سرد جنگ کے بعد پہلی مرتبہ دنیا کو ایٹمی جنگ کا خطرہ

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے خبردار کیا ہے کہ سرد جنگ کے بعد پہلی مرتبہ دنیا کو ایٹمی جنگ کا خطرہ لاحق ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدرجوبائیڈن کا پارٹی کے ارکان سے خطاب میں کہناتھا ہمیں 1962 میں کینیڈی اور کیوبن میزائل بحران کے بعد سے نیوکلیئر آرماگیڈن کے امکانات کا سامنا نہیں کرنا پڑا لیکن اب روسی صدر جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی دے رہے ہیں جس سے خدشہ ہے کہ دنیا میں دوبارہ ایٹمی جنگ شروع ہوجائے۔
صدر جوبائیڈن نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی پر تبصرہ کرتے ہوئے سخت الفاظ استعمال کیے اور روس کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ولادیمیر پوٹن دنیا کو ایک خطرناک موڑ پر لے آئے ہیں۔
امریکی صدر کا کہناتھا صدر پوٹن کی ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہے ہیں اور اس جارحیت سے روکنے کے لیے وہ روس کی یوکرین میں حکمت عملی معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
صدر جوبائیڈن نے یہ بیان روسی صدر کے اس بیان کے ردعمل میں دیا ہے جس میں صدر پوٹن نے یوکرین جنگ کے دوران ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دی تھی۔
واضح رہے کہ 1962 میں دنیا ایٹمی جنگ کے دہانے پر پہنچ گئی تھی جب کیوبن میزائل بحران سامنے آیا تھا اور یہ سرد جنگ کے خطرناک ادوار میں سے تھا۔ اس وقت کے امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے کیوبا میں سوویت میزائلوں کی موجودگی کا انکشاف کیا تھا۔
