سعودی عرب پاک بھارت دوستی کروانے میدان میں آ گیا


معلوم ہوا ہے کہ کپتان حکومت نے بھارت کو امن مذاکرات کا پیغام ماضی قریب میں مختلف ایشوز پر ناراض سعودی قیادت کو خوش کرنے کیلئے دیا ہے جس نے دونوں ہمسایہ ممالک میں معاملات بہتر کرنے کی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے۔ باخبر سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی ایما پر ہی پاکستان اور بھارت کے مابین لائن آف کنٹرول پر سیز فائر معاہدہ کرنے کا فیصلہ ہوا۔ تاہم سفارتی ذرائع نے اس تاثر کی نفی کی ہے کہ سعودی عرب دراصل امریکہ کے ایماء پر پاک بھارت معاملات بہتر کروانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے بھارت کو مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل حل کرنے کے پیشکش بھی سعودی عرب کے ایما پر کی گئی ہے جس کا مثبت جواب آنے کی توقع ہے۔
یاد رہے کہ مودی دور حکومت میں سعودی عرب اور بھارت ایک دوسرے کے کافی قریب آئے ہیں اور اسی وجہ سے سعودی عرب نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا اس طرح ساتھ نہیں دیا جس طرح اسلام آباد کو توقع تھی۔ بھارت سے یہ قربت ہی دراصل سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات میں خرابی کا باعث بنی جسے بھارت اب دونوں ہمسایہ ملکوں میں دوستی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
اس معاملے پر بات کرتے ہوئے سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ عادل الجبیر نے اعتراف کیا ہے کہ سعودی عرب اسوقت انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل یہ بھی کہا گیا تھا کہ ونگ کمانڈر ابھینندن کی رہائی میں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا اہم کردار تھا۔ تاہم اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔ پلوامہ حملے کے فوری بعد سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پہلے پاکستان اور پھر انڈیا کا دورہ کیا تھا۔ صرف یہی نہیں بلکہ سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ عادل الجبیر نے اس وقت کی انڈیا کی وزیر خارجہ سشما سوراج سے اسلامی ممالک کی کانفرنس کے دوران گفتگو کی۔
اب ایک بار پھر سعودی عرب پاکستان اور بھارت میں تناؤ ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں سعودی نائب وزیر خارجہ جبیر نے کہا کہ سعودی عرب پورے خطے میں امن چاہتا ہے اور اس کے لیے متعدد سطح پر کوشش کرتا ہے۔عادل الجبیر نے کہا ‘ہم علاقے میں امن اور استحکام کے لیے مستقل کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ چاہے وہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین امن ہو یا لبنان، شام، عراق، ایران، افغانستان کا معاملہ ہو۔یہاں تک کہ ہم انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چاہے سوڈان میں استحکام پیدا کرنا ہو یا لیبیا میں جنگ کا خاتمہ ہو، ہم نے ہر جگہ مثبت کردار ادا کیا ہے۔
عادل الجبیر نے انٹرویو میں مزید بتایا کہ امریکہ میں اقتدار کی تبدیلی سے سعودی عرب اور امریکہ کے دو طرفہ تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط اور کثیر جہتی ہیں۔ الجبیر نے اپنے انٹرویو میں کہا ‘بائیڈن انتظامیہ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔بیرونی خطرات پر اب بھی امریکہ ہمارے ساتھ کھڑا ہے۔ ایسی صورتحال میں میں نہیں سمجھتا کہ بائیڈن کی آمد سے ہمارے تعلقات متاثر ہوں گے۔
بین الاقوامی ماہرین کے مطابق جہاں ’تنی ہوئی سفارتی رسی‘ کی وجہ سے شہزادہ سلمان نے شدت پسندی کے خلاف پاکستان کی لڑائی میں اس کی قربانیوں کی تعریف کی، وہیں انڈیا میں وزیر اعظم مودی کی اس بات سے اتفاق کرنے میں انھیں کوئی حرج نہیں تھا کہ کسی بھی طرح سے دہشت گردی کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ سعودی عرب ایران مخالف اتحاد میں پاکستان کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ انڈیا کو ایران سے دور کرنے کی حکمت عملی پر بھی کام کر رہا ہے۔‘
واضح رہے کہ 18 مارچ کے روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حل طلب مسائل پورے خطے کو غربت میں دھکیل رہے ہیں۔ پاکستان اپنے جارح پڑوسی سے سیکیورٹی چیلنجز کے باوجود ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں ہوا۔
جمعرات کو اسلام آباد میں منعقدہ نیشنل سیکیورٹی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ سیکیورٹی اخراجات بڑھانے کے لیے انسانی ترقی کی قربانی دینا پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ ماضی کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھا جائے۔ مسئلۂ کشمیر کے حوالے سے آرمی چیف جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ ہمسایوں کے ساتھ تمام تنازعات پرامن اور باوقار مذاکرات سے حل کرنا چاہتے ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت میں کشیدگی کی بڑی وجہ مسئلہ کشمیر ہے۔ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر خطے میں امن کا قیام ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ ماضی کو دفن کر کے آگے بڑھا جائے۔ لیکن با معنی مذاکرات کے لیے ہمارے ہمسائے کو سازگار ماحول پیدا کرنا ہو گا۔
خیال رہے کہ ماضی میں پاکستان کے سول اور فوجی حکام کی جانب سے تنازع کشمیر پر مذاکرات کی پیش کش پر بھارت کا یہ مؤقف رہا ہے کہ کشمیر اس کا اندرونی معاملہ ہے۔بھارت پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کا الزام لگاتے ہوئے مذاکرات کی پیش کش کو مسترد کرتا رہا ہے۔ واشنگٹن کے مڈل ایسٹ انسٹیٹوٹ سے وابستہ ڈاکٹر مارون وائن بام نے کہا ہے کہ پاکستانی سویلین اور ملٹری قیادت کی طرف سے بھارت کے ساتھ امن مذاکرات کی باتیں خوش آئند ہیں۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ یہ کہنا کہ دونوں ممالک تنازع کشمیر سے بات چیت کا آغاز کریں، حقیقت پسندانہ نہیں ہے اور یہ کہ دونوں ممالک کو پہلے آسان موضوعات پربات کرنی ہو گی۔
واشنگٹن کے ووڈرو ولسن سینٹر کے ایشیا پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل کوگل مین وائن بام کی بات سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے تناظر میں کشمیر سے بات کرنے کو کچھ نہیں ہے۔ ان کے بقول اگر پاکستان اور بھارت تجارت جیسے موضوع پر بات کرنا شروع کر دیں تو یہ اس سلسلے میں ایک اچھا نتیجہ سمجھا جائے گا۔
پاکستانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی طرف سے بھارت کو مثبت سگنل دیے جا رہے ہیں اور بھارت میں بھی کچھ ایسے افراد موجود ہیں جو بات چیت کے ذریعے تمام مسائل حل کر کے دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات چاہتے ہیں۔پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان کہتے ہیں کہ پاکستان کی طرف سے حالیہ دنوں میں دیے جانے والے بیانات کوئی پالیسی شفٹ نہیں بلکہ یہی پاکستان کی پالیسی ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ امن چاہتا ہے اور مذاکرات چاہتا ہے لیکن بھارت کی طرف سے کشمیر میں جو اقدامات کیے گئے ہیں جب تک انہیں واپس نہیں لیا جاتا اس وقت تک بھارت سے سنجیدہ بات چیت نہیں ہو سکتی۔
سیاسی تجزیہ کار رسول بخش رئیس کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں سیز فائر معاہدے کے حوالے سے جو دونوں ممالک کا مشترکہ بیان سامنے آیا تھا اس کے بارے میں بھی کہا جارہا ہے کہ اس میں بیک ڈور ڈپلومیسی کی گئی۔اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی حد تک وزیرِاعظم اور آرمی چیف دونوں بات چیت چاہتے ہیں لیکن بھارت کو بھی مثبت پیش رفت دکھانا ہو گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button