عید کی وجہ سے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں کھولنے کا حکم دیا

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے سپریم کورٹ میں کرونا ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا کے مشتبہ مریضوں کا سرکاری لیبارٹری سے ٹیسٹ مثبت اور نجی لیبارٹری سے منفی آتا ہے، یہاں سب لوگ پیسے سے کھیل رہے ہیں اورانسانوں کی کسی کو فکر نہیں ہے۔ ہفتہ اور اتوار کو بازار کھولنے کا حکم صرف عید تک کے لیے دیا ہے۔ ہماری نظر پورے پاکستان پر ہے، آنکھ، کان اور منہ بند نہیں کر سکتے۔
منگل کو سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس سردار طارق نے کہا کہ پنجاب اور اسلام آباد میں حکومتیں مالز کھول رہی تھیں۔ عدالت نے شاپنگ مالز کھولنے کا حکم صرف سندھ کی حد تک دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ باقی ملک میں مالز کھل رہے ہیں تو سندھ کے ساتھ تعصب نہیں ہونا چاہیے۔سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ عدالت ہماری گزارشات بھی سن لے اور عدالت ماہرین کی کمیٹی بنا کر رپورٹ طلب کرے۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن پہلے جیسا مؤثر نہیں رہا، بیوٹی سیلون اور نائی کی دکانیں کھل رہی ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ ہماری وجہ سے نہیں کھل رہے، آپ کے انسپکٹر پیسے لے کر اجازت دے رہے ہیں۔ عدالت نے سندھ حکومت کو کچھ نہیں کہا، سندھ حکومت نے تمام سرکاری دفاتر کھول دیے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری دفاتر کھول کر نجی ادارے بند کر رہے ہیں، سندھ حکومت کے فیصلوں میں بڑا تضاد ہے۔
اس موقع پر اٹارنی جنرل آف پاکستان نے کہا کہ عدالت کے ہفتہ، اتوار کے لاک ڈاؤن سے متعلق حکم سے ممکن ہے کہ حکومت مطمئن نہ ہو، لیکن اس پر عمل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس سے متعلق اخراجات پر وضاحت کے لیے چیئرمین این ڈی ایم اے بھی عدالت میں موجود ہیں۔ جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہماری تشویش اخراجات سے متعلق نہیں ہے، ہماری تشویش سروسز کے معیار پر ہے۔ کرونا کے مشتبہ مریض کا سرکاری لیب سے ٹیسٹ مثبت اور پرائیویٹ سے منفی آتا ہے۔ کرونا کے مریض کو دنیا جہان کی ادویات لگا دی جاتی ہیں۔
عدالت نے ریمارکس کے دوران کہا کہ سب لوگ صرف پیسے سے کھیل رہے ہیں کسی کو انسانوں کی فکر نہیں۔ این ڈی ایم اے سارا سامان چین سے منگوا رہا ہے۔ تھرڈ کلاس چیزیں باہر سے منگوائی جاتی ہیں جیسے عسکری پارک میں اسکریپ شدہ جھولا لگایا گیا تھا۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اکثر مال اسکریپ شدہ ہی بھیجا جاتا ہے۔ ہمارے یہاں جو سامان منگوایا جاتا ہے اس میں معیار نہیں دیکھا جاتا جب کہ عمومی تاثر ہےکہ وسائل غیرمتعلقہ افراد کے ہاتھوں میں ہیں۔
دورانِ سماعت چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ہماری تشویش اخراجات سے متعلق نہیں، سروسزکے معیارپر ہے، کورونا کےمشتبہ مریض کا سرکاری لیب سے ٹیسٹ مثبت اورپرائیویٹ سے منفی آتا ہے، سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کے ملازمین کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، ملازمین کا کورونا ٹیسٹ سرکاری لیب سے مثبت اور نجی سے منفی آیا۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ لوگوں کو سہولیات دینے کے لیے ہیومن ریسورس ہے مگر وہ بہترکام نہیں کررہی، جب مریض ان کے پاس پہنچتا ہے تو وہ پھنس جاتا ہے، لاہور ایکسپو سینٹر اور اسلام آباد میں قرنطینہ سینٹرز سے لوگوں کی ویڈیوز دیکھنے کو مل رہی ہیں، لوگ غصے میں کہہ رہے ہیں کہ باہر مرجاؤ لیکن پاکستان نہ آؤ، دس دس لوگ قرنطینہ سینٹر میں ایک ساتھ بیٹھے ہیں، یہ کیسی قرنطینہ ہے؟ ان قرنطینہ سینٹرز میں کوئی صفائی کا خیال نہیں رکھا جارہا ہے۔
چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ ہر چیز پیسہ نہیں ہوتی، پیسوں کے لیے کھیل نہ کھیلیں، پیسہ اہم نہیں ہے بلکہ انسان اہم ہیں، عمومی تاثر ہےکہ وسائل غیرمتعلقہ افراد کے ہاتھوں میں ہیں۔ معزز چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ہمارے لوگوں کو جانوروں سے بدتررکھا جارہا ہے، سرکار کے تمام وسائل کو لوگوں پرخرچ ہونا چاہیے، صرف 2 فیصد مخصوص کلاس کے لیے سرکاری وسائل استعمال نہیں ہونے چاہئیں، این ڈی ایم اے شہروں میں کام کررہا ہے، دیہاتوں تک تو گیا ہی نہیں، جتنے قرنطینہ سینٹرز قائم ہوئے ہیں وہ صرف شہروں میں ہیں، ایک دفعہ جو بندہ قرنطینہ سینٹر پہنچ گیا وہ پیسے دیے بغیر باہر واپس نہیں آسکتا، چاہے وہ نیگیٹو ہی کیوں نہ ہو۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے عدالت کو بتایا کہ این ڈی ایم اے کی وجہ سے 10 پی پی ای کٹ تیار ہورہی ہیں، 1187 وینٹی لیٹرز کا آرڈر دیا تھا جس میں سے 300 پاکستان پہنچ چکے ہیں، 20 اپریل کے بعد اب تک کوئی پی پی ای کٹ پاکستان نہیں منگوائی۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے یہاں جو سامان منگوایا جاتا ہے اس میں معیار نہیں دیکھا جاتا، این ڈی ایم اے سارا سامان چین سے ایک ہی پارٹی سے منگوا رہا ہے، آپ کو ہر چیز اپنےملک میں بنانی چاہیے، کھانے پینے کی اشیا، ادویات اور دیگر سامان اپنے ملک میں تیارکریں، آپ نے کروڑوں روپے لگادیے لیکن کچھ ہوتا نظر نہیں آرہا۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ ہر چیز چین سے منگوائی جا رہی ہے، پاکستان میں چین سے گھٹیا مال منگوایا جاتا ہے جو 10 روپے کا لےکر ہزار کا یہاں بیچتے ہیں۔
اس موقع پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ عوام سپریم کورٹ کے فیصلوں کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں، عدالت کے کل کے حکم سے لوگ سمجھ رہے ہیں کورونا سنجیدہ مسئلہ نہیں ہے، عدالت کے حکم کے باعث انتظامیہ کو اقدامات کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں، عدالت سے استدعا ہے ریمارکس اور فیصلے دیتے ہوئے معاملے کی سنجیدگی کو مدنظر رکھا جائے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ شاپنگ سینٹر ہفتہ اور اتوار کو کھولنے کا حکم عید کے تناظر میں تھا، عید کے بعد صورتحال کا جائزہ لے کر سماعت کریں گے۔بعد ازاں عدالت نے کورونا ازخود نوٹس کیس کی سماعت 8 جون تک ملتوی کردی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button