سعودی حکومت کا مسجدالحرام، مسجد نبوی عشا سے فجر تک بند رکھنے کا فیصلہ

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے سعودی عرب نے مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام اور مدینہ منورہ میں مسجد نبوی نمازِ عشا کے ایک گھنٹے بعد سے نمازِ فجر سے ایک گھنٹہ قبل تک روزانہ بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق مسجد نبوی میں روضہ رسولﷺ بھی عمرے پر پابندی کے عرصے کے دوران بند رہے گا جبکہ جنت البقیع بھی میں زائرین کے جانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔


خیال رہے کہ گزشتہ روز مطاف (خانہ کعبہ کے اطراف کےصحن) کو بھی تفصیلی صفائی اور جراثیم کش اقدامات کے لیے خالی کروالیا گیا تھا جس کے بعد نماز کی ادائیگی مسجد کے احاطے میں ہوئی۔
عرب نیوز کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ خانہ کعبہ کے اطراف میں جہاں زائرین 7 مرتبہ طواف کرتے ہیں اور صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان سعی کا مقام عمرے سے پابندی ہٹائے جانے تک بند رہے گا تاہم مسجد کے اندر نماز کی ادائیگی جاری رہے گی۔
ایک سعودی عہدیدار کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ مطاف خالی کروا کر گہرائی سے صفائی ایک عارضی اقدام ہے جس کی اس سے قبل کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز اور تصاویر میں خانہ کعبہ کے آس پاس کا مقام بالکل خالی دکھائی دیا جہاں تقریباً ہر وقت زائرین کا ہجوم موجود ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ 4 مارچ کو سعودی عرب نے کوروناوائرس پھیلنے کے خدشات کے باعث عمرے کی ادائیگی عارضی طور پر معطل کردی تھی۔رپورٹ کے مطابق ‘کورونا وائرس کے حوالے سے نگرانی کے لیے بنائی گئی کمیٹی کی تجاویز پر شہریوں اور مقیم افراد کے لیے عمرے کی ادائیگی کو عارضی طور پر معطل کیا گیا’۔سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ فیصلے کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا اور حالات تبدیل ہوتے ہی فیصلے کو واپس لے لیا جائے گا۔
https://twitter.com/HaramainInfo/status/1235556172146585600?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1235556172146585600&ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawnnews.tv%2Fnews%2F1121790
اس سے قبل حکومت نے مکہ اور مدینہ میں غیر ملکیوں کے داخلے پر بھی پابندی عائد کی تھی تاہم دونوں مقدس شہر سعودی عرب کے شہریوں کے لیے اب بھی کھلے ہوئے ہیں جہاں شہریوں کو نماز اور عبادات کرنے کی اجازت ہے۔ خیال رہے کہ چین سے شروع ہونے والے کورونا وائرس دنیا کے درجنوں ممالک میں پہنچ چکا ہے اور اس کے خطرے کے پیش نظر متعدد ممالک نے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے مختلف پابندیاں عائد کردی ہیں۔
سعودی عرب میں اب تک کورنا وائرس کے 5 کیسز سامنے آچکے ہیں اور سعودی عرب کی جانب سے ایران پر مسافروں کی آمدو رفت کا صحیح دستاویزی اندراج نہ کر کے کورونا وائرس کےعالمی خطرے میں اضافے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button