سفارتی تعلقات کی بحالی،سعودی عرب نےاسرائیل کے سامنے شرط رکھ دی

شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی صرف اُسی صورت ممکن ہے جب اسرائیل ایک نارمل ریاست کی طرح بین الاقوامی قوانین کے مطابق طرز عمل اختیار کرے اور فلسطینی مسئلے کا منصفانہ حل سامنے آئے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق شہزادہ ترکی الفیصل دیگر سعودی حکام کے برعکس اسرائیلی میڈیا کو انٹرویو دینے سے نہ صرف کترائے نہیں بلکہ اپنے مؤقف کو بیان کیا۔
انھوں نے کہا کہ صیہونی ریاست کو تسلیم کرنا تو دور کی بات، سعودی عرب اس وقت اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر بھی غور نہیں کر رہا ہے۔
اُنھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات اس وقت تک قائم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی مسئلے کا حل دو ریاستی فارمولے کے تحت طے نہیں ہو جاتا۔
شہزادہ ترکی الفیصل نے مزید کہا کہ اگر اسرائیل بین الاقوامی قوانین کو تسلیم کرے اور ان پر عمل کرے تو پھر سعودی عرب اس کے ساتھ معمول کے تعلقات پر غور کر سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ سعودی مؤقف میں نہ کوئی تبدیلی آئی ہے اور نہ کوئی ابہام ہے کہ آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام ہی کسی بھی ممکنہ پیش رفت کی بنیاد ہے۔
