سلمان تاثیر کی بیٹی اپنی سابق بھابھی کیساتھ کھڑی ہو گئی

نند اور بھابھی کی ازلی دشمنی سے تو سبھی واقف ہیں مگر سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی سب سے بیٹی سارہ تاثیر نے اپنی بھابی کی طلاق کے بعد ایک ٹوئٹر پیغام میں اپنی سابقہ بھابی کی ہمت بندھائی ہے اور اپنی سوتیلی والدہ اور بھائیوں کے کردار پر بھی کھل کر تنقید کی ہے۔
یاد رہے کہ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے طالبان کی قید میں رہنے والے بیٹے شہباز تاثیر اور ان کی اہلیہ ماہین غنی کی مابین چند ماہ قبل طلاق ہو گئی تھی۔ تاہم دو سالہ بیٹی کی سنگل مدر ماہین غنی اب بھی اس صدمے سے باہر نہیں آ سکیں۔ ماہین کے سابق شوہر شہباز تاثیر کی سوتیلی بہن سارہ تاثیر نے ایک ٹویٹ کے ذریعے ماہین کی حوصلہ افزائی کی اور اس کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر اخلاقی سلوک کی کھل کر مذمت کی تو ماہین کے زخم پھر تازہ ہو گئے۔
سارہ تاثیر نے ماہین کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ اگرچہ کئی برسوں سے میرا اور تمہارا کوئی رابطہ نہیں تاہم آج بھی مجھے یاد ہے کہ تم نے کس قدر حوصلے کے ساتھ شہباز تاثیر کی طالبان کی قید سے بازیابی کا انتظار کیا۔ مجھے یاد ہے کہ کس طرح تم اپنے شوہر کی رہائی کے لیے دن رات گڑگڑا کر دعائیں کرتی تھی اور دوسری طرف ہماری سوتیلی ماں آمنہ تاثیر لال گھاگرا پہن کر لاہور سے لندن تک ہر شادی میں شریک ہوتی اور بیٹے کے اغواء کو بھلا کر ناچتی پھرتی تھیں۔
سارہ تاثیر نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا ہے کہ مجھے یہ سوچ کر بے انتہا افسوس ہوتا ہے کہ آپ کو میرے مرحوم والد سلمان تاثیر بڑے ارمان کے ساتھ اپنی بہو بنا کر لائے تھے۔ میں جانتی ہوں وہ آپ سے کتنا پیار کرتے تھے وہ آپ کو بالکل اپنی سگی بیٹیوں کی طرح چاہتے تھے۔ مجھے بے حد افسوس ہوتا ہے کہ کس طرح میری سوتیلی ماں آمنہ تاثیر اور بھائی شہباز تاثیر نے آپ کی زندگی تباہ کی، آپ کو دھکے دیکر نکالا گیا، سامان کی تلاشی لی گئی اور بے عزت کیا گیا۔
سارہ تاثیر کے ٹویٹس کے جواب میں ماہین غنی نے بھی اپنی کیفیت شئیر کرتے ہوئے خود پر بیتے حالات و واقعات کا تذکرہ کیا اور لکھا کہ اپنی طلاق کے بعد میرا انسانیت سے یقین اٹھ گیا ہے، میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ پیار کرنے والے انسان بھی ایسے کرسکتے ہیں۔ ماہین نے لکھا کہ اب وہ حقیقت کا سامنا کرنے کے لیے خود کو تیار کر رہی ہیں۔ اب میں ایک مثبت اور پرعزم زندگی گزارنا چاہتی ہوں اور میری بھرپور خواہش ہے کہ میں اپنی بیٹی کو بہترین انسان بناؤں۔ اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔
ایک جوابی ٹوئٹ میں سارہ تاثیر نے اپنی والدہ آمنہ تاثیر پر یہ الزام لگایا کہ انہوں نے شہباز تاثیر کی بازیابی کے لیے اس وقت کی حکومت سے بارہ کروڑ روپے طالبان کو بطور تاوان دینے کے نام پر حاصل کئے مگر خود ہی یہ رقم ہڑپ کر گئیں، اس نے کہا کہ کیا انھیں کوئی پوچھنے والا نہیں کہ عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ کہاں خرچ کیا۔۔۔جواباً ماہین غنی نے لکھا کہ سچ ہمیشہ سچ ہی رہتا ہے اور سچ ایک دن سامنے آ کر رہے گا۔ سب کو اپنے اعمال کا بدلہ دینا ہوگا کیونکہ اللہ سب دیکھ رہا ہے۔ ہمیں صرف صبر شکر کے ساتھ ساتھ زندگی گزارنی چاہیے۔
خیال رہے کہ چند ماہ قبل شہباز اور ماہین کی لو میرج کا ڈراپ سین ہوا۔ شہباز تاثیر کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ماہین کو اس بات پر شدید رنج تھا کہ شہباز نے اس کی وفاؤں کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے کہیں اور تعلقات استوار کر لیے تھے۔خیال رہے کہ شہباز تاثیر اور ماہین غنی کی شادی 2010 میں ہوئی تھی مگر دو سال بعد ہی شہباز طالبان کے ہاتھوں اغواء ہوگئے۔ شوہر کے اغواء کے بعد ماہین نے ایک وفا شعار بیوی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ساڑھے چار سال تک اس کی واپسی کا انتظار کیا۔ دونوں کے ہاں شادی کے چھ برس بعد 2017ء میں بیٹی کی پیدائش ہوئی جس کا نام سیرینا ایمی تاثیر رکھا گیا، رواں برس 8 جنوری کو سیرینا نے دوسری سالگرہ منائی۔
خیال رہے کہ مرحوم سلمان تاثیر نے دو شادیاں کی تھیں پہلی بیوی سے ان کی سب سے بڑی بیٹی سارہ تاثیر، بیٹا شان تاثیر اور ایک بیٹی صنم تاثیر ہے۔ ان تینوں بہن بھائیوں کے سلمان تاثیر کی دوسری بیویاں آمنہ تاثیر اور ان کے بچوں کے ساتھ شدید اختلافات ہیں کیونکہ سلمان تاثیر کی ہلاکت کے بعد آمنہ تاثیر اور اس کے بچوں نے وراثتی جائیداد پر قبضہ کر لیا تھا۔ تین سال قبل سارہ تاثیر نے اپنے ایک وڈیو بیان میں کہا تھا کہ میرے ساتھ دھوکہ اور فراڈ ہوا۔ میری وراثت میرے والد صاحب کا بلند نام اور ان کی عمر بھر کی کمائی پر ڈاکا پڑا اور شہر یار تاثیر نے دھوکے اور فراڈ سے ڈیلی ٹائم کی پبلشرز شپ اپنے نام کر لی ، سارہ تاثیر نے کہا کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب میرے والد کی موت ہوئی تھی اور ہم اس وقت غم کی حالت میں تھے، اس موقع پر میری سوتیلی ماں آمنہ تاثیر نے ایک جعلی حلف نامہ بنوایا، اس پر انہوں نے میرے، میرے بھائی شان اور میری بہن صنم تاثیر کے جعلی دستخط کرواکر ہمارا حق چھین لیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button