سلیم ملک کے علاوہ اور کس کھلاڑی نے میچ فکسنگ کی؟

کرونا وباء کی وجہ سے ملک کے میدان تو ویران ہیں تاہم کرکٹ حلقوں میں ایک بار پھر 20 سال پرانے میچ فکسنگ اسکینڈل کا چرچا عام ہو چکا ہے۔ میچ فکسنگ سکینڈل دوبارہ خبروں میں آنے کے بعد جہاں تجزیہ کار پابندی لگنے کے باوجود سلیم ملک کو کرکٹ بورڈ میں کوئی ذمہ داری دینے کی مخالفت کرتے نظر آرہے ہیں وہیں میچ فکسنگ سکینڈل میں ملوث وسیم اکرم اور انضمام الحق سمیت دیگر کھلاڑیوں سے عہدے واپس لینے اور ان کیخلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔
سابق کپتان سلیم ملک کے اچانک منظر عام پر آنے اور کرکٹ بورڈ میں کوئی ذمہ داری دینے کے مطالبے پر تبصروں اور تجزیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ یاد رہے کہ نوے کی دہائی میں میچ فکسنگ کے الزامات سامنے آنے پر صدرِ پاکستان کی ہدایت پر لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس ملک قیوم پر مشتمل ایک رکنی تحقیقاتی کمیشن قائم کیا گیا تھا کمیشن نے اپنی سفارشات میں سابق کپتان سلیم ملک اور فاسٹ بالرعطاء الرحمن پر تاحیات پابندی عائد کی تھی۔ انکوائری کمیشن نے سلیم ملک کو کرکٹ سے متعلقہ کسی بھی شعبے میں کوئی بھی کردار نہ دینے کی سفارش بھی کی تھی۔ کمیشن نے سابق کپتان وسیم اکرم کے کردار کو بھی مشکوک قرار دیا تھا اور انہیں تین لاکھ روپے جرمانہ کرنے اور کپتانی سے ہٹانے کی بھی سفارش کی تھی۔ کمیشن نے وقار یونس، مشتاق احمد، انضمام الحق، اکرم رضا اور سعید انور کو بھی جرمانے کیے تھے۔ تاہم حال ہی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق کے سلیم ملک کو ایک موقع دینے کےمطالبے کے بعد ایک مرتبہ پھر جسٹس قیوم رپورٹ، میچ فکسنگ اور اس میں ملوث کردار موضوعِ بحث بن گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث کھیلوں کی سرگرمیاں معطل ہیں جس کی وجہ سے یہ پرانا معاملہ اُٹھا کر اسے زبردستی موضوعِ بحث بنایا جا رہا ہے۔ میچ فکسنگ کی یہ پرانی کہانی اب عمران خان کے ذاتی دوست وسیم اکرم کے گرد گھوم رہی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ وسیم اکرم کو ٹارگٹ کرنا چاہتے ہوں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جسٹس قیوم انکوائری رپورٹ میں جن کھلاڑیوں کو جرمانے ہوئے، ان میں سے بیشتر کرکٹ سے وابستہ رہے اور کرکٹ بورڈ میں بھی اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ لہذٰا سلیم ملک جائز شکوہ کر رہے ہیں کہ اُنہیں کرکٹ میں واپسی کا موقع کیوں نہیں مل رہا۔
دوسری طرف پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین خالد محمود کا کہنا ہے کہ سلیم ملک کا مؤقف اس حد تک بالکل درست ہے کہ وسیم اکرم سمیت میچ فکسنگ میں جن پاکستانی کھلاڑیوں کے نام سامنے آئے تھے اُنہیں کرکٹ میں دوبارہ موقع دیا گیا جو جسٹس قیوم کی سفارشات کی نفی تھی۔ سلیم ملک کے ساتھ امتیازی سلوک ہوا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اُنہیں دوبارہ موقع دیا جائے۔ خالد محمود کے بقول ایسے سابق کھلاڑی جن کا نام میچ فکسنگ یا قیوم رپورٹ میںے آیا تھا اگر وہ کرکٹ بورڈ میں موجود ہیں تو اُنہیں انکے عہدوں سے فوری برطرف کر دینا چاہیے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی جانب سے 103 ٹیسٹ میچز اور 283 ایک روزہ میچز کھیلنے والے سلیم ملک نے حال ہی میں اپنے ایک ویڈیو پیغام میں شائقین کرکٹ سے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میچ فکسنگ بارے انکوائری کمیشن نے صرف اُنہیں نشانہ بنایا، حالانکہ دیگر کھلاڑیوں کے نام بھی سامنے آئے تھے تاہم ان کیخلاف کوئی کارروائی کرنے کی بجائے انھیں عہدوں سے نوازا گیا۔ سلیم ملک نے مطالبہ کیا کہ کرکٹ اُن کا ذریعہ معاش ہے۔ لہذٰا دیگر کھلاڑیوں کی طرح اُنہیں بھی موقع دیا جائے کہ وہ نئے کھلاڑیوں کی کوچنگ کر کے روزگار حاصل کر سکیں۔
یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چئیرمین اعجاز بٹ نے سلیم ملک کو 2008 میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی کا ہیڈ کوچ مقرر کیا تھا۔ جس پر آئی سی سی نے پی سی بی کے اقدام پراعتراض اٹھایا تھا۔ آئی سی سی نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو سلیم ملک اور برطانوی بکئے مظہر محمود کے درمیان ہونے والی گفتگو کی ویڈیو ٹرانسکرپٹس فراہم کی تھی اور سلیم ملک سے اس پر وضاحت بھی طلب کی گئی تھی۔ تاہم سلیم ملک کا مؤقف ہے پاکستان کرکٹ بورڈ نے اُن سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک روز انکو جسٹس قیوم کے لاہور میں واقع گھر پر طلب کیا گیا جہاں ان سے سرسری سوال جواب ہوئے۔ لیکن بعد ازاں کمیشن نے اپنی رپورٹ جاری کرکے انہیں مجرم قرار دے دیا۔ اُن کے بقول اگر اُنہیں مذکورہ ٹیپس یا شواہد دکھائے جائیں تو وہ جواب ضرور دیں گے۔
دوسری طرف پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان سمیع الحسن برنی کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کی جانب سے بھیجے گئے ویڈیو ٹرانسکرپٹس کی کاپی اب بھی پی سی بی کے اینٹی کرپشن یونٹ کے پاس موجود ہے۔سلیم ملک جب چاہیں، اینٹی کرپشن یونٹ سے رابطہ کر کے اپنا جواب جمع کرا سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button