سلیکٹڈ وزیراعظم پریشان ہے امریکا سے فون کیوں نہیں آیا

سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما ہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ سلیکٹڈ وزیراعظم امریکہ سے فون نہ آنے پر پریشان ہو گیا ہے ۔
ن لیگی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں حکومتی رپورٹ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا نام نہاد حکومت نے خود رپورٹ پڑھی ہی نہیں۔ مارشل لا دور میں سیاستدانوں کو ہمیشہ ملک دشمن قراردیا جاتا تھا۔ موجودہ حکومت نے وہ الزام لگائے جو ماضی میں نہیں لگے۔
شاہد خاقان نے کہا کہ’کس نے کتنے ٹویٹ کیے‘ ڈیٹا جمع کرکے رپورٹ بنائی گئی۔ کیا مہنگائی اور حکومتی کارکردگی کے خلاف بولنا جرم ہے۔ حکومت صرف جھوٹ بولنے میں مہارت رکھتی ہے۔ آج چوری شدہ الیکشن کے زریعے اقتدار میں، آنیوالے الزام، لگا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی ناکامی چھپانے کے لیے جھوٹی رپورٹ تیارکررہی ہے۔ حکومت نے135صفحات کی رپورٹ صرف مفروضے پر تیار کی۔
صحافت پر رپورٹ میں صحافیوں اور سیاستدانوں کو اسرائیل اور بھارت کے برابر لاکھڑا کیا ہے۔ اس بات پر دکھ ہے کہ رپورٹ کئی جگہ پر وزیراعظم کی سابقہ اہلیہ کا نام بھی ہے۔
ن لیگی رہنما نے کہ حکومت نے تمام ڈیٹا کینیڈا کی ایک کمپنی سے لیا ہے۔ حکومت صرف ملکی معاملات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کررہی ہے۔ رپورٹ کا مقصد ملکی حالات سے توجہ ہٹانا ہے۔
