سفری موبائل ایپ ’’کریم‘‘ تنقید کی زد میں کیوں آگئی؟

سفری سہولیات فراہم کرنے والی آن لائن موبائل ایپ ’’کریم‘‘ کی جانب سے ایک ٹوئٹ میں ’پروگرام تو وڑ گیا‘ کا جملہ ٹوئٹ کرنے کے بعد صارفین نے اس پر تنقید کی اور ٹوئٹر پر کریم کا نام ٹاپ ٹرینڈ میں بھی آ گیا، کریم کے ٹوئٹر ہینڈل پر 14 فروری کو مختصر ٹوئٹ کی گئی کہ ’پروگرام تو وڑ گیا‘ اور بعد ازاں ٹوئٹ کو ڈیلیٹ کر دیا گیا، تاہم تب تک ہزاروں صارفین اسے ری ٹوئٹ کر چکے تھے۔ٹوئٹ کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے کریم پر تنقید کی گئی اور الزام لگایا گیا کہ آن لائن سفری سہولیات فراہم کرنے والی کمپنی پہلے بھی اس طرح کی حرکتیں کرتی رہی ہے اور یہ سیاسی ایجنڈے پر کام کرتی رہی ہے۔ساتھ ہی ن لیگ کی جانب سے کریم کی ٹوئٹ کو شرمناک بھی قرار دیا، جس کے بعد بعض ن لیگ رہنمائوں نے بھی رائیڈر کمپنی کے خلاف ٹوئٹس کیں۔رانا ثنا اللہ نے بھی کریم کے خلاف ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ چوںکہ آج کل ہر کوئی ان ڈرائیو کو استعمال کر رہا ہے اور کوئی اوبر کو لیکن کریم کو استعمال کوئی نہیں کر رہا، اس لیے کمپنی ایسی حرکتیں کر رہی ہے، سفری کمپنی فرسودہ روایات کے تحت اپنی مارکیٹنگ کر رہی ہے، ان کی طرح دیگر صارفین نے بھی رائیڈ شیئرنگ کمپنی کے خلاف ٹوئٹس کیں اور اس کا نام ٹاپ ٹرینڈ میں بھی آگیا۔خیال رہے کہ کریم کی ٹوئٹ میں لکھا گیا پروگرام تو وڑ گیا کا جملہ پہلی بار پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما اور وکیل شیر افضل مروت نے 28 ستمبر 2023 کو اردو پوائنٹ کے صحافی کو دیئے گئے انٹرویو میں استعمال کیا تھا۔شیر افضل مروت سے صحافی نے سوال کیا تھا کہ گزشتہ شب انہوں نے پی ایم ایل این کے سینیٹر عفان اللہ خان کے ساتھ جاوید چوہدری کے ٹاک شو کل تک میں کیوں لڑائی کی تھی؟ ساتھ ہی صحافی نے ان سے سوال کیا تھا کہ لڑائی کے بعد پروگرام جاری رہا یا نہیں؟ اس پر شیر افضل نے کہا تھا کہ، نہیں، نہیں پروگرام کہاں جاری رہا، پروگرام تو وڑ گیا۔ان کا یہ جملہ کافی وائرل ہوا تھا اور اس پر اب تک ملک بھر میں میمز بنائی جاتی ہیں جبکہ اسے سیاسی طور پر بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔رہنما مسلم لیگ ن مائزہ حمید نے کہا کہ اپنے موبائل سے کریم کی ایپ ڈیلیٹ کر دیں اور اس کا اسکرین شاٹ میرے ساتھ شیئر کریں، صحافی علی رضا نے لکھا کہ آن لائن ٹیکسی سروس کریم کا ٹوئٹر ہینڈل اس سے پہلے بھی ایسے سیاسی ٹوئٹ کر کے ڈلیٹ کر چکا ہے، انہیں سیاسی ورکروں کے جذبات کا خیال رکھنا چاہئے۔پرویز سندھیلا لکھتے ہیں کہ ن لیگ کے ورکروں کے جذبات کی تضحیک کرنے پر کریم ٹیکسی سروس کا بائیکاٹ کریں، ایک صارف نے لکھا کہ میاں نواز شریف سے محبت کرنے والے اس ایپ کو ہمیشہ کے لئے موبائل سے ڈیلیٹ کر دیں۔
