سلائی مشین سے جائیدادیں بنانے والی علیمہ خان کی کہانی


وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ اور شوکت خانم ہسپتال کی ڈائریکٹر علیمہ خان کا دعویٰ ہےکہ انہوں نے سلائی مشینوں کی کمائی سے اندرون اور بیرون ملک جائیدادیں بنائیں اور انکی تمام جائیدادیں ظاہرکی ہوئی ہیں۔ لیکن اپوزیشن رہنمائوں کا مؤقف ہے کہ یہ جائیدایں دراصل عمران خان کی ہیں کیونکہ سلائی مشینوں کے بزنس سے اتنا پیسہ کمانا ناممکن ہے۔ اپوزیشن کا یہ بھی الزام ہے کہ عمران خان نے اپنے خیراتی ادارے شوکت خانم کینسر ہسپتال سے پیسے نکال کر یہ جائیدادیں بنائی ہیں۔
واضح رہے کہ جب 2019 میں پاکستانیوں کی بیرون ملک جائیدادوں اوراکاؤنٹس سے متعلق کیس میں وزیراعظم کی ہمشیرہ علیمہ خان سپریم کورٹ میں پیش ہوئی تھیں تو انہوں نے صحافیوں کے سوالات کے جواب میں دعویٰ کیا تھا کہ میں نے امریکہ اور دبئی سمیت اپنی تمام جائیدادیں ظاہر کی ہوئی ہیں۔ جب ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ کیا آپ نے مشینوں کی کمائی سے یہ ساری جائیدادیں بنائیں؟ تو انہوں نے کہا کہ جی ہاں ، پاکستان میں بہت سی خواتین سلائی مشین سے روزگار کما رہی ہیں، لیکن میری مشینوں کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ علیمہ خان نے مزید کہا کہ میری ویلتھ اسٹیٹمنٹ چیک کر لیں، میں بیس سال سے یہی کام کر رہی ہوں، آپ ریکارڈ چیک کرلیں تمام چیزیں ریکارڈ پر موجود ہیں، افسوس کی بات ہے کہ جب کوئی خاتون کام کرتی ہے تو ہم اس کی سلائی مشینوں کا بھی مذاق اڑاتے ہیں۔
وزیراعظم کی ہمشیرہ کا کہنا تھا کہ سلائی مشینیں ہماری ایکسپورٹ کا بڑا حصہ ہیں اور لاکھوں لوگ یہ کام کررہے ہیں، پاکستان میں فارن ایکسچینج ایکسپورٹ سے آرہا ہے اور میرے معاملے میں سلائی مشینوں سے آ رہا ہے۔ تب ایک اور صحافی نے سوال کیا تھا کہ آپ کو اپوزیشن کی جانب سے عمران خان کا بے نامی دار ٹھہرایا جا رہا ہے؟ اس پر علیمہ خان نے جواب دیا کہ میں اس حوالے سے اپنا بیان دے چکی ہوں، مجھے عمران خان کی طرف سے نہیں بلکہ والدین کی طرف سے حصہ ملا ہے۔ واضح رہے کہ دبئی میں پاکستانیوں کی جائیدادوں کے معاملے پر سپریم کورٹ کی ہدایت پر قائم کمیٹی نے 893 مالکان کو نوٹس بجھوائے تھے جن میں سے 450 افراد نے جائیدادوں کی ملکیت تسلیم کرلی تھی جب کہ 443 افراد نے اس حوالے سے کوئی جواب جمع نہیں کرایا تھا۔ بعدازاں اس قسم کی اطلاعات سامنے آئیں کہ وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خانم نے دبئی میں اپنی جائیدادوں کے حوالے سے ایف بی آر کو ٹیکس جمع کرا دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے دبئی میں اپنے پرتعیش فلیٹ ‘دی لافٹس ایسٹ۔ 1406’ کی 25 فیصد تخمینی مجموعی قیمت اور 25 فیصد جرمانے کی رقم ٹیکسوں کی مد میں جمع کروائی۔
بتایا جارہا ہے کہ علیمہ خان کی پراپرٹی کی مالیت تقریباً 7 کروڑ 40 لاکھ روپے ہے اور ان کا فلیٹ دبئی کے قلب میں برج خلیفہ سے متصل ہے جو انتہائی مہنگا علاقہ ہے۔ متعلقہ حکام کے مطابق ٹیکسوں اور جرمانے کی شکل میں علیمہ خان پر دُہرا جرمانہ عائد کیا گیا تھا اور ایف بی آر اور ایف آئی اے حکام سے معاملات طے کرنے کے لیے علیمہ خانم کی قانونی ٹیم کو چار ہفتے لگے۔علیمہ خان نے ایف آئی اے کو دیئے گئے اپنے حلفیہ بیان میں بتایا تھا کہ مذکورہ فلیٹ بیرون ملک کاروبار سے حاصل آمدنی سے خریدا گیا۔
یاد رہے کہ علیمہ خان بہنوں میں عمران کے سب سے قریب ہیں۔ وہ شوکت خانم ہسپتال اور نمل یونیورسٹی دونوں کے بورڈز میں شامل ہیں اور اکثر نمل کے لیے فنڈز اکٹھے کرنے بیرون ملک کا سفر بھی کرتی رہتی ہیں۔ عمران خان چاروں بہنوں کا اکلوتا بھائی ہونے کے ناطے ان کی محبتوں اور شفقتوں کا مرکز بھی ہیں۔ کرکٹ ہیرو بنے تو گھر والوں کو وہ اور بھی بڑے لگنے لگے، سیاست میں قدم جمائے تو پیار کرنے والی بہنیں محافظانہ کردار ادا کرنے لگیں۔ کبھی کبھی تو یہ بہنیں سرپرستی اور حفاظت کرنے والے کردار سے بڑھ کر ان کے معاملات میں مداخلت بھی کرتی رہی ہیں۔روبینہ جو سب سے بڑی بہن ہیں انہوں نے اور علیمہ خان نے بنی گالہ میں بھائی عمران کے ساتھ ہی گھروں کے لیے زمینیں بھی خرید رکھی ہیں جہاں دونوں نے چھوٹی انیکسیاں بھی بنا رکھی ہیں۔ روبینہ نے شادی نہیں کی جبکہ علیمہ خان کے دو جوان بیٹے ہیں جبکہ خاوند انجینیئر سہیل امیر خان ایئرفورس کے ریٹائرڈ آفیسر ہیں۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کے مطابق علیمہ خان اپنے متحرک سیاسی اور سماجی کردار کے حوالے سے عمران خان کی زندگی کے بارے میں سب سے زیادہ دخل اندازی کا الزام سہتی رہی ہیں۔ جمائما گولڈ سمتھ سے شادی کے دنوں میں بہنوں پر مداخلت کا الزام نہیں لگا البتہ جمائما نے عمران خان سے اصرار کر کے انہیں لاہور کے زمان پارک میں واقع خاندانی گھر سے پہلے اسلام آباد کے ای سیون پھر ڈپلومیٹک انکلیو میں واقع اپارٹمنٹ میں شفٹ کروا لیا جس کے بعد بنی گالہ کی زمین خریدی گئی اور یوں وہ مشترکہ خاندانی نظام سے الگ ہوئیں۔ بعد میں جمائما اور عمران میں جو علیحدگی ہوئی اس میں وزیراعظم کی بہنوں یا خاندان کا کوئی کردار نہ تھا۔ جو بھی مسئلہ تھا ان دونوں میاں بیوی کے درمیان ہی تھا۔ مگر ریحام خان سے عمران خان کی شادی پر بہنوں کا سخت مخالفانہ ردعمل سامنے آیا اور عام طور پر گھر کے اندر چھپی رہنے والی لڑائی سرعام زیر بحث آتی رہی۔اسی زمانے میں علیمہ خان نے ریحام خان کو کئی خطابات بھی دیے اور انہیں اپنی ناراضگی اور گلے شکووں پر مبنی کئی ایس ایم ایس اور واٹس ایپ میسیج بھی کیے۔
ریحام خان کی کہانی پہ یقین کیا جائے تو وہ کہتی ہیں کہ جب انہوں نے عمران خان کو علیمہ خان کی گالیوں اور پیغامات کے بارے میں بتایا تو عمران کا فوری ردعمل یہ تھا کہ علیمہ نئے پاکستان کی فاطمہ جناح بننا چاہتی ہے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق اگر اس فقرے کی تشریح کی جائے تو نئے پاکستان کے بانی عمران خان اگر آج کے قائداعظم محمد علی جناح ہیں تو ان کے ساتھ جدوجہد کرنے والی بہن کی خواہش ہےکہ وہ نئے پاکستان کی فاطمہ جناح کا مقام اور مرتبہ حاصل کریں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے شاید عمران علیمہ کے اتنے قریب نہیں ہیں جتنے قائداعظم فاطمہ جناح کے قریب تھے۔ اس لیے عمران بھی نہیں چاہیں گے کہ علیمہ خان کو یہ مقام دیا جائے۔ بلکہ وزیراعظم کی حلف برداری اور بشریٰ وٹو کے ساتھ اپنی شادی جیسے دو اہم ترین مواقع پر اپنی بہنوں کو نہ بلا کر انہوں نے انکی اہمیت یا اثررسوخ کو کم سے کم ثابت کرنے کی کوشش کی۔دوسری طرف عمران خان کے مخالف علیمہ خان کو فاطمہ جناح کا مرتبہ تو کیا دیں گے وہ انھیں آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور بنانا چاہتے ہیں۔ یعنی جس طرح فریال تالپور پر مقدمات قائم ہیں مخالف چاہتے ہیں علیمہ خان پر بھی ایسے ہی مقدمات قائم ہوں اور عمران خان بھی آصف زرداری کی طرح بدنام ہوں۔ عمران کے خاندان کے کسی بھی فرد کے خلاف الزامات ثابت ہوگئے تو ظاہر ہے کہ عمران خان کے شفافیت کے دعوؤں پر بہت ہی برا اثر پڑے گا۔
عمران خان کے والد انجینیئر اکرام اللہ خان میانوالی کے نیازی جبکہ والدہ شوکت خانم بستی پٹھاناں جالندھر کی برکی پٹھان تھیں۔ شادی کے بعد انہوں نے زمان پارک لاہور میں ہی گھر بنایا جہاں شوکت خانم کی برکی فیملی پہلے ہی سے آباد ہو چکی تھی۔ اس دوران علیمہ خان نے لمز یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا بعدازاں ایک سہیلی کے ساتھ مل کر ٹیکسٹائل ایکسپورٹ کا بزنس شروع کیا جو بہت چمکا۔ سہیلی سے شراکت ختم ہوگئی لیکن کاروبار چلتا رہا۔کاروبار کے دور عروج میں انہیں ملٹی نیشنل کمپنیوں سے بھی ٹھیکے ملے اور یوں انہیں کامیاب کاروباری خاتون کہا جاسکتا ہے۔اب ان کے بزنس میں ان کے دونوں بیٹے شاہ ریز اور شیر شاہ بھی شریک کار ہیں۔ اپنے اس بزنس کے حوالے سے ان کا بیرون ملک بھی آنا جانا لگا رہتا تھا۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ دبئی کا یہ فلیٹ اسی زمانے میں خریدا گیا جب وہ ٹیکسٹائل کی برآمدات کا بزنس کر رہی تھیں۔
خاندان میں روبینہ کو احترام حاصل ہے تو علیمہ کا غصہ مشہور ہے۔ وہ اکثر اپنے موقف کا اظہار جارحانہ انداز میں کرتی ہیں۔ بشریٰ وٹو سے شادی سے پہلے ہی مشترکہ خاندانی نظام تو ختم ہو چکا تھا مگر زمان پارک کی شکل میں مشترکہ خاندانی گھر بہرحال موجود تھا۔ اس گھر کا انتظام و انصرام عمران خان کی بہن نورین خان کے سپرد تھا۔جن کی شادی چچا زاد انجینیئر حفیظ اللہ نیازی سے ہوئی وہ اپنے بیمار والد کی دیکھ بھال اور مشترکہ گھر کی نگہبانی کے لیے اسی گھر میں مقیم رہیں۔ 2013ء میں حفیظ اللہ نیازی کے عمران سے سیاسی اختلافات ہوئے تو حفیظ اللہ الگ گھر میں منتقل ہوئے البتہ ان کے بیوی بچے زمان پارک والے گھر میں ہی مقیم رہے۔بقول حفیظ اللہ نیازی اس گھر کا خرچ وہ خود ہی چلاتے تھے۔ تاہم تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ زمان پارک والا گھر مسمار کر کے اس پر نئی تعمیر کی جا چکی ہے۔ اب کوئی بہن اس گھر میں نہ رہتی ہے اور نہ آتی جاتی ہے۔ یہ مکمل طور پر عمران خان کے زیرِ استعمال ہے۔ جہاں بشریٰ وٹو لاہور آئیں تو اس گھر کا چکر لگا لیتی ہیں۔
برصغیر پاک و ہند میں روایتی طورپر بہنیں بھائیوں پر جان چھڑکتی ہیں بھائی ایک ہو اور بہنیں چار تو محبت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ بھائی ہیرو اور پھر وزیر اعظم بن جائے تو بہنوں کو اور بھی اچھا لگتا ہے لیکن عمران خان برطانیہ میں طویل قیام کے بعد سے اپنے جذبات کے اظہار میں باقی پاکستانیوں جیسے گرم جوش نہیں۔ اسی لیے علیمہ خان ہو یا کوئی دوسری بہن وہ اس کے لیے اپنے سیاسی کیریئر کو ذرا سی زک بھی نہیں لگنے دیں گے۔ وہ شاید یہ تو چاہیں گے کہ بہن علیمہ خان کا کوئی مالی سکینڈل نہ بنے لیکن اگر انہیں کہیں سے سزا سنائی گئی تو عمران خان انہیں بچانے کے لیے آگے نہیں بڑھیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button