سلیم صافی نے کپتان کا دھمکی والا دعویٰ جھوٹا قرار دے دیا

سینئر صحافی سلیم صافی نے کہا ہے کہ اگر عمران خان یہ ثابت کردیں کہ پاکستان کو لکھا گیا دھمکی آمیز خط کسی مغرب ملک کے عہدیدار نے لکھا ہے تو میں غلام سرور خان اور شہریار آفریدی کے طرح خود کشی تو نہیں کر سکتا البتہ صحافت ضرور چھوڑ دوں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کا یہ بھونڈا دعوی سیاسی شہید بننے کی کوشش ہے کیونکہ وہ جان چکے ہیں کہ ان کا اقتدار ختم ہونے جارہا ہے لہذا وہ عوامی ہمدردیاں حاصل کرنے کی ناکام کوشش میں الٹے سیدھا شوشے چھوڑ رہے ہیں۔
یاد رہے کہ وزیر اعظم نے اتوار کے جلسے میں یہ دعوی کیا تھا کہ پاکستان میں بیٹھی کچھ قوتیں بیرونی عناصر کے ساتھ مل کر انکی حکومت ختم کرنے کی سازش کر رہی ہیں۔ وزیراعظم کا اشارہ اپوزیشن کی جانب سے دائر کردہ تحریک عدم اعتماد کی جانب تھا۔ تاہم عمران خان یہ دعوی کرتے ہوئے شاید بھول گئے کہ جب اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد دائر کی تھی تو انہوں نے ایک تقریر میں بتایا تھا کہ میں نے خدا کا شکر ادا کیا ہے اور شکرانے کے نفل بھی ادا کیے ہیں چونکہ اپوزیشن نے مجھے ایک ہی بال سے تین جماعتوں کی وکٹیں اڑانے کا موقع دے دیا ہے۔ تاہم اب جب عمران خان کو اپنی ہی وکٹ لڑنے کا یقین ہوگیا ہے تو انہوں نے اپنی ناکامی کا مدعا بیرونی طاقتوں پر ڈالنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ تاہم ایسا کرتے ہوئے انہوں نے نام لیے بغیر فوجی اسٹیبلشمنٹ کو بھی سازش کا حصہ قرار دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میں اپنے خلاف سازش کرنے والے تمام کرداروں کو اچھی طرح جانتا ہوں لیکن مصلحت کے تحت نام نہیں لے رہا تا کہ قومی مفاد پر زد نہ آئے۔
وزیراعظم کے اس دعوے کے ردعمل میں سینئر صحافی سلیم صافی نے کہا ہے کہ عمران خان ثابت کردیں کہ دھمکی آمیز خط کسی مغربی عہدیدار نے بھیجا تو میں صحافت چھوڑ دوں گا۔ ٹوئٹر پر جاری ایک پیغام میں سلیم صافی نے وزیراعظم کے خط لہرانے کی تصویر شئیر کی اور لکھا کہ ‘جھوٹ۔ جھوٹ ۔ جھوٹ۔ یہ خط نہ تو کسی امریکی نے بھیجا ہے اور نہ ہی کسی یورپی ملک کے کسی عہدیدار نے۔ اگر عمران ثابت کردیں کہ دھمکی آمیز خط کسی مغرب ملک کے عہدیدار نے بھیجا ہے تو میں صحافت چھوڑدوں گا۔’ اس سے قبل انہوں نے وزیراعظم کے خط پر فلمائے ایک پشتو گانے کی تشریح کرتے ہوئے لکھا تھا کہ
‘اس پشتو گانےکا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ ‘میرے محبوب کا خط مجھے ملا ہے، لیکن شرم کی وجہ سے اس کی تفصیل بیان نہیں کرسکتا۔ جواب میں سہیلیاں پوچھتی ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ تم خط کے مندرجات نہیں بتارہی ہو۔ صسفی کہتے ہیں کہ یہی بات قوم بھی خان سے پوچھ رہی ہے کہ اگر خط دکھایا ہے تو یہ بھی بتا دیں کہ کس نے لکھا ہے اور کیا دھمکی دی گئی ہے؟’
صافی نے کہا کہ ‘عمران خان کا یہ دعویٰ کہ امریکہ انکی حکومت ختم کرنے کی سازش کررہا ہے کچھ ایسا ہے جییسے ہمارے دوست علامہ طاہر اشرفی دعویٰ کریں کہ سعودی عرب کی حکومت ان کو وفاقی کابینہ سے نکالنے کی سازش کررہی ہے۔’ خیال رہے کہ عمران خان نے گزشتہ روز اسلام آباد پریڈ گراؤنڈ میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بیرونی پیسے کی مدد سے میری حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی، ہمیں لکھ کر دھمکی دی گئی ہے، میرے پاس خط موجود ہے اور وہ ثبوت ہے، انہوں نے خط نکال کر دکھایا بھی مگر اس میں لکھا کیا تھا اور وہ خط کس کی طرف تھا یہ نہیں بتایا۔ وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ یہ خط اصلی ہے اور اگر کوئی چیک کرنا چاہے تو میں آف دی ریکارڈ اسے دکھانے کو بھی تیار ہوں۔ تاہم بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس خط کو کسی کے ساتھ شیئر نہیں کیا جاسکتا چونکہ اس سے ملکی مفاد خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس دھمکی کو حکومت کی جانب سے فوجی قیادت کے ساتھ شئیر کیا گیا ہے تو انہوں نے کہا کہ جی ہاں، ایسا ہو چکا ہے۔
یاد رہے کہ تقریباً تین ہفتے قبل جب عمران خان کے اسلام آباد جلسے کا اعلان کیا گیا تھا تو اسے اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کے خلاف حکومتی حکمت عملی کا اہم ستون قرار دیا گیا۔ جلسے کی تاریخ قریب آنے پر وزیراعظم اور ان کی ٹیم کی طرف سے کہا گیا کہ اس جلسے میں ایک بڑا سرپرائز دیا جائے گا۔
عوامی حلقوں اور میڈیا پر ہر طرف چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں کہ وزیراعظم آخر کس کو اور کیا سرپرائز دینے لگے ہیں۔ اتوار کو ملک بھر سے آئے پی ٹی آئی کے کارکن بھی گرم موسم میں شاید ’سرپرائز‘ ہی کی امید لیےاسلام آباد کے پریڈ گروانڈ میں پہنچے تھے۔ جلسہ گاہ میں موجود صحافی بھی بہت پرامید تھے کہ آج ایک بڑا سرپرائز اور بڑی خبر ملنے والی ہے۔ تاہم جب عمران کی پونے دو گھنٹوں پر مشتمل طویل تقریر ختم ہوئی تو ہر کوئی ایک دوسرے سے پوچھ رہا تھا کہ ان کی کس بات کو ’سرپرائز‘ سمجھا جائے۔ کچھ کا خیال تھا کہ جو انہوں نے کسی بیرونی طاقت کی جانب سے دھمکی آمیز خط کا ذکر کیا ہے وہ سرپرائز تھا تاہم اس کی انہوں نے کوئی تفصیل نہیں بتائی اور صرف جیب سے ایک کاغذ نکال کر واپس رکھ لیا۔
حیرت انگیز طور پر تحریک عدم اعتماد میں کامیابی کے حوالے سے وزیراعظم نے اپنی تقریر میں کوئی دعویٰ نہیں کیا۔ انہوں نے صرف منحرف ارکان کو خبردار کیا کہ وہ تحریک عدم اعتماد میں ان کے خلاف ووٹ نہ دیں ورنہ ان کو عوام معاف نہیں کریں گے۔ عمران خان کی طویل تقریر تو بلآخر ختم ہو گئی مگر سرپرائز کے حوالے سے بحث مزید شدت پکڑ گئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق عمران کے خطاب نے جوابات سے زیادہ سوالات چھوڑے ہیں اور آنے والے دنوں میں بحث چلے گی کہ آخر خط کس نے لکھا تھا اور کیا دھمکی دی گئی تھی؟
