سعودی ولی عہد بھارت سے پہلے پاکستان کا دورہ کرینگے؟

پاکستان اس ہفتے کے آخر میں G-20 سربراہی اجلاس میں شرکت کیلیے بھارت کا سفر کرنے والے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے پاکستان کے دورے کی کوششیں کر رہا ہے، دفترخارجہ سعودی ولی عہد کے اس ممکنہ مختصردورے کے متعلق کچھ بتانے سے گریزاں ہے تاہم وزیراعظم دفترکے ذرائع نے یہ امکان مسترد نہیں کیااور بتایا “دورے کے حوالے سے ابھی تک کچھ باضابطہ طے نہیں ہوا لیکن اشارے مل رہے ہیں کہ سعودی ولی عہد دورہ بھارت کے دوران پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں”۔

تاہم سعودی ولی عہد کے پاکستان کے دورے بارے دونوں طرف سے تصدیق نہیں ہوئی کیونکہ امکان ہے دونوں فریقین اس دورے کو آخری لمحات تک پردے میں رکھنا چاہتے ہیں تاہم اگر یہ دورہ عملی شکل اختیار کر گیا تو یہ چند گھنٹوں کیلئے ہو گا۔ پاکستان کی خواہش ہے سعودی ولی عہد اسلام آباد کا دورہ کریں، چاہے چند گھنٹوں کیلئے، لیکن مقصدممکنہ عوامی ردعمل سے بچنا ہے۔حکام کوخدشہ ہے اگر سعودی حکمران بھارت کا سفر کرتے ہوئے پاکستان کا دورہ چھوڑ دیتے ہیں تو عوامی ردعمل سامنے آئے گا۔ اس صورتحال میں یہ اور بھی اہم ہو گیا ہے کہ محمدبن سلطان پاکستان کا دورہ کریں۔ دوسرااہم پہلو ،جس کی وجہ سے پاکستان اس دورے کیلئے زور دے رہا ہے کیونکہ پاکستان سعودی عرب کو اپنے اقتصادی بحالی کے منصوبے کا کلیدی کھلاڑی سمجھتا ہے۔ پاکستان نے خاص طور پر خلیجی ممالک سے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کیلئے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل قائم کی ہے۔ذرائع کے مطابق سعودی ولی عہد کا دورہ اس مقصد میں مددگار ثابت ہوگا۔

خیال رہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کے باقاعدہ سفارتی تعلقات کا آغاز مارچ 1953 میں ہوا جب پاکستان کے تیسرے گورنر جنرل غلام محمد نے سعودی عرب کا دورہ کیا۔ پاکستان میں سعودی سفارتخانہ ہر سال مارچ میں دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات کی سالگرہ منانے کے لیے تقریبات کا احترام کرتا ہے جو دونوں ملکوں کے برادرانہ تعلقات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی تاریخ قیام پاکستان سے بھی پہلے کی ہے۔ سنہ 1943 میں جب بنگال میں قحط پڑا تو شاہ سعود بن عبدالعزیز نے قائداعظم کی اپیل پر غیر منقسم ہندوستان کے لوگوں کے لیے امداد بھجوائی ۔

سنہ 1946 میں شہزادہ فیصل بن عبدالعزیز نے اقوام متحدہ کے نیویارک میں واقع ہیڈکوارٹر میں مسلم لیگ کے وفد کے لیے بین الاقوامی تعاون کا اہتمام کیا۔ قیام پاکستان کے بعد سعودی عرب پاکستان کو تسلیم کرنے والے اولین ملکوں میں سے ایک تھا۔سنہ 1953 میں دونوں ملکوں کے درمیاں دوستی کی معاہدے پر دستخط کئے گئے۔ سنہ 1965 کی جنگ میں سعودی عرب نے پاکستان کا ساتھ دیا اور پھر سنہ 1969 میں دونوں ملکوں نے پہلے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔سقوط ڈھاکہ کے وقت بھی سعودی عرب نے پاکستان کی حمایت کی اور بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے میں وقت لیا۔ پاک سعودی تعلقات کے ضمن میں ذوالفقار علی بھٹو اور شاہ فیصل بن عبدالعزیز کا زمانہ بہت اہمیت کا حامل ہے جب سنہ 1974 میں پاکستان نے پہلی اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد کیا۔

سنہ 1970 کی دہائی ہی میں پاکستانی کارکنان نے بڑی تعداد میں بغرضِ ملازمت سعودی عرب کا رخ کیا۔ 80 کی دہائی میں دونوں ملکوں نے سوویت یونین کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا اور سنہ 1982 میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ ہوا جس کے تحت پاکستان سعودی عرب کو دفاعی تربیت اور دفاعی سازوسامان کی تیاری میں معاونت فراہم کرنی تھی۔

سنہ 1989 میں جب عراق نے کویت پر حملہ کیا اور سعودی عرب کو اپنے بارڈرز پر دفاعی خطرات کا سامنا کرنا پڑا تو اس وقت پاکستان نے فورا اپنی افواج سعودی عرب بھجوائیں۔سنہ 1998 میں ایٹمی دھماکوں کے بعد جب پاکستان بہت سخت معاشی مشکلات کا شکار ہوا تو ان حالات میں سعودی عرب نے پاکستان کی خام تیل اور دیگر ذرائع سے بھرپور مدد کی۔سنہ 2019 میں پاکستان کے شدید معاشی اور مالی بحران کے دوران جب پاکستان نے آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر قرض کی درخواست کی تو اس سے قبل سعودی عرب نے پاکستان کو 3 ارب ڈالر قرض اور 3 اعشاریہ 2 ارب ڈالر ادھار تیل کی صورت میں مدد فراہم کی۔

فروری 2019 میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کے دورے آئے اور 20 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان کیا جس میں 10 ارب ڈالر کی لاگت سے گوادر میں آئل ریفائنری کا قیام بھی شامل تھا۔ سنہ 2022 میں وزیراعظم بننے کے بعد میاں شہباز شریف نے سب سے پہلے سعودی عرب کا دورہ کیا اور اس دورے کے بعد سعودی عرب نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں تین ارب ڈالر دیپازٹ جمع کروائے جس کے بعد پاکستان کو آئی ایم ایف سے ایک اعشاریہ 2 ارب ڈالر کی امداد ملی۔ اسی دوران شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے پاکستان کی معیشت کی بہتری کے لیے ایک ارب ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔ جنوری 2023 میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے سلسلے میں جنیوا میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں سعودی عرب نے پاکستان میں سیلاب کی تباہی سے ہونے والے نقصانات کے تناظر میں ایک ارب ڈالر مزید سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔ اس وقت 10 لاکھ پاکستانی ورکرز سعودی عرب میں کام کر رہے ہیں جو سالانہ 4 ارب ڈالر ترسیلات زر پاکستان بھجواتے ہیں۔

ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن 2030 کے تحت پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کیے گئے ہیں جن میں پاکستانی کارکنان کی سعودی عرب میں جاری بڑے منصوبوں پر ملازمت بھی شامل ہے۔سعودی عرب نے قرض اور خام تیل کی قیمت کی مؤخر ادائیگی کے ذریعے ہمیشہ پاکستان کی معیشت کو سہارا دیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرت کے تعلقات ہر دور اور ہر زمانے میں مضبوط رہے ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیاں دفاعی تعاون کی بھی ایک لمبی تاریخ ہے۔

Back to top button