سلیکٹرز کی سیاست کرنے والا خاندان کوئی اور ہے

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہےکہ ان کی رگوں میں سلیکٹ ہونے والا خون نہیں، یہ لاہور کا سیاسی خاندان ہے جو سلیکٹ ہوتا آیا ہے۔
بلاول بھٹو زرادری نے وفد کے ہمراہ منصورہ میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق سے ملاقات کی اور انتخابی اصلاحات سمیت دیگر سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے استعفوں کو لانگ مارچ سے نتھی کرنے پر سوال اٹھا دیا اور بغیر نام لیے ن لیگ کو بھی آڑے ہاتھوں لے لیا۔ منصورہ میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق سے ملاقات کے بعد پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی لانگ مارچ کے لئے تیار تھی۔ حیرت ہے کہ لانگ مارچ کے لیے استعفوں کی شرط رکھ دی گئی۔ یہ سوال پوچھوں گا کہ لانگ مارچ کو استعفوں سے جوڑنے کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟ انہوں ںے کہا کہ دیگر جماعتوں کا نہیں کہہ سکتا لیکن پیپلزپارٹی کی لانگ مارچ کیلیے مکمل تیاری تھی۔ استعفوں کولانگ مارچ سے اس وقت نتھی کیوں نہیں کیا گیا جب لانگ مارچ کااعلان کیاگیا تھا، مارچ ملتوی ہونے کا افسوس ہے۔
بلاول بھٹو نے مریم نواز کی جانب سے سلیکیڈ ہونے کے الزام کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ہم پر الزام عائد کرتا ہے کہ ہم سلیکٹ ہونے کے لیے تیار ہیں تو ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری رگوں میں سلیکیڈ ہونا شامل نہیں یہ لاہور کا خاندان ہے جو یہ کرتا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ن لیگ کی نائب صدرپربات کرناہوتی تواپنی پارٹی کےنائب صدرکوبات کرنےکے لیے کہتا۔ جہاں تک سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کاتعلق ہے تو جمہوری روایت کے مطابق جس کی اکثریت ہو اس کاحق ہے۔ اپوزیشن جماعتیں متحد نہیں ہوں گی تو اس کا فائدہ عمران خان کوہوگا۔
بلاول بھٹو نےکہا کہ پیپلز پارٹی لانگ مارچ کےلیے تیار تھی، اسلام آباد میں کمرے بھی بک ہوچکے تھے،یہ کس کا آئيڈيا تھاکہ لانگ مارچ سے 10 دن پہلے استعفوں کو لانگ مارچ سے نتھی کرلیں ؟ جب نتھی کرنا تھا تو اس وقت کرتے جب سب فیصلے کر رہے تھے ۔بلاول بھٹو نےکہا کہ فیصلوں پر نظر ثانی وہ کریں جن کا مؤقف غلط ثابت ہوا ، یہ پیپلز پارٹی کا مؤقف تھا کہ ضمنی الیکشن اور سینیٹ الیکشن لڑیں اور الیکشن لڑ کرہی ہم نے حکومت کو نقصان پہنچایا۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا احتساب کا مطالبہ آج ہو سکتا ہم تو تین نسلوں سے کہہ رہے ہیں ہر کسی کا احتساب ہونا چاہیے۔ ہماری کوشش ہے کہ تمام جماعتیں متحد رہیں، اگر ہم متحد نہ رہے تو فائدہ صرف عمران خان کو ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز سمیت کسی کا بھی یکطرفہ احتساب نہیں ہونا چاہیے۔ اپوزیشن کا کام حکومت کو نقصان پہنچانا ہے۔ قومی اور پنجاب اسمبلی میں عدم اعتماد کا ماحول ہے، یہ سلسلہ شروع کرنا چاہیے۔ ہمیں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر حکومت کو ٹف ٹائم دینا چاہیے۔ پی ڈی ایم کے حوالے سے الگ پریس کانفرنس کرونگا۔مریم نواز کی ٹوئٹ سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ن لیگ کی نائب صدر کے بیان پر تبصرے کرنا ہے تو وہ پیپلز پارٹی کے نائب صدر سے کہیں گے، وہ جواب دیں گے۔
بلاول بھٹو زرداری کے بیان پر مسلم لیگ ن کی سینیئر نائب صدر مریم نواز کے ترجمان محمد زبیر کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے ہمیں ہدایت کی ہے کہ سیاسی بات کا سیاسی جواب دیا جانا چاہیے۔ان کے مطابق مریم نواز نے کہا کہ سیاسی بیانات کے جواب میں ذاتی نوعیت کے حملے کمزوری کی نشانی ہے- ’اس قسم کی بیان بازی سے دوری اختیار کریں۔‘
اس موقعے پرامیر جماعت اسلامی سراج الحق نے مطالبہ کیا کہ ملک میں احتساب کا ایک ہی نظام ہو نا چاہیے۔جو جرنیلوں ۔عدلیہ اور سیاستدان کو احتساب کر سکے۔ دونوں رہنماؤں نے آزاد الیکشن کمیشن اور انتخابی اصلاحات کے لئے قومی مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ سب کے احتساب کے لیے ایک ہی ادارہ ہونا چاہیے، یہ پہلی حکومت ہے جو چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ مانگ رہی ہے۔سراج الحق کا کہنا تھا کہ انتخابی اصلاحات کے بغیر انتخابات ڈسکہ الیکشن جیسے ہوں گے۔ملاقات میں سراج الحق اوربلاول بھٹو نے مسئلہ کشمیر اور انتخابی اصلاحات پر مل کرکام کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button