہروز کا تعلق اگرچہ ایک دینی گھرانے سے ہے لیکن اپنے والد بہروز سبزواری کے برعکس سائرہ کی طرح وہ بھی کافی آزاد خیال تھے۔ جب شہروز نے اپنے والدین کو بتایا کہ وہ سائرہ کو اپنانا چاہتے ہیں تو بہروز بظاہر بہت خوش تھے، ویسے بھی شہروز ان کی اکلوتی اولاد ہیں، تاہم کہیں نہ کہیں انھیں یہ دھڑکا ضرور تھا کہ سائرہ ان کے گھرانے کے طور طریقے نہیں اپنا سکے گی۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ شادی کے ابتدائی سالوں میں دونوں کی "لو کیمسٹری” انتہائی شاندار تھی۔ وہ جہاں جاتے، میڈیا کی توجہ کا مرکز بن جاتے۔ یہ 2014 کی بات ہے جب ان کی زندگی میں نورے بیٹی کو صورت میں آئی۔ نورے کی پیدائش کے کچھ عرصہ بعد سائرہ نے شوبز دوبارہ جوائن کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ کہتے ہیں کہ جیسے ہی سائرہ نے ماڈلنگ اور ایکٹنگ کی دنیا میں قدم رکھا، دونوں کے درمیان ہلکی پھلکی بحث ہونے لگی تھی۔ سبزواری فیملی کے قریبی لوگ تو یہاں تک کہنے لگے کہ دونوں کے درمیان اختلافات کے پیچھے بہروز یعنی سائرہ کے سسر کا بھی ہاتھ ہے جو اب سائرہ کو ان کے بولڈ لائف سٹائل کی وجہ سے ٹوکنے لگے تھے۔ سائرہ کو یہ روک ٹوک پسند نہیں تھی، یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر شہروز سے الجھ جاتیں۔ کراچی کا میڈیا اور شوبز کے لوگ تو یہ کھنچاؤ کافی عرصے سے محسوس کر رہے تھے۔ سائرہ کسی صورت شہروز کے ساتھ رہنے پر آمادہ نظر نہیں آ رہی تھیں، چنانچہ دونوں نے باہمی رضامندی سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا اور یوں محبت کی ایک اور کہانی اپنے انجام کو پہنچ گئی۔
شہروز کے والد بہروز ہی نہیں بلکہ ان کی والدہ سفینہ بہروز بھی، جو لالی ووڈ سٹار جاوید شیخ کی بہن ہیں، چاہتی تھیں کہ ان کے لاڈلے بیٹے کا گھر ٹوٹنے سے بچ جائے لیکن ہونی کو کون روک سکا ہے۔ سوشل میڈیا ہی پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے انھوں نے اپنے جذبات کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے "جب سمجھ نہ آئے کہ ہماری زندگی کے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے تو اپنی آنکھیں بند کر لیں، گہرے لمبے سانس لیں اور اللہ سے دعا کریں کہ تیری مصلحتیں تو ہی جانتا ہے، تو بس ہمیں اس مشکل گھڑی سے نکلنے کی ہمت عطا کر”۔
