سعودی شہزادہ سلمان نے شہزادی بسمہ کو کیوں قید کیا؟

گزشتہ 14 مہینوں سے لاپتہ 56 سالہ سعودی شہزادی بسمہ بنت سعود کی گمشدگی کا معمہ حل ہو گیا ہےاور اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ وہ سعودی جیل میں قید ہیں۔ یہ انکشاف تب ہوا جب شہزادی بسمہ کے ذاتی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے نام ایک اپیل منظر عام پر آئی جس میں جیل سے رہائی کی اپیل کی گئی. شہزادی بسمہ نے لکھا یے میری صحت روزبروز بگڑ رہی ہے اور مجھ پر لگائے گئے تمام تر الزامات بے بنیاد ہیں۔
خیال رہے کہ سعودی عرب کے شاہی خاندان کی اہم ترین رکن شہزادی بسمہ گزشتہ 14 ماہ سے لاپتہ تھیں جن سے متعلق خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ انہیں سعودی حکام نے غائب کر رکھا ہے۔ تاہم اب شہزادی بسمہ کے تصدیق شدہ ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک اپیل منظر عام پر آئی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ سعودی حکومت نے شہزادی بسمہ اور ان کی ایک بیٹی کو جیل میں قید رکھا ہے۔ عالمی تنظیموں نے امکان ظاہر کیا ہے کہ شہزادی بسمہ کے خاندان کے افراد نے اس بات کی تصدیق ہونے کے بعد کہ شہزادی کو سعودی جیل میں قید کیا گیا ہے، ان کا ٹویٹر اکاؤنٹ استعمال کرتے ہوئے شاہ سلمان اور انکے حکمراں بیٹے محمد بن سلمان سے رہائی اپیل کرکے دراصل پوری دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ شہزادی بسمہ غیرقانونی قید میں ہے۔
تاہم دوسری جانب سعودی حکومت نے شہزادی بسمہ کی گمشدگی یا حکومتی تحویل میں ہونے کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔
سعودی عرب کے بانی عبدالعزیز بن عبدالرحمٰن آل سعود کے بڑے صاحبزادے اور سعودی عرب کے سابق بادشاہ سعود بن عبدالعزیز آل سعود کی صاحبزادی شہزادی بسمہ بنت سعود گزشتہ برس مارچ سے لاپتہ تھیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں انسانی حقوق اور بہتر قوانین بنانے کے لیے متحرک رہنے والی شہزادی بسمہ بنت سعود عوام میں خاصی مقبول تھیں اور ان کو آخری بار مارچ 2019 میں ازاد دیکھا گیا تھا۔
گزشتہ برس ایک جرمن نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ شہزادی بسمہ کو سعودی حکمرانوں نے قید کر رکھا ہے۔ رپورٹ میں شہزادی بسمہ کے ایک امریکی وکیل کا بھی حوالہ دیا گیا تھا جنہوں نے شہزادی کو دسمبر 2018 میں علاج کے لیے سعودی عرب سے بیرون ملک جانے کی اجازت دلوائی تھی اور سعودی حکام نے انہیں ابتدائی طور پر جانے کی اجازت بھی دی تھی، تاہم بعد ازاں ان کے طیارے کو سعودی حکام نے اڑنے نہیں دیا اور شہزادی کو تحویل میں لے لیا۔
تاہم شہزادی بسمہ کی گمشدگی کا معمہ اس وقت حل ہوگیا جب چند روز پہلے انکے اکاونٹ سے یہ ٹوئٹر پیغام گیا کہ وہ اپنی بیٹی کے ساتھ جیل کاٹ رہی ہیں اور ان کی صحت بھی روز بروز خراب ہوتی جارہی ہے لہذا انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔
خیال رہے کہ شہزادی بسمہ بنت سعود کی کچھ عرصہ قبل طلاق ہوگئی تھی اور اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ انہیں بچوں کی کفالت اور جائیداد کی وراثت کے اندرونی تنازع کی وجہ سے بھی جیل میں بند کیا گیا ہو۔ تاہم ابھی تک سعودی حکام نے شہزادی بسمہ کے لاپتہ ہونے سے متعلق انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے پوچھے گئے سوالوں کے جوابات نہیں دئیے۔
