سعودی عرب سے روزگار کمانے والے لاکھوں پاکستانیوں کی نوکریاں خطرے میں

عمران خان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاک سعودی تعلقات میں میں خرابی کے باعث سعودی عرب میں مقیم دس لاکھ سے زائد پاکستانیوں کی نوکریاں شدید خطرے میں ہیں۔ اگرچہ عمران خان نے وزیراعظم نے منتخب ہونے کے بعد سعودی عرب کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور شہزادہ سلمان کی گاڑی بھی ڈرائیو کی تاہم دوسری طرف ترکی، ایران، قطر اور ملائشیا کے ساتھ مل کر ایک نیا بلاک قائم کرنے کی کوشش میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ناراض کر بیٹھے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کو زر مبادلہ کے ذخائر مستحکم رکھنے کے لیے دیا گیا تین ارب ڈالر کا قرض وقت سے پہلے مانگ لیا جسے پاکستان نے چین سے قرضہ لیکر لوٹایا ہے۔
لیکن یہ حقیقت ہے کہ آج پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات تاریخ کی نچلی ترین سطح پر ہیں۔ پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کے تحفظات اور ناراضگی دور کرنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے جارہے جس کے باعث سعودی عرب میں روزگار کے سلسلے میں میں دہائیوں سے مقیم لاکھوں پاکستانی ہنرمندوں کی نوکریاں خطرے میں ہیں۔ حال ہی میں سعودی سفیر نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی لیکن ابھی تک پاک سعودی تعلقات ماضہی کی سطح پر بحال ہونے کے امکانات نظر نہیں آرہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پاک سعودی تعلقات کی برف جلد نہ پگھلی تو نہ صرف پاکستان کو عالم اسلام میں تنہائی کا سامنا ہو گا بلکہ سعودی عرب میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کی نوکریاں بھی ختم ہو جائیں گی۔
کرونا وبا کے آغاز سے ہی وزیر اعظم عمران خان نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کہ تمام ترقی پزیر ممالک کے قرضوں کو معاف کرنے کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔ مغربی ممالک کے ایک گروپ پیرس کلب نے حال ہی میں پاکستان کے ایک اعشاریہ سات ارب ڈالر کے قرض کی ادائیگی کو مزید موخر کا اعلان بھی کیا ہے لیکن جہاں پاکستان کو قرضے کی واپسی پر یہ ریلیف ملا وہیں اس کے قریبی اتحادی اور برادر ملک کہلائے جانے والا سعودی عرب نے پاکستان سے تین ارب ڈالر قرضے کی جلد واپسی کا مطالبہ کر دیا۔ اس قرضے میں سے پاکستان نے چین کی مدد سے دو ارب ڈالر کی ادائیگی دو اقساط میں کر دی ہے جبکہ بقایا ایک ارب ڈالر کی ادائیگی جلد متوقع ہے۔ سفارتی حلقے متفق ہیں کہ سعودی عرب کی طرف سے ادھار کی واپسی کا مطالبہ پاکستان کے ساتھ ناراضگی کا اظہار ہے؟
یاد رہے کہ 2015 میں نواز شریف کے دور اقتدار میں سعودی عرب نے پاکستان سے یمن کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے فوجی دستے بھجوانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ تاہم پارلیمنٹ کے مشترکہ فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے ہوئے پاکستان نے یمن کی جنگ میں شرکت سے انکار کر دیا تھا۔ لیکن اس دوران نواز حکومت نے سعودی عرب کے تحفظات دور کرنے کے ایران اور قطر کے ساتھ ساتھ واجبی تعلقات رکھے اور یوں کسی حد تک سعودی ناراضی رفع ہو گئی۔
2018 میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہونے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے بھی متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا لیکن دوسری جانب عمران خان کی طرف سے سعودی عرب کے مخالف سمجھے جانے والے ممالک ترکی، ایران، قطر اور ملائیشیا کے ساتھ مل کر نیا بلاک تشکیل دینے کی کوششوں نے سعودی عرب کو پاکستان سے بہت دور کر دیا۔ یاد رہے کہ 2018 میں جب عمران خان نے حکومت سنبھالی تو پاکستان کی معاشی صورت حال اور قرضوں کی ادائیگی سے متعلق مشکلات سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب نے پاکستان کو تین ارب ڈالر کا نہ صرف قرضہ دیا بلکہ اتنی ہی قیمت کا ادھار تیل فراہم کرنے کا بھی وعدہ کیا۔
2019 میں جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان کا دورہ کیا تو دونوں ممالک کے سربراہان کی جانب سے بڑی گرم جوشی کا مظاہرہ کیا گیا اور محمد بن سلمان نے تو خود کو پاکستان کا سفیر ہی کہہ ڈالا۔ اس دوران عمران خان نے شہزادہ سلمان کو خوش کرنے کے لئے ان کی گاڑی بھی ڈرائیو کی۔ بعد ازاں عمران خان سعودی عرب کے دورے پر گئے تو شہزادہ سلمان نے انہیں دیگر ممالک کے دورے کے لیے اپنا ذاتی جہاز عملے سمیت دے دیا۔ لیکن جب عمران خان نے اس جہاز میں سوار ہو کر ترکی کا رخ کیا تو شہزادہ سلمان شدید ناراض ہو گئے اور فنی خرابی کی آڑ میں اپنا جہاز واپس منگوا لیا۔
لیکن جب انڈیا نے اپنے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حثیت ختم کی تو پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے او آئی سی کے پلیٹ فارم سے متوقع سپورٹ نہ مل سکی جس کا گلہ وزیر خارجہ شاہ محمود نے قریشی ایک ٹی وی انٹرویو میں کیا۔ قریشی نے سعودی عرب کو مسئلہ کشمیر پر مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی کا اجلاس نہ بلانے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس کے بعد ہی سعودیہ کی جانب سے قرض کی فوری واپسی کا مطالبہ سامنے آیا۔
پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کا کہنا ہے کہ پاکستان سعودی عرب تعلقات میں تبدیلی تو آئی ہے لیکن اس تبدیلی کی وجہ کوئی ایک ملک نہیں بلکہ دنیا کی بدلتی ہوئی صورت حال ہے۔ امریکی کرنسی کی قدر کم ہو رہی ہے، چین ابھر رہا ہے، دنیا میں طاقت کے نئے مرکز بن رہے ہیں، بہت سے مسلم ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا ہے، امریکہ میں نئی حکومت آنے سے کچھ تبدیلی متوقع ہے جبکہ ایران کے ساتھ کشیدگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے تو ایسی صورت حال میں یہ تواقع نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان کے تعلقات بھی ایک جیسے رہیں گے۔معید یوسف کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ پاکستان سعودی عرب کے تعلقات جو ستر سال سے ہیں ویسے ہی رہیں، ان میں تبدیلی آئے گی اور اگلے کچھ ماہ تک پاکستان سعودی تعلقات کا توازن خراب نظر آئے گا۔ سعودی عرب کی جانب سے قرضے کی جلد ادائیگی کے مطالبے سے متعلق معید یوسف کا کہنا ہے کہ سعودی عرب ایک خود مختار ملک ہے اور انھوں نے فیصلہ کیا کہ اس وقت ہمیں یہ پیسے پاکستان سے واپس چاہیں تو پاکستان نے اسی وقت اس قرض کی ادائیگی کر دی۔ معید یوسف کا کہنا ہے کہ پاکستان سعودی عرب تعلقات میں کچھ معاملات میں اتار چڑھاؤ تو رہے گا۔کچھ معاملات پر ان کے ساتھ ہمارا اتفاق ہوگا اور کچھ پر ایسا نہیں ہوگا۔
لیکن پاک سعودی تعلقات میں خرابی کا خمیازہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی ہنرمندوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کا شمار بیرونِ ملک نوکریوں کے متلاشی پاکستانیوں کے پسندیدہ ممالک میں ہوتا رہا ہے۔ اس وقت بھی لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں تاہم اب اس تعداد میں کمی آ رہی ہے اور وہاں مقیم پاکستانی مشکلات کا شکار ہیں۔ آج حالات یکسر مختلف ہو چکے ہیں اور بدقسمتی سے اس کا ادراک تحریک انصاف حکومت کو نہیں ہو سکا۔ اگر صورتحال یہی رہی ت اگلے برس سے جہاز بھر بھر کر سمندر پار پاکستانیوں کو بادل نخواستہ ویلکم کرنا پڑے گا۔ سعودی عرب میں کئی برس سے مقیم پاکستانیوں کا ماننا ہے کہ اب یہ ملک ہمارے لیے سمٹ رہا ہے۔ یہاں مزدوری کرنے والے زیادہ تر پاکستانی ہیں۔ بنگالی شہری صفائی کے شعبے میں کام کر رہے ہیں اور انڈین سیلز، ریٹیل اور اکاؤنٹس کے شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ پہلے لوگ اوپن ویزا پر آتے تھے، کفالت سسٹم میں کام کرتے تھے اور اپنے کفیل کو سال بھر کی فیس دیتے تھے۔ مگر اب ایسا نہیں۔ پرمٹ پر جو لکھا ہوا ہے آپ صرف وہی کام کر سکتے ہیں اور جس نے آپ کو ملازمت پہ رکھا ہے صرف اسی کے ساتھ کام کریں گے۔ ماضی کے برعکس سعودآئزیشن کی وجہ سے 70 سے زیادہ فیصد دکانیں اور کاروبار سعودیوں کے ہاتھ میں ہیں۔ اب موبائل کی دکانوں، فرنیچر کے کاروبار، مالز میں دکانوں، گاڑیوں کی ورکشاپس اور کراکری وغیرہ کی دکانوں سے غیر ملکی ہٹ رہے ہیں۔ دوسری جانب جو بڑے ترقیاتی اور تعمیراتی منصوبے چل رہے ہیں، وہ اگلے برس تک مکمل ہو جائیں گے اور ابھی تک نئے منصوبوں کا اعلان نہیں کیا گیا۔ ایسے میں پاکستانی مزدوروں کے لیے روزگار کے مواقع ختم ہو جائیں گے اور سونے پر سہاگا یہ کہ پاکستان اور سعودیہ کے تعلقات بھی پہلے جیسے نہیں رہے لہذا خدشہ ہے کہ سعودی عرب میں کام کرنے والے لاکھوں پاکستانیوں کا روزگار ختم ہو جائے گا۔
