سائفر کیس میں بریت کے باوجود عمران کی رہائی کیوں ممکن نہیں

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سائفر کیس میں بری کیے جانے کے باوجود سابق وزیراعظم عمران خان کی فوری رہائی ممکن نہیں چونکہ اس وقت ان کے خلاف 180 سے زائد مقدمات درج ہیں۔ بانی پی ٹی آئی اسلام آباد میں اپنے خلاف درج 10 مقدمات میں بری ہو چکے ہیں، لیکن انکی فوری رہائی ابھی اس لیے ممکن نہیں کہ انہیں عدت میں نکاح کیس میں سات سال قید کی سزا ہو چکی یے۔ عدت کے دوران نکاح کا مقدمہ ایڈیشنل سیشن جج شاہ رخ ارجمند کی طرف سے کسی دوسری عدالت میں منتقل کرنے سے متعلق دائر درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے یہ کیس ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل مجوکا کی عدالت میں بھیج دیا ہے، قانونی ماہرین کے مطابق نئے جج از سر نو اس مقدمے کی سماعت کریں گے جس میں کافی وقت لگ سکتا یے لہذا تب تک بانی پی ٹی ائی اڈیالہ جیل میں ہی قید رہیں گے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے 3 جون کو سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے ان کی سزائیں کالعدم قرار دیا دی تھیں۔ اس کیس کا آغاز 27 مارچ 2022 کو اسلام آباد میں عمران کی جانب سے ایک جلسے کے دوران ’سائفر‘ لہرانے سے شروع ہوا تھا۔ تاہم حکومتی ذرائع بتاتے ہیں کہ اسلام اباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے اس سال جنوری میں سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو دس دس سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی ڈویژن بینچ نے جب دونوں ملزمان کی اپیلوں پر فیصلہ سنایا تو عدالت میں عمران خان کی دونوں بہنوں کے علاوہ شاہ محمود قریشی کی اہلیہ، ان کی بیٹیاں اور پی ٹی آئی کے متعدد رہنما بھی موجود تھے۔ وفاقی حکومت کے ترجمان برائے قانونی امور بیرسٹر عقیل ملک نے فیصلے پر سخت رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ایک راستہ کھل گیا ہے کہ ’کل کوئی بھی مفاد پرست اپنے ذاتی مقاصد کے لیے خفیہ سرکاری دستاویزات کو پبلک کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت کی جانب سے ’قومی سلامتی کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا تو بہتر ہوتا‘ مگر ان اِس فیصلے کو چیلنج کیا جائے گا۔
یاد ریے کہ عمران خان کو حزب اختلاف کی جانب سے پیش کردہ تحریک عدمِ اعتماد کے ذریعے 10 اپریل 2022 کو وزارتِ اعظمیٰ کے منصب سے ہٹایا گیا تھا۔ اس سے تقریباً دو ہفتوں قبل 27 مارچ کو عمران خان نے اسلام آباد میں ایک جلسے کے دوران اپنے حامیوں کے سامنے ایک کاغذ لہراتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ یہ وہ ’سائفر‘ ہے جس میں درج ہے کہ انھیں اقتدار سے نکالنے کے لیے کس طرح امریکہ میں سازش تیار کی گئی۔ یہ اور بات کے بعد میں عمران اپنے اس دعوے سے مکر گئے۔ عمران خان یہ بھی بھول گے کہ انہوں نے اپنی تقریر میں دعویٰ کیا کہ امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری ڈونلڈ لو نے امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر اسد مجید خان سے کہا ہے کہ ’اگر عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو وہ پاکستان کو معاف کر دیں گے۔ عمران کا اصرار تھا کہ ڈونلڈ لو اس امریکی سازش کا حصہ ہیں جس کا مقصد اُن کی حکومت کو ہٹانا تھا۔ تاہم امریکی دفتر خارجہ نے ان تمام الزامات کی تردید کی تھی۔
عمران خان ماضی میں متعدد مرتبہ سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ کو اس ’سازش‘ کا مرکزی کردار قرار دے چکے ہیں۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن 5 اور 9 کے تحت کیس درج کیا تھا جس کے بعد آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت تحقیقات کا حکم سابق وزیراعظم شہباز شریف کی اتحادی حکومت نے 19 جولائی 2023 کو دیا تھا اور 29 اگست 2023 کو سائفر کیس میں عمران خان کی گرفتاری ڈال دی گئی تھی۔
عمران پر بنیادی الزام یہ تھا کہ انھوں نے سیاسی فائدے کے لیے ایک حساس سفارتی دستاویز کا استعمال کیا۔ تب کی حکومت کا کہنا تھا کہ سائفر کو سیکرٹ ایکٹ کے تحت پبلک نہیں کیا جا سکتا ہے مگر عمران نے اس سائفر کو منٹس اور تجزیے میں تبدیل کیا اور اس کے ساتھ ’کھلواڑ‘ کیا۔ بعد ازاں ایک انٹرویو کے دوران عمران نے اعتراف کیا تھا کہ ان کو بھیجی گئی سائفر کی کاپی ’غائب‘ ہو چکی ہے۔ عمران اور ان کی قانونی ٹیم کا اس حوالے سے موقف ہے کہ سائفر کی حفاظت کی ذمہ داری ان کے آفس کے عملے کی تھی نہ کہ خود عمران خان کی۔
خصوصی عدالت نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی پر سائفر کیس میں فرد جرم 13 دسمبر 2023 کو عائد کی تھی جس کے بعد سے اس کیس پر سماعت لگ بھگ روزانہ کی بنیاد پر جاری تھی۔ اس کیس میں استغاثہ نے مجموعی طور پر 25 گواہان کو عدالت کے روبرو پیش کیا جن میں عمران کے سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان اور امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر اسد مجید بھی شامل تھے۔
