سابق وزرا دوبارہ اقتدار کی امید پر گھر خالی کرنے سے انکاری


عمران خان حکومت کے خاتمے اور نئی وفاقی کابینہ تشکیل پا جانے کے باوجود تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے کچھ سابق وفاقی وزراء ایسے بھی ہیں جو دوبارہ برسراقتدار آنے کی امید پر اپنے سرکاری گھر خالی کرنے سے انکاری ہیں۔

پاکستان میں جاری سیاسی ہنگامہ خیزی کے دوران تحریک انصاف کے اراکین کی جانب سے قومی اسمبلی سے استعفوں کے اعلان اور نئی وفاقی کابینہ کی تشکیل کے بعد بھی چند سابق وزرا کی جانب سے سرکاری مراعات کا استعمال سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے۔ ان مراعات میں ایک اہم معاملہ ان سرکاری رہائش گاہوں کا ہے جو ہر نئی آنے والی حکومت کی جانب سے وزرا اور اہم شخصیات کو اسلام آباد کے منسٹرز انکلیو میں الاٹ کی جاتی ہیں۔ چند روز پہلے سابق وفاقی وزیر اطلاعات اور رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری نے مقامی میڈیا سے گفتگو میں تسلیم کیا تھا کہ سابق وزرا اور مشیروں نے ابھی تک سرکاری گھر خالی نہیں کیے۔

ان کا موقف تھا کہ ہم حکومتی گھروں اور گاڑیوں کو چوروں کے حوالے نہیں کرنا چاہتے۔ پی ٹی آئی اور موجود حکومت کا میڈیا آفس یہ تصدیق کرنے سے گریزاں ہے کہ سابق حکومت کے کتنے وزرا یا مشیر منسٹرز انکلیو میں گھر خالی نہیں کر رہے اور ایسا کرنے کی وجہ کیا ہے۔

بی بی سی کی تحقیقات کے مطابق سابق وزیر دفاع پرویز خٹک، سابق وزیر مذہبی امور نور الحق قادری اور سابق وفاقی وزیر فہمیدہ مرزا اب تک منسٹر انکلیو میں سرکاری رہائش گاہوں کا استعمال کر رہے ہیں جب کہ چند سابق وزرا نے اس سوال پر جواب نہیں دیا۔ اسلام آباد کے سیکٹر ایف فائیو میں خیبر پختونخوا ہاؤس کے ساتھ ہی منسٹرز انکلیو ہے۔ ریڈ زون میں واقع اس جگہ پر 37 گھر اور چھ اپارٹمنٹس ہیں۔ تمام سہولیات سے آراستہ یہ رہائش گاہیں وزرا اور حکومتی مشیروں کے لیے مختص ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ اہم حکومتی شخصیات جیسے کہ اٹارنی جنرل اور چیئرمین نیب کو بھی یہیں رہائش کے لیے جگہ دی جاتی ہے۔ منسٹر انکلیو کے داخلی دروازے پر لگی تختی پر سنگ بنیاد کی تاریخ 16 اپریل سنہ 1990 ہے جہاں بغیر شناخت اور پہلے سے لی گئی اجازت کے بغیر سیکیورٹی اہلکار آپ کو اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتے۔

منسٹر انکلیو کی سکیورٹی پر مامور ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ منسٹر انکلیو لگ بھگ ایک کلومیٹر تک کا علاقہ بنتا ہے۔ایک حکومتی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ رہائش گاہیں مختلف سائز پر مشتمل ہیں جن میں ایک کنال یا اس سے زیادہ کا رقبہ شامل ہوتا ہے۔

تحریک انصاف حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد سابق وفاقی کابینہ بھی قانونی طور پر تحلیل ہو گئی جس کے نتیجے میں وفاقی وزرا منسٹر انکلیو کی ان رہائش گاہوں سے بھی قانون و قائدے کے مطابق محروم ہوئے جو ان کو الاٹ کی گئی تھیں۔ اب ان رہائش گاہوں کو وزیر اعظم شہباز شریف کی نئی کابینہ کے وزرا کو الاٹ کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے جس کے راستے میں ایک رکاوٹ چند سرکاری رہائش گاہوں کا اب تک خالی نہ ہونا ہے۔ سابق وزیر فہمیدہ مرزا نے تصدیق کی کہ وہ ابھی منسٹرز انکیلو میں ہی رہ رہی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے اب تک استعفی نہیں دیا اور سابق سپیکر کی حیثیت سے اور ایسے وقت میں جب میں صحت کے حوالے سے بھی مشکل صورتحال سے دوچار ہوں، مجھے ایک محفوظ اور باعزت رہائش گاہ چاہیے۔‘
فہمیدہ مرزا کے مطابق اس معاملے میں انھوں نے سپیکر قومی اسمبلی سے بھی رابطہ کیا ہے۔ تاہم فہمیدہ مرزا نے یہ بھی کہا کہ ’اس بات کی بھی تحقیق ہونی چاہیے کہ ایک ایک منسٹر کے پاس لاجز میں کتنے اپارٹمنٹس ہیں اور کیا نئی کابینہ کے وزیروں نے انھیں خالی کر دیا ہے۔‘

متعلقہ حکام سے منسٹر انکلیو میں سابق وزرا کی جانب سے گھر خالی نہ کرنے کی معلومات کی فراہمی نا ہونے پر منسٹر انکلیو کی سکیورٹی سے منسلک ایک اہلکار سے بات کی۔ انھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کے علاوہ پرویز خٹک، نور الحق قادری، فواد چوہدری، حماد اظہر اور عثمان ڈار نے اب تک منسٹر انکلیو میں سرکاری رہائش گاہ باضابطہ طور پر خالی نہیں کی۔ حماد اظہر سے رابطہ کیا تو انھوں نے جواب دیا کہ اب ان کے پاس اسلام آباد میں اپنا اپارٹمنٹ ہے اور وہ منسٹر انکلیو میں نہیں رہتے۔ دوسری جانب نورالحق قادری، جو کہ سابق دور میں مذہبی امور کے وزیر تھے، نے تاحال گھر خالی نہیں کیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ‘میں بیرونِ ملک تھا، اب وطن لوٹ آیا ہوں اور چند ہی روز میں مکان خالی کر دوں گا۔’

سابق وزیر دفاع پرویز خٹک نے اس معاملے پر کہا ہے کہ ’سرکاری رہائش گاہ چھوڑ کر انھوں نے جس گھر میں منتقل ہونا ہے، وہ 25 مئی کو خالی ہوگا، اُس وقت موجودہ رہائش گاہ چھوڑ دوں گا۔‘ انھوں میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’جب میں وزیر بنا تھا، سرتاج عزیز کا گھر خالی ہونے کے لیے میں نے 4 ماہ تک انتظار کیا تھا۔‘
دوسری جانب جے یو آئی ایف سے تعلق رکھنے والے مولانا عبدالواسع جو اس وقت وزیر برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس ہیں گذشتہ ماہ کی 19 تاریخ سے منسٹر انکلیو میں اس مکان کے خالی ہونے کے منتظر ہیں جو کہ وزیرِ دفاع پرویز خٹک کے پاس ہے۔ انھوں نے بتایا کہ پرویز خٹک نے مولانا فضل الرحمان سے درخواست کر کے ایک ہفتے کی مہلت مانگی ہے۔
مولانا عبدالواسع نے کہا کہ ’ایک طرف رویز خٹک کہہ رہے ہیں کہ ہم نے استعفیٰ دے دیا ہے، لیکن وہ گھر نہیں چھوڑ رہے۔ پھر مولانا صاحب سے درخواست کی تھی کہ ایک ہفتے کے لیے چھوڑ دیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’پرویز خٹک نے بار بار متعلقہ ڈیپارٹمنٹ سے رابطہ کیا، یہ ان کے شایان شان نہیں وہ کھرب پتی آدمی ہیں، کیا ان کے پاس اسلام آباد میں اپنی رہاش گاہ نہیں ہو گی۔‘

سیکیورٹی ذرائع نے گفتگو میں اس بات کی تصدیق کی کہ ماسوائے پرویز خٹک کا مکان خالی کروانے کے اب تک کسی بھی اور سابق وزیر یا مشیر کے گھر پولیس، سٹیٹ آفس اور انتظامیہ کے اہلکار نہیں گئے۔ سٹیٹ آفس کے محکمے کے ایک انسپکٹر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان رہائش گاہوں میں عام طور پر تمام سامان ہی حکومتی ملکیت کا ہوتا ہے جب رہائش گاہ خالی کروانی ہوتی ہے تو ہم بس مکان تحویل میں لے کر ہاؤسنگ کے حوالے کرتے ہیں جو ان کی اگلے وزرا کو الاٹمنٹ کر دیتے ہیں۔ً اسٹیٹ آفس اسلام آباد جو کہ وزارت ہاؤسنگ اور ورکس کے ماتحت ہے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ گھر خالی کرنے کی مدت ایک ہفتے سے 15 دن تک ہوتی ہے۔

Back to top button