سر پھرے صحافی قابو کرنے کی کوششں آخری مرحلے میں

صحافیوں پر تشدد اور ان کے اغوا اور گرفتاریوں کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر صحافی اور اینکر پرسن عاصمہ شیرازی نے کہا ہے کہ جناح کے پاکستان میں آزادی محدود اور حد بڑھتی جا رہی ہے۔ تعزیر اور سزا کے معنی بدل گئے ہیں، طاقت اپنے پورے اختیار کے ساتھ کار فرما ہے۔ اب سچ کہنے اور سوچ کی آزادی کی جنگ فیصلہ کُن مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ اس صورتحال میں صرف چند سر پھرے صحافی باقی بچے ہیں جنھیں قابو کرنے کی ریاستی کوششیں آخری مرحلے میں ہیں۔ عاصمہ کے الفاظ میں ’چند زباں دراز‘ غداری کے مقدموں اور تمغوں کو سمیٹے ہوئے جمہوری آزادیوں اور خود داری کی اس جدوجہد میں امید کی مانند ہیں جو فکر کے محاذ پر ایستادہ اپنی فطرت کے سامنے بے بس اور لاچار ہیں، ورنہ کیا بُرا ہے کہ طاقت وروں کے حلقہ اثر میں شامل ہو جائیں اور معصوم ٹھہریں۔ لیکن وہ کہتی ہیں کہ اصل امتحان تو سچ کی دہلیز پر دیا جلانا ہے سو یہ چند سر پھرے باغی سچائی کے دیے جاتے رہیں گے۔
بی بی سی کے لیے اپنی تازہ تحریر میں عاصمہ شیرازی موجودہ حکمرانوں پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ طاقت وروں کی خواہش تو لامحدود ہے کہ سُونیاں ہو جان گلیاں تے وچ مرزا یار پھرے۔ لیکن تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ایسا ہوتا نہیں۔ انکے مطابق بدلتے حالات نے کئی ذہنوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کہیں جمہوریت، آزادی رائے، انسانی حقوق وغیرہ کی اصطلاحات گزرے دنوں کی داستان تو نہیں بن گئیں؟ عاصمہ کے مطابق ہر چیز اپنی حد میں اچھی لگتی ہے لیکن کبھی سُنا نہ تھا کہ خاموشی بھی حدود میں قید ہو جائے اور خاموشی کو خاموش رہنے کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی۔ وہ کہتی ہیں کہ عجیب بات ہے کہ خاموشی کا گلا بھی گھونٹ دیا جائے اور خاموشی زندہ بھی رہے۔ اس کی ایک مثال پاکستانی معاشرہ ہے جس کے باسی ہم ہیں۔
سکرینیں روشن ہیں مگر دماغ ماؤف، اخبارات اور جرائد کی تعداد سینکڑوں میں مگر حقائق محدود، آئین پاکستان آزادی رائے کا ضامن مگر رائے کی آزادی کس کس کو، فیصلہ محفوظ۔۔۔ سچ کہنے کی اجازت مگر مشروط، تجزیے اور تبصرے اشاروں کے محتاج، لفظ مستعار اور حرف بے آبرو۔۔۔ عاصمہ یاد دلاتی ہیں کہ جون 2019 میں ایک وفاقی وزیر نے یہ بیان دیا تھا کہ ملک میں صرف پانچ ہزار لوگوں کو چوک چوراہوں میں گھسیٹ کر لٹکا دیا جائے تو پاکستان بہتر ہو جائے گا۔۔۔ تب میں نے یہ بیان ہنسی میں اُڑا دیا تھا کیونکہ میرا خیال تھا کہ ایسا کرنا کیسے ممکن ہے؟ میں نے سوچا کہ ایک جیتے جاگتے ملک میں جمہوریت کی جنگ لڑنے والوں کو ایسے کیسے روندا جا سکتا ہے؟ وہ کہتی ہیں کہ مجھے نہیں معلوم یہ پانچ ہزار کی تعداد کہاں سے آئی، کس نے بتائی اور کیسے اگلوائی۔۔۔ تاہم اب یہ ایک سچ لگتا ہے۔ چوک چوراہوں میں لوگوں کو لٹکایا تو نہیں گیا ہاں مگر جمہوریت پسندوں کو سر عام کبھی گالی کبھی گولی اور کبھی غداری کا سامنا ضرور کرنا پڑ رہا ہے۔ قومی میڈیا بے چارگی کا شکار جبکہ سوشل میڈیا کی لگامیں کسنے کی تیاریاں عروج پر ہیں۔
کچھ عرصہ قبل میڈیا اتھارٹی کے قیام کی بات کی گئی، ردعمل کے بعد محض تجویز تک محدود کر دیا گیا اور اب ایک بار پھر میڈیا اتھارٹی پر دلائل شروع ہیں۔ ٹریبونلز کے قیام اور صحافیوں کو ٹریبیونلز کے ذریعے کنٹرول کرنے کی باقاعدہ تجویز، صحافیوں کو شکایت کی صورت مجوزہ اتھارٹی سزائیں دے سکے گی، ٹریبونل میں صحافی بھی ہوں گے مگر مقرر انھیں صدر مملکت حکومت کی سفارش پر کریں گے۔ کوئی صحافی نظریہ پاکستان، پاکستان کی خودمختاری، سالمیت یا سیکورٹی سے متعلق کسی ’پروپیگنڈے‘ یا عمل کی تشہیر نہیں کرے گا۔ اتھارٹی بتائے گی کہ کس نے نظریہ پاکستان یا سلامتی کے اداروں وغیرہ کے خلاف بولا۔ عاصمہ کا۔کہنا ہے کہ ان تمام کو موضوع بنا کر اس سے پہلے بھی کئی بار صحافیوں کو قانونی کارروائیوں کا جواز بنایا جا چکا ہے، پہلے ہی کئی ایک صحافی پیپرا قوانین کے تحت ایف آئی اے میں جوابدہ ہیں جبکہ حال ہی میں لاہور سے عامر میر اور عمران شفقت کو بھی ایف آئی اے کی سائبر کرائم ونگ نے گرفتار کرلیا۔ ان حالات میں صحافتی اور جمہوری آزادی محدود ہوتی جا رہی ہے اور حد بڑھتی جا رہی ہے۔ تعزیر اور سزا کے معنی بدل گئے ہیں، طاقت اپنے پورے اختیار کے ساتھ کار فرما ہے۔ اب سچ کہنے اور سوچ کی آزادی کی جنگ فیصلہ کُن مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ چند سر پھرے اور زبان دراز باقی ہیں جنھیں قابو کرنے کی کوششیں آخری مرحلے میں ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اس حصار سے لڑنے کے لیے اور کون باہر آئے گا؟ لڑائی تو لڑی جا سکتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ خوف کے اس ماحول میں خود سے خوف زدہ لوگوں کو لڑنے پر مجبور کیسے کیا جائے؟ باہر کی پابندیوں کو تو توڑا جا سکتا ہے اندر کے محاصرے کو کیسے توڑا جائے؟
باہر کی سکرینوں کے کالے ہونے کا ڈر نہیں مگر ذہن کی کالی سکرینوں کا کیا ہو گا؟ اپنی آواز کا خوف ختم کرنے کے لیے بولنا لازم ہے مگر اپنے اندر کی خاموشی کون توڑے گا؟ لہازا شششش، خاموش!!!
