سلیم مانڈوی والا کے نیب پر الزامات تحقیقات میں رکاوٹ قرار

نیب نے ڈپٹی چئیرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کے الزامات کو تحقیقات میں رکاوٹ قرار دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق نیب نے ڈپٹی چئیرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کے خلاف جعلی اکاونٹس کیس کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔
نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی چئیرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کے الزامات تحقیقات میں رکاوٹ ہیں جو نیب تحقیقات میں رکاوٹ ڈالتا ہے کرپشن کا جرم کرتا ہے، سابق ایم ڈی پی آئی اے اعجاز ہارون نے 12 غیر قانونی پلاٹوں کی الاٹمنٹ کی۔
نیب کے مطابق ملزمان سلیم مانڈوی والا، اعجاز ہارون نے عبدالغنی مجید کے ساتھ مشکوک ڈیل کی، سلیم مانڈوی والا اور اعجاز ہارون نے جعلی اکاونٹ سے 14 کروڑ روپے وصول کیے، جرم کی رقم میں سے اعجاز ہارون نے 8 کروڑ اور سلیم مانڈوی والا 6 کروڑ وصول کیے۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سلیم مانڈووی والا نے جرم کی رقم کو چھپانے کےلیے مانڈوی والا بلڈرز کا اکاونٹ استعمال کیا، ادارے نے تحقیقات شروع کیں تو جرم کی رقم کو قرض ثابت بنانے کی کوشش کی گئی، سلیم مانڈووی والا نے جرم کی رقم سے ملازم عبدالقادر شوانی کے نام پلاٹس خریدے۔ نیب کے مطابق سلیم مانڈووی والا نے پلاٹس بیچ کر اسی رقم سے دوسرے ملازم کے نام شئیرز خرید لیے، سلیم مانڈوی والا نے منگلا ویو کے 30 لاکھ شئیرز 3 کروڑ روپے میں خریدے، سلیم مانڈووی والا نے اپنے دستخطوں سے ملازم کے نام شئیرز خریدے، لاکھوں شئیرز کا مالک سلیم مانڈوی والا کا ملازم طارق دراصل بےنامی دار ہے، الزامات کا جواب دینے کی بجائے سلیم مانڈوی والا بزنس کمیونٹی کے پیچھے چھپ رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button