سعودی عرب کا گوادر میں آئل ریفائنری لگانے سے انکار

سعودی عرب نے گوادر میں تعمیر کیےجانے والے 10 ارب ڈالرز کے آئل ریفائنری منصوبے سے پیچھے ہٹتے ہوئے اسے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی منتقل کرنے سے مشروط کر دیا ہے۔ سعودی عرب کے اس فیصلے سے یہ تاثر مزید مستحکم ہوتا ہے کہ گوادر بھاری بینالاقوامی سرمایہ کاری کے لحاظ سے اپنی اہمیت کھورہا ہے جس کی بنیادی وجہ وہاں پر امن عامہ کی بگڑتی صورت حال بتائی جا رہی ہے۔ تاہم سفارتی ذرائع اس سعودی فیصلے کی وجہ پاک چین سی پیک پراجیکٹ میں ایران کی شمولیت کو قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے ایرانی بندرگاہ چاہ بہار کو سی پیک سے منسلک کرنے پر سعودی عرب ناراض ہو گیا ہے اور گوادر کے آئل ریفائنری منصوبے میں سرمایہ کاری سے انکاری ہو گیا ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پاور اینڈ پٹرولیم تابش گوہر نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب اب گوادر میں آئل ریفائنری کی تعمیر میں دلچسپی نہیں رکھتا اور اس نے کراچی کے قریب پیٹرو کیمیکل کمپلیکس میں آئل ریفائنری تعمیر کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئندہ پانچ سال میں 2 لاکھ بیرل یومیہ کی صلاحیت کی حامل ایک اور آئل ریفائنری بھی پاکستان میں تعمیر کی جائے گی۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ سعودی عرب کا گوادر میں آئل ریفائنری کی تعمیر سے انکار اس بات کا عکاس ہے کہ وہاں بنیادی ڈھانچے کی کمی ہے اور بین الاقوامی سرمایہ کار وہاں سرمایہ لگانے کے بارے میں پر یقین نہیں ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گوادر میں آئل ریفائنری لگانا اسی صورت ممکن ہے جب 600 کلو میٹر لمبی پائپ لائن تعمیر کی جائے جو گوادر خو کراچی سے جوڑے۔ ایسا کیے بغیر گوادر سے بذریعہ سڑک تیل کی پاکستان کے مختلف حصوں میں منتقلی بہت مہنگی کام ہو گا۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ موجودہ صورت حال میں گوادر کے انفراسٹرکچر مسائل آئندہ 15 برس میں بھی حل ہوتے نظر نہیں آرہے۔ ذرائع نے یہ عندیہ بھی دیا کہ پاکستان کے روس کے ساتھ توانائی کے شعبے میں ہونے والے مذاکرات بھی سعودی عرب کے مذکورہ فیصلے کی وجہ ہوسکتے ہیں۔ ماہرین کا بھی ماننا ہے کہ گوادر میں انفراسٹرکچر کی کمی اور سیکورٹی کے مسائل آئل ریفائنری کے قیام میں رکاوٹ ہیں۔
واضح رہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے 2019 میں پاکستان کے دورے کے دوران 20 ارب ڈالرز سے زائد کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔ جنوری 2019 میں اس وقت کے وزیرپیٹرولیم غلام سرور خان نے بتایا تھا کہ سعودی عرب گوادر میں آئل ریفائنری اور پیٹروکیمیکل کمپلیکس میں 10 ارب ڈالرسرمایہ کاری کرےگا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ گوادر میں کل 88 ہزار ایکڑ کے رقبے پر آئل سٹی تعمیر کرنے کی تجویز دی ہے جہاں 2 سے 3 لاکھ ٹن یومیہ تیل صاف کرنے کی گنجائش ہوگی۔ بتایا گیا تھا کہ گوادر آئل سٹی منصوبے کا ماسٹر اسی سال کے آخر تک مکمل کر لیے جانے کا امکان ہے۔ تب کہا گیا تھا کہ گوادر آئل ریفائنری کا منصوبہ ملک کی تاریخ میں توانائی کے شعبہ کا سب سے بڑا منصوبہ ہو گا۔ اس منصوبے کی تکمیل سے پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے معاملے میں بہت حد تک خود کفیل ہو جائے گا۔ منصوبے سے پاکستان پیٹرولیم مصنوعات زیادہ سے زیادہ ذخیرہ کر سکے گا۔ زیادہ ذخائر ہونے سے پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام آئے گا، جو ملک کی معیشت کیلئے مثبت نتائج کا باعث بھی بنے گا۔ دوسری جانب سعودی عرب نے یقین دہانی کروائی تھی کہ ان کے ملک کی جانب سے پاکستان میں 10 ارب ڈالرز مالیت کی آئل ریفائنری منصوبے پر جلد باقاعدہ کام کا آغاز ہوگا، لیکن بعد ازاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے کشمیر کے معاملے پر ایک سعودی مخالف بیان جاری ہونے کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات سرد مہری کا شکار ہو گئے تھے۔ اسی دوران سعودی عرب نے گوادر میں آئل ریفائنری قائم نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا جس سے اب حکومت پاکستان کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ یہ سب ہونے سے پہلے سعودی فرمانروا پاکستانی آئل ریفائنری کے لیے 10 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کی منظوری دے چکے تھے۔ سعودی فرمانروا شاہ سلمان کی زیر صدارت گزشتہ سال ہوئے اجلاس میں پاکستان میں آئل ریفائنری کی تعمیر پر غور و فکر کے بعد اس کی تعمیر کے آغاز کی منظوری دے دی گئی تھی۔ اسکے بعد پچھلے برس منصوبے پر پیش رفت کیلئے سعودی حکومت کے ایک وفد کی پاکستان آمد بھی ہوئی تھی۔ اس منصوبے کے تحت سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے ساحلی شہر، سی پیک کیلئے سب سے اہم شہر گوادر میں اربوں ڈالرز کی لاگت سے آئل ریفائنری تعمیر کیے جانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ گوادر آئل ریفائنری منصوبے کے لئے تکنیکی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا تھا۔ تاہم اب بتایا گیا ہے کہ سعودی کمپنی آرامکو نے گوادر میں آئل ریفائنری تعمیر کرنے سے معذرت کر لی۔ آرامکو نے گوادر کی بجائے کراچی یا حب میں آئل ریفائنری کی تعمیر کی تجویز دی ہے، تاہم اس حوالے سے فی الحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
تاہم سوال یہ ہے کہ اس منصوبے کے اعلان کے اڑھائی سال بعد سعودی عرب نے اس میگا پراجیکٹ سے ہاتھ کیوں کھینچ لیا ہے؟ سفارتی ذرائع کا کہنا یے کہ اس کی ایک بڑی وجہ پاکستان اور چین کا ایران کو سی پیک میں شامل کرنا ہے جبکہ سعودی عرب کے نہ تو ایران کے سفارتی تعلقات ہیں اور دشمنی کی صدیوں پرانی جڑوں کی وجہ سے دونوں ازلی حریف بھی سمجھے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب، ایران کے فائدے کو اپنا نقصان سمجھتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور چین کے ایران کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد ایرانی بندرگاہ چاہ بہار کو سی پیک سے منسلک کرنے کے اعلان کے بعد سعودی عرب نے گوادر میں سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم بعض اطلاعات کے مطابق اب گوادر میں آئل ریفائنری کے لئے پاکستان ہمشہ کی طرح چین سے مدد کی درخواست کرے گا اور ممکن ہے کہ چین سی پیک منصوبوں میں 62 ارب ڈالر کی بھاری سرمایہ کاری کے ساتھ 10 ارب ڈالر کی آئل سٹی بھی تعمیر کرے۔

Back to top button