سانحہ ساہیوال کے ملزم کو سزا کی بجائے تمغہ مل گیا


کپتان حکومت نے سانحہ ساہیوال میں ایک بے گناہ خاندان کے بہیمانہ قتل میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے اس قتل عام میں ملوث معطل شدہ مرکزی ملزم ایس ایس پی جواد قمر کو ستارہ شجاعت سے نواز دیا ہے۔ اس پولیس افسر کا تعلق کاونٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ سے ہے جس کی نگرانی میں ساہیوال میں ایک بے گناۂ خاندان کو گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔ یاد رہے کہ اس سانحے میں صرف دو معصوم بچوں کی زندگی بچ پائی تھی۔ بعد ازاں مقتولین کے گھر والوں پر دباؤ ڈال قتل عام میں ملوث تمام پولیس افسران کو معافی دلوا کر بری کر دیا گیا تھا۔ تاہم مذکورہ پولیس افسر جواد قمر ابھی تک معطل ہے۔ یوں تحریک انصاف کے دور حکومت میں اس خاندان کو بھی انصاف نہ مل سکا اور پانچ بے گناہوں کا خون رائیگاں گیا۔
پاکستان کی تاریخ میں جب بھی ریاستی ظلم کی انتہا گنوائی جائے گی تو سانحہ ساہیوال لوگوں کے ذہنوں میں ضرور آئے گا۔ یہ وہ سانحہ ہے جس میں معصوم بچوں کے سامنے ان کے والدین کو قتل کر دیا گیا تھا۔ بچوں کے سامنے ان کے والدین پر گولیاں برسانے کی ویڈیو پوری قوم نے دیکھی۔ یاد رہے کیلہ کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے ایس ایس پی جواد قمر پر سانحہ ساہیوال میں ملوث ہونے کا الزام ہے لیکن اسے 23 مارچ کو یوم پاکستان کے موقع پر غیر معمولی ہمت اور جرأت کا مظاہرہ کرنے پر ستارہ شجاعت سے نوازا گیا، یہ شجاعت اور بہادری کے اعتراف میں دیا جانے والا دوسرا اعلی ترین قومی اعزاز ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک معصوم خاندان کو گولیوں سے بھون کر اس ایس ایس پی نے کس جرات اور شجاعت کا مظاہرہ کیا تھا۔ جن 24 افراد کو ستاری شجاعت کا اعزاز دیا گیا، ایس ایس پی ان میں سے چار زندہ شخصیات میں سے ایک ہیں، آئی ایس آئی کے ایک ڈپٹی ڈائریکٹر کو بھی اسی ستارہ شجاعت سے نوازا گیا، جو یہ اعزاز حاصل کرنے والے اس ایجنسی کے پہلے افسر ہیں۔
ستارہ شجاعت حاصل کرنے والے 20 مرحومین میں سے اکثریت ان ڈاکٹرز کی ہے جنہوں نے کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں اپنے ہم وطنوں کی زندگیاں بچاتے ہوئے جانیں قربان کیں۔ جہاں تک ایس ایس پی جواد قمر کا تعلق ہے، وہ جنوری 2019 کو ساہیوال میں فائرنگ کے واقعے میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر معطل ہے، اس سانحے میں محمد خلیل، ان کی اہلیہ اور 3 بچوں کو گولیاں لگیں وہ اپنے پڑوسی ذیشان جاوید کے ساتھ کار میں جا رہے تھے، جب کاؤنٹر ٹیررزم ڈپارٹمنٹ کے اہلکاروں نے ان پر دہشت گرد ہونے کے شبے میں ان کی گاڑی کو روک کر فائرنگ شروع کردی، اس واقعہ میں خلیل کے دو بچے بچ گئے۔ اس سانحہ پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا، ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
اس واقعے کے وقت وزیراعظم بیرون ملک موجود تھے، عوام کے شدید ردعمل پر انہوں نے کہا تھا کہ میں قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ قطر سے واپسی پر نہ صرف یہ کہ اس واقعے کے ذمہ داروں کو عبرت ناک سزا دی جائے گی بلکہ میں پنجاب پولیس کے پورے ڈھانچے کا جائزہ لوں گا اور اس کی اصلاح کا آغاز کروں گا۔
حکومت پنجاب نے سی ٹی ڈی کو اس قتل عام کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے محکمے کے سینئر افسران کو عہدے سے ہٹادیا تھا، جب کہ سی ٹی ڈی کے تین اعلیٰ افسران کو وفاقی حکومت رپورٹ کرنے کا کہا گیا، ایس ایس پی جواد قمر اور ڈی ایس پی معطل ہوئے، جبکہ فائرنگ کرنے والے پانچ اہلکاروں کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ درج ہوا، سانحہ ساہیوال کے بعد جہاں مبینہ طور پر مجرمانہ غفلت کے مرتکب ایس ایس پی جواد قمر کو ستارہ شجاعت سے نوازا گیا۔
یاد رہے کہ سانحہ ساہیوال میں ملوث تمام پولیس افسران کو اکتوبر 2019 میں بری کر دیا گیا تھا۔ استغاثہ کے سرکاری وکیل عبدالرؤف وٹو کے مطابق اس مقدمے میں استغاثہ کی طرف سے 26 گواہ پیش کیے گئے تھے لیکن پیروی کے دوران ’وہ تمام کے تمام گواہ ہی بدل گئے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’گواہان ہی عدالت کے کان اور آنکھیں ہوتے ہیں۔ اگر وہ ہی بدل جائیں تو استغاثہ کیا کر سکتا ہے۔‘ پیروی کے دوران انھیں ہوسٹائل یعنی مخالف گواہ قرار دے کر استغاثہ کی طرف سے ان پر طویل جرح کی گئی۔ تاہم زیادہ تر گواہان نے تو یہ بھی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کہ وہ وقوعہ کے وقت موقع پر موجود تھے۔ باقی گواہان نے واقعے کے حوالے سے مکمل لاعلمی کا اظہار کر دیا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ تمام کے تمام گواہان نے عدالت میں کہا کہ اگر ملزمان کو بری کر دیا جائے تو انھیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔
روؤف کے مطابق اس قتل کیس میں استغاثہ نے عدالت میں دو قسم کے ثبوت پیش کیے تھے، ایک عینی یا واقعاتی اور دوسرے فرانزک یعنی سائنسی طریقے سے تصدیق شدہ۔ عینی نوعیت کی شہادت کی طور پر گواہان پیش کیے گئے۔ تاہم وہ مخالف ثابت ہوئے۔
واقعے میں زخمی ہو جانے والے مقتول کا کمسن بیٹا بھی اپنی گواہی میں ’ملزمان کے ملوث ہونے کی تصدیق نہیں کر پایا۔
دوسری جانب استغاثہ کے دباؤ کی وجہ سے گواہان میں سے ’کوئی بھی پولیس اہلکاروں کی شناخت پریڈ کے لیے نہیں آیا۔
اس مقدمے میں استغاثہ کے پاس مضبوط ترین فرانزک شہادت وہ ویڈیوز سمجھی جا رہیں تھیں جن میں مبینہ طور پر پولیس اہلکار فائرنگ کرتے دکھائی دے رہے تھے۔ تاہم فرانزک تجزیے کے بعد یہ شہادت عدالت کے لیے قابلِ قبول ثبوت نہیں رہی تھیں۔
استغاثہ کی طرف سے واقعے کی تمام تر ویڈیوز جو سوشل میڈیا یا نشریاتی ذرائع ابلاغ پر سامنے آئی تھیں ان کی اصل کاپیاں حاصل کر کے انھیں تجزیے کے لیے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی بھجوایا گیا تھا۔
تاہم ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ وہ ویڈیوز کی ذریعے ملزمان کی شناخت نہیں کر پائے۔ یوں تمام ملزمان بری ہو گئے۔
تاہم شدید عوامی ردعمل آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے سانحہ ساہیوال میں ملوث 6 پولیس اہلکاروں کی بریت کے عدالتی فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن ایسا کرنے کی بجائے حکومت نے سانحہ ساہیوال کے مرکزی ملزم ایس ایس پی جواد قمر کو ستارہ شجاعت سے نواز دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button