سعودی شاہی خاندان میں بار بار بغاوت کی کوشش کیوں ہوتی ہے؟

سعودی عرب میں محمد بن سلمان کے خلاف بغاوت کی تازہ ترین تیسری کوشش ناکام ہونے کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ آخر سعودی شاہی خاندان میں ہر وقت اقتدار کی کشمکش کیوں جاری رہتی ہے۔ اس سوال کا سادہ ترین جواب یہ ہے کہ سعودی شاہی خاندان میں شہزادوں کی تعداد سات ہزار کے قریب ہے اور ان میں سے ہر تیسرا شہزادہ اقتدار پر قبضے کا خواب دیکھ رہا ہے۔
سعودی عرب میں اقتدار کا کھیل ایک خونی کھیل ہے جس میں بیٹوں نے باپ کی اور باپ نے بیٹوں کی جان بھی لی ہے اور یہ نہ ختم ہونے والا کھیل ابھی جاری ہے۔ سعودی عرب کی سیاست اور اس کے شاہی خاندان پر نظر رکھنے والے سعودی تجزیہ نگار احمد ذکی کے مطابق سعودی شہزادوں کی تعداد تقریباً سات ہزار ہے لیکن جہاں تک شہزادیوں کا تعلق ہے تو ان کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔ احمد ذکی کا کہنا ہے کہ ‘دنیا میں کہیں بھی اتنے زیادہ شہزادے نہیں ہیں۔یہ سب سعودی عرب کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور سنہ 1932 میں سعودی سلطنت قائم کرنے والے عبدالعزیز بن سعود کی اولاد ہیں۔ عبدالعزیز کی وفات کے وقت تک سعودی عرب خلیج سے بحر احمر تک اور عراق سے یمن تک پھیل چکا تھا۔
سعودی سیاست اور اسکے شاہی خاندان پر تحقیق کرنے والے احمد ذکی کے مطابق آل سعود پیدا ہوتے ہی شہزادہ کہلاتا ہے اور اسے تخت حاصل کرنے کا حق ہوتا ہے۔ شاہ عبدالعزیز بن سعود نے مختلف قبائل میں متعدد شادیاں کی تھیں اور ان سے کئی درجن اولاد ہوئیں۔ واضح طور پر یہ نہیں بتایا جا سکتا کہ ان کی کتنی بیویاں تھیں لیکن یہ کہا جاتا ہے کہ عبدالعزیز بن سعود نے 20 سے زائد خواتین سے شادی کی تھی۔ شاہی خاندان میں پیدا ہونے والے بچے کو پیدائش سے ہی بہت سارے اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔
شہزادوں کی اس لمبی چوڑی فوج کا سب سے بڑا اثر سعودی عرب کے اقتدار پر ہوتا ہے۔ ہر کسی کو کچھ نہ کچھ اختیارات حاصل ہوتے ہیں اور ساتھ ہی کچھ ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں۔ سنہ 1990 کی دہائی میں شاہی خاندان کے ارکان کا سالانہ خرچ تقریباً دو ارب ڈالر تھا۔سنہ 1996 میں روئٹرز میں شائع ایک مضمون میں لکھا گیا کہ ‘آل سعود کی نسل میں جو سب سے کم درجے پر ہیں انھیں بھی ہر ماہ بھاری رقم ملتی ہے۔
احمد ذکی کے مطابق: ’ابھی کی بات کریں تو وہ شہزادے جو براہ راست عبدالعزیز بن سعود کے بیٹے اور بھتیجے ہیں یا پوتے ہیں انھیں بھی ہر ماہ دس ہزار ڈالر دیے جاتے ہیں۔‘ ذکی کہتے ہیں: ‘اگر یہ شہزادے ابن سعود کی اولاد میں پہلی نسل میں آتے ہیں تو انھیں رقم دینے کا طریقہ مختلف ہے۔ انھیں تیل کے بیرل دیے جاتے ہیں جنھیں فروخت کر کے وہ رقم حاصل کرتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ہزاروں شہزادوں کے ہونے کے باوجود سعودی عرب سیاست میں بہت ہنگامہ نہیں ہے۔ ان میں سے بہت سے شہزادوں کی خواہشوں کو مختلف اداروں میں اہم منصب دے کر پورا کر دیا جاتا ہے لیکن پھر بیگ جیسے شہزادے ہوتے ہیں جو اقتدار پر قبضے کی خواہش رکھتے ہیں۔
‘گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران وزارت داخلہ، دفاع اور خزانہ پر آل سعود کے اہم شہزادوں کی عمل داری رہی ہے۔ اس کے علاوہ فوج کے مختلف شعبوں اور نیشنل گارڈز جیسے اداروں کی ذمہ داری بھی کسی شہزادے کو ہی دی گئی ہے۔اختیار کی اس تقسیم سے حکومت میں استحکام برقرار رکھا گیا ہے۔اس سے فیصلہ سازی اور فیصلوں کے نفاذ کے عمل میں وقت لگتا ہے کیونکہ اس عمل میں شاہی خاندان کے کئی لوگ شامل ہوتے ہیں۔ اتنے بڑے شاہی خاندان کے سبب حکومت کے کام کاج میں دقت بھی آ تی ہے۔ اتنے زیادہ سعودی جانشینوں کی موجودگی میں بادشاہ اور اسکی حکومت ہر وقت بغاوت کے خطرات سے دوچار رہتی ہے اور ایسی ہی بغاوت کی ایک تازہ ترین کوشش شاہ سلمان نے مارچ کے پہپے ہفتے میں ناکام بنائی ہے۔
ابھی سلمان بن عبدالعزیز سعودی عرب کے بادشاہ ہیں جبکہ ان کے اکثر بھائی وفات پا چکے ہیں۔سنہ 2015 میں سلمان نے اپنے بھتیجے محمد نائف کو ولی عہد مقرر کیا تھا۔اس تقرری کے کچھ عرصے بعد ہی بیمار شاہ سلمان نے اپنے حوصلہ مند بیٹے محمد بن سلمان کو نائب ولی عہد مقرر کیا۔ دو سالوں میں صورت حال کچھ ایسی تبدیل ہوئی کہ سلمان نے اپنے بھتیجے کی جگہ اپنے بیٹے محمد بن سلمان کو ولی عہد نامزد کر دیا اور تخت نشینی کی روایت ٹوٹ گئی۔
پھر ریاض میں اسی برس تین واقعات رونما ہوئے جنھوں نے سعودی عرب کو بدل دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تینوں واقعات کے درمیان کوئی براہ راست تعلق نظر نہیں آتا۔سب سے پہلے ریاض سے سعد الحریری کا چونکانے والا اعلان آیا کہ وہ لبنان کے وزیر اعظم کے عہدے سے دست بردار ہو رہے ہیں۔دوسرا حریری کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد پتہ چلا کہ یمن کے باغیوں کی طرف سے طویل فاصلے تک مار کرنے والا میزائل داغا گیا جسے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر لگنے سے پہلے ہی تباہ کر دیا گيا۔اور پھر نصف رات کو تیسرا سیاسی دھماکہ اس وقت ہوا جب درجنوں شہزادوں، امرا اور سابق وزرا کو یا تو گرفتار کر لیا گیا یا انھیں معزول کر دیا گیا۔
32 سالہ ولی عہد محمد بن سلمان کا یہ برا ایکشن سعودی عرب میں حکومت پر اپنے کنٹرول کو مضبوط کرنے کے لیے تھا۔
تجزیہ کار احمد ذکی کا کہنا ہے کہ آج سعودیہ میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ پہلے نہیں دیکھا گیا۔ پہلے وقتوں میں حکومت سات یا آٹھ بھائیوں کے درمیان مشترک رہتی تھی لیکن اب اقتدار ایک شخص کے ہاتھ میں ہے جس کا نام محمد بن سلمان ہے۔ لہذا سعودی شہزادوں کی اکثریت ان کے خلاف ہے۔ ان حالات میں کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان کے خلاف بغاوت کی تین کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مستقبل میں کیا ہوتا ہے۔
