سرینگر ہائی وے پر دھرنا دینے والوں کیساتھ سختی سے نمٹا جائے

اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا ہےکہ سری نگر ہائی وے پر دھرنا دینے والوں کا سٹیٹس دیکھے بغیر سخت کاروائی کی جائے۔
چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے وفاقی دارالحکومت کی سری نگر ہائی وے پرجے یو آئی کے ممکنہ دھرنے کے خلاف اسلام آباد انتظامیہ کی توہین عدالت کی درخواست پر اجازت نامے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹنے کی ہدایت کردی۔
امیرجے یو آئی اسلام آباد مولانا عبدالمجید ہزاروی اور مفتی عبداللہ کے خلاف توہین عدالت کی دائر درخواست میں اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے ایڈووکیٹ جنرل نیاز اللہ نیازی کے ذریعے موقف اختیار کیا کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے این او سی کی خلاف ورزی پر جے یو آئی (ف)کو شوکاز نوٹس جاری کیا ہے، 17مارچ کو چیف جسٹس اطہر من اللہ کے بینچ نے جلسے رکوانے کی درخواست پر متعدد آبزرویشنز دیں،عدالت نے قرار دیا تھا کہ انتظامیہ کے پاس سب معاملات دیکھ کر فیصلہ کرنے کااختیار ہے۔
ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے عدالتی ہدایات کی روشنی میں پبلک ریلی کے لیے جگہ مختص کر کے ایس او پیز کے تحت این اوسی جاری کیا۔ سپیشل برانچ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ جے یو آئی(ف)کی ریلی کے لیے سری نگر ہائی وے بلاک کر کے سٹیج بنایا جا رہا ہے،شہریوں کے آزادانہ نقل و حرکت، تعلیم اور کاروبار کرنے کے حقوق متاثر ہوں گے،جے یو آئی(ف) کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں، این او سی کی خلاف ورزی پر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے جے یو آئی ف کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا ۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست نمٹاتے ہوئے قرار دیا کہ کوئی بھی قانون سے بالا نہیں،سیاسی جماعتیں اور رہنما قانون پر عمل کرنے کے پابند ہیں،ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا فرض ہے کہ وہ قانون کا نفاذ کریں، انتظامیہ کی آئینی زمہ داری ہے کہ جلسے کی اجازت میں دئیے گئے این او سی کی شرائط پر سختی سے عمل کرائیں،این او سی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا تفریق کاروائی عمل میں لائی جائے،این او سی کی خلاف ورزی کی مرتکب سیاسی جماعتیں اور ان کی لیڈرشپ نتائج کے ذمہ دار ہوں گی،تمام سیاسی جماعتیں جن کو این او سی جاری ہوا توقع ہے کہ وہ اس کی شرائط کر عمل کریں گی،امن عامہ کو برقرار رکھنا ریاست کا بنیادی فریضہ ہے،سڑکوں، راستوں اور عوامی تفریحی مقامات پر نظم و ضبط قائم رکھنا پولیس کا فرض ہے، مجسٹریٹ کا اختیار ہے کہ وہ راستوں کی بندش، پریشانی یا خطرے سے بچنے کے لیے احکامات جاری کرے۔
