سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی منظوری

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اعلان کیا ہے کہ تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے کے خلاف احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین کے ساتھ حکومتی کمیٹی کے مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں۔
وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے مذاکرات میں کیے گئے گئے فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ملازمین ایک سال سے تنخواہوں کے فرق دور کرنے کا مطالبہ کررہے تھے۔پرویز خٹک نے کہا کہ ملازمین کے حکومتی کمیٹی کے ساتھ ہوئے مذاکرات میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام وفاقی ملازمین کو 25 فیصد ایڈہاک ریلیف دیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے دو صوبائی وزرائے اعلیٰ سے بات کی اور انہیں ملازمین کے مسائل حل کرنے کی ہدایت کی، چنانچہ وفاقی حکومت اپنے فیصلوں کے بعد صوبائی حکومت کو بھی تنخواہوں میں فرق دور کرنے کی سمت فراہم کردے گی۔
پرویز خٹک نے بتایا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں ملازمین کی اپ گریڈیشن کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے اور سلسلہ جون میں آئندہ مالی سال کے بجٹ کے بعد شروع ہوجائے گا اور انہیں وہ سہولیات ملنے لگیں گی۔وزیر دفاع نے بتایا کہ جون کے بجٹ میں ہی ایڈہاک ریلیف ان کے تنخواہوں کے اسکیل میں شامل کردیا جائے گا جو کہ ملازمین کا مطالبہ تھا۔
پرویز خٹک نے کہا ٹائم اسکیل کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کے لیے ایک طریقہ کار وضع کیا جائے گا اور کارکردگی کی بنیاد پر ترقی دینے کی پالیسی بنائی جائے گی جس پر بجٹ میں عملدرآمد کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ایڈہاک ریلیف آج وزارت خزانہ سے نوٹیفائیڈ کروادیا جائے گا اور یہ پے کمیشن کا فیصلہ آنے تک جاری رہے گا، پے کمیشن کے فیصلے کا اطلاق ملک بھر پر ہوگا۔
خیال رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے سے متعلق فیصلہ نہ ہونے پر سرکاری ملازمین نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے شدید احتجاج کیا، اس دوران ان کی پولیس سے جھڑپ بھی ہوئی جس کے بعد متعدد ملازمین کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔منگل کے روز کابینہ کے اجلاس میں بوفاقی سیکریٹریٹ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ نہیں ہوسکا تھا اور اس معاملے پر ملازمین کے نمائندوں اور وزیر داخلہ شیخ رشید کے درمیان ہونے والی فالو اپ میٹنگ بھی غیر نتیجہ خیز رہی تھی۔
جس کے بعد سرکاری ملازمین نے بدھ کے روز اسلام آباد میں ہڑتال اور اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی حمایت سے دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا۔سرکاری ملازمین نے وفاقی دارالحکومت کی شاہراہ دستور، سیکرٹریٹ بلاک ، کابینہ بلاک کے علاوہ نیشنل پریس کلب کے باہر اور ڈی چوک پر جمع ہو کر احتجاج کیا تھا۔
اس دوران سرکاری ملازمین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شدید شیلنگ کی گیئ تھی جبکہ سرکاری ملازمین کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button