سابق اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سےغیر مشروط معافی مانگ لی

سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان نے سپریم کورٹ کے ججز کے خلاف دئیے گئے بیان پر عدالت عظمیٰ سے غیر مشروط معافی مانگ لی ہے۔
سابق اٹارنی جنرل انور منصور کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں انور منصور خان نے کہا کہ’سپریم کورٹ میں 18 فروری کو دیا گیا بیان واپس لیتا ہوں اور اس پر غیر مشروط معافی مانگتا ہوں‘۔ بیان کے مطابق انور منصور خان نے کہا کہ ‘عدلیہ کا بے حد احترام کرتا ہوں اور عدلیہ کے عزت اور وقار کے بارے میں منفی بیان کا سوچ بھی نہیں سکتا۔‘
خیال رہے کہ 20 فروری کے روز سپریم کورٹ میں ‘متنازع بیان’ دینے کے بعد انور منصور خان نے اٹارنی جنرل فار پاکستان کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو ارسال کردہ استعفے میں انہوں نے کہا کہ ’میں انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہہ رہا ہوں کہ پاکستان بار کونسل جس کا میں چیئرمین ہوں، نے 19 فروری 2020 کو ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ میں اٹارنی جنرل فار پاکستان کے عہدے سے استعفٰی دے دوں‘۔
دوسری جانب اٹارنی جنرل کے بیان پر وفاقی حکومت کی طرف سے محکمہ قانون و انصاف کے سیکریٹری محمد خشیش الرحمٰن نے عدالت عظمیٰ میں جمع کروائے گئے جواب میں کہا تھا کہ 18 فروری 2020 کو اٹارنی جنرل انور منصور خان نے مذکورہ بینچ کے سامنے زبانی بیان دیا جو غیر مجاز اور وفاق حکومت کی ہدایت اور علم میں لائے بغیر تھا اور جواب دہندگان اسے مکمل طور پر بلاجواز سمجھتے ہیں۔ ساتھ ہی اس بات کی نشاندہی کی گئی تھی کہ وفاقی حکومت اور جواب دہندگان پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کی انتہائی عزت و احترام کرتے ہیں، لہٰذا وفاقی حکومت اور جواب دہندہ خود اٹارنی جنرل کے مذکورہ بیان سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ وفاقی حکومت اور جواب دہندگان قانون، آئین کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔
