سعودی عرب جلد پاکستان سے وزیر خارجہ کے بیان پر وضاحت طلب کرے گا

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا سعودی عرب کے حوالے سے دیا گیا حالیہ بیان موضوع بحث بنا ہوا ہے۔اپوزیشن کی جانب سے بھی شاہ محمود قریشی پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔اسی حوالے سے سینئر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بعد دفتر خارجہ میں تمام متعلقہ لوگوں کا متفقہ طور پر عمل ہے کہ وزیر خارجہ نے یہ بیان دے کر پاکستان کو خود بخود کارنر کر لیا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ کشمیر پر سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک سے حمایت نہیں ملی مگر سفارتکاری اس طریقے سے نہیں کی جاتی۔سعودی عرب اس بیان کا جائزہ لے رہا ہے اور وہ جلد ہی پاکستان سے وضاحت مانگ سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسی کے 47 رکن ممالک سعودی عرب کے کہنے پر آگے چلتے ہیں۔سعودی عرب کی مخالفت مول لے کر اس کو ناراض کرکے اپنے لیے ہی مزید مسائل مسائل پیدا کریں گے۔
دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اپوزیشن میرے بیان پر سیاسی پوائنٹ سکورننگ کر رہی ہے، مسئلہ کشمیر حساس ایشو ہے اسلئے اپوزیشن اس پر سیاست کرنے سے گریز کرے، مسئلہ کشمیر پر قومی اتفاق رائے کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں، اپوزیشن جماعتیں باتیں نہ کریں مناسب تجاویز دیں، حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپوزیشن جماعتوں کی قابل عمل تجاویز پر ضرور غور کرے گی۔ جمعہ کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے حقیقی معنوں میں کشمیریوں کا سفیر بن کر مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا ہے، ایک سال کے دوران تین مرتبہ یہ مسئلہ سلامتی کونسل میں زیر بحث آیا اور عالمی میڈیا بھی مودی کے اقدامات کی مذمت کر رہا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) اقوام متحدہ کے بعد دوسرا بڑا فورم ہے اور او آئی سی کا مسئلہ کشمیر پر تاریخی موقف رہا ہے اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ او آئی سی پاکستان کے عوام اور کشمیریوں کے احساسات کو سمجھے اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کلیدی کردار ادا کرے۔
