سعودی شہزادہ سلمان نے ایک اور شہزادے کو گرفتار کرلیا

اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لئے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے اپنے خاندان میں موجود سیاسی مخالفین کی گرفتاریوں کے سلسلے میں تیزی آگئی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق سابق سعودی شاہ عبداللہ کے بیٹے شہزادہ فیصل کو گرفتا کرلیا گیا ہے۔
اس حوالے سے انسانی حقوق کی تنظیم یومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ ولی عہد سلطنت شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے اپنے اقتدار کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ٹھکانے لگانے کی متنازعہ پالیسی کے تحت سعودی عرب میں حکام نے شاہی خاندان کے اہم رکن اور سابق سعودی شاہ عبداللہ کے بیٹے فیصل کو حراست میں لے لیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم نے کہا ہے کہ شاہی خاندان کے افراد سے وابستہ ایک باخبر ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ سکیورٹی فورسز نے 27 مارچ کو شہزادہ فیصل بن عبد اللہ کو اس وقت حراست میں لیا تھا جب وہ سعودی دارلحکومت ریاض میں اپنی خاندانی رہائش گاہ میں کرونا وائرس کی وجہ سے خود ساختہ تنہائی اختیار کیے ہوئے تھے۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ شہزادہ فیصل کو حراست میں رکھنے کے مقام اور ان کی حالت سے متعلق کوئی معلومات نہیں ہیں۔ تنظیم کا مزید کہنا ہے کہ ‘ذرائع کے مطابق شہزادہ فیصل نے دسمبر 2017 میں گرفتاری اور رہائی کے بعد سے سعودی حکام کو عوامی طور پر تنقید کا نشانہ نہیں بنایا ہے، اور ان کےخاندان کے افراد ان کی صحت کے بارے میں فکرمند ہیں، کیونکہ وہ دل کے عارضے میں بھی مبتلا ہیں۔
خیال رہے کہ مرحوم سعودی شاہ عبداللہ کے بیٹے شہزادہ فیصل دراز شہزادہ سلمان کی انسداد بدعنوانی کی مہم سے متاثر ہونے والے شاہی خاندان کے ان افراد میں شامل تھے جنھیں 2017 کے آخر میں رہا کیا گیا تھا۔ سعودی عرب کے حکام نے اس سال کے آغاز میں دو اہم شہزادوں کی نظربندی کے بارے میں جاری ہونے والی اطلاعات کے بعد سامنے آنے والے الزامات کے جواب میں کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، مارچ کے آغاز میں سعودی حکام نے شاہ سلمان کے بھائی شہزادہ احمد بن عبد العزیز اور سابق ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف کو بھی گرفتار کیا تھا، جنھیں سال 2017 میں ولی عہد کے عہدے سے ہٹاتے ہوئے نظر بند کردیا گیا تھا۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایسے وقت پر کیا گیا ہے جب اس بات کو یقینی بنایا جا سکے گا کہ موجودہ سعودی شاہ کی موت یا عہدے سے ہٹائے جانے کی صورت میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو سعودی شاہ بننے سے متعلق شاہی خاندان آل سعود میں کوئی دوسری رائے نہ پائی جاتی ہو۔
مبصرین کا خیال ہے کہ یہ اقدامات سعودی عرب میں بادشاہ کے اختیارات رکھنے والے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی کوششوں کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ تاہم دوسری جانب سعودی حکام غیر منصفانہ گرفتاریوں کے ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ لیکن یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ سعودی حکام نے متعدد شاہی خاندان کے افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں نامور قانونی ماہرین، دانشور اور انسانی حقوق کے کارکن شامل ہیں، سعودی حکام کی جانب سے سال 2017 میں بدعنوانی کے خلاف ایک مہم کا آغاز کیا تھا جس سے شاہی خاندان کے ارکان، وزراء اور تاجروں سمیت درجنوں متاثر ہوئے تھے۔
خیال رہے کہ سعودی عرب کے بانی عبدالعزیز بن عبدالرحمٰن آل سعود کے بڑے صاحبزادے اور سعودی عرب کے سابق بادشاہ سعود بن عبدالعزیز آل سعود کی صاحبزادی 56 سالہ شہزادی بسمہ بنت سعود اپنی ایک بیٹی کے ہمراہ بھی گذشتہ چودہ مہینوں سے ایک سعودی جیل میں قید ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں انسانی حقوق اور بہتر قوانین بنانے کے لیے متحرک رہنے والی شہزادی بسمہ بنت سعود عوام میں خاصی مقبول تھیں اور ان کو آخری بار مارچ 2019 میں ازاد دیکھا گیا تھا۔ تاہم گذشتہ مہینے شہزادی کے ٹوئٹر اکاونٹ سے رہائی کی اپیل سامنے آنے کےباوجود تاحال سعودی حکومت نے یہ تسلیم نہیں کیا کہ شہزادی بسمہ کو واقعی گرفتار کیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button