سموگ کا لاہور پر بڑا حملہ’ تعلیمی ادارے بند ہو گئے

سموگ نے لاہور پر تاریخ کا بدترین حملہ کردیا ہے جس کے بعد شہریوں کو سانس لینے میں شدید دشواری ہے اور آنکھوں میں جلن ہے۔ ذرائع کے مطابق لاہور میں سموگ کی بڑی لہر کی وجہ بھارتی پنجاب کے شہروں جالندھر اور امرتسر میں فصلوں کی کٹائی کے بعد لگائی جانے والی آگ کا دھواں ھے جس نے بارڈر پار آ کر لاہور کو گھیر لیا ہے۔
حکومت پنجاب نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر تمام نجی اور سرکاری تعلیمی ادارے بند کر دیے ہیں۔ گذشتہ روز ٹوئٹر صارفین نے لاہور میں ماحولیاتی آلودگی کا باعث بننے والی سموگ کے فضا میں خطرناک حد تک اضافے پر تشویش اور پریشانی ظاہر کی تو دیکھتے ہی دیکھتے ٹویٹر ٹرینڈز میں لاہور سموگ، فضائی آلودگی جیسے موضوعات ٹاپ ٹرینڈز بن گئے جس کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی ٹویٹ کرتے ہوئے شہر کے تمام نجی و سرکاری سکولز بند رکھنے کا اعلان کر دیا۔
Due to sudden increase in smog, all schools in Lahore will remain closed tomorrow.
We are closely monitoring the #LahoreSmog situation.
Administration is already on high alert and have tasked them to escalate actions against crop burning and other factors that contribute to smog— Usman Buzdar (@UsmanAKBuzdar) November 6, 2019
محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور کی فضا بدترین سموگ کی لپیٹ میں آ چکی ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو آنکھوں کی شدید جلن اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لاہور کی فضا میں ایئر کوالٹی انڈیکس 454 ریکارڈ کیا گیا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں پنجاب اسمبلی 731، اپر مال میں 647، ڈیفنس میں 401 جبکہ گڑھی شاہو میں ایئر کوالٹی انڈیکس 457 ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ سموگ ایک ہوائی آلودگی ہے جو دیکھنے کی صلاحیت کو محدود کر دیتی ہے۔ صنعتی علاقوں میں سموگ واضح کثرت سے دیکھی جا سکتی ہے اور یہ شہروں میں اکثر دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس آلودگی کی وجہ سے سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری بغیر ضرورت گھروں سے نہ نکلیں اور اگر باہر جانا ضروری ہو تو چہرے کو کسی گیلے کپڑے یا ماسک سے ڈھک لیں تاکہ سموگ کے مضر اثرات سے بچا جا سکے۔
زیادہ پانی اور گرم چائے کا استعمال سموگ کے اثرات کم کرنے میں فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ گھر آنے کے بعد اپنےہاتھ، چہرے اور جسم کے کھلے حصوں کو صابن سے دھوئیں۔ کھڑکیوں اور دروازوں کے کھلے حصوں پر گیلا کپڑا یا تولیہ رکھیں۔ فضا صاف کرنے کے آلات کا استعمال کریں۔ گاڑی چلاتے ہوئے گاڑی کی رفتار دھیمی رکھیں اور فوگ لائٹس کا استعمال کریں۔ زیادہ ہجوم والی جگہیں خصوصاً ٹریفک سے پرہیز کریں۔
Alert: At this time, the U.S. Consulate General Lahore’s AQI monitor is reporting PM2.5 pollutants at over 500. Other monitors in the city are reporting even higher levels.
This is an extremely hazardous level.#LahoreSmog
(1/2)— US Consulate Lahore (@USCGLahore) November 6, 2019
لاہور میں امریکہ قونصل خانے کی جانب سے بھی ٹویٹ سامنے آئی جس میں انھوں نے بتایا کہ ‘ائیر کوالٹی انڈیکس’ یعنی اے کیو آئی کی درجہ بندی پر لاہور میں فضائی آلودگی 500 سے زیادہ ہے جو کہ درجہ بندی کے معیار کے مطابق شدید خطرناک ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ چند برسوں سے لاہور میں موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی فضائی آلودگی میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور چند روز قبل بھی پاکستان میں ماحول کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے والی تنظیم کلائمیٹ ایکشن ناؤ نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ لاہور میں اس وقت پی ایم 2.5 عام سطح سے دس گنا زیادہ ہے۔
You had 15 months to deal with this. There’s nothing ‘sudden’ about this environmental crisis that is violating people’s human rights to education, health and even life. #LahoreSmog https://t.co/IcG9iumHeF
— Omar Waraich (@OmarWaraich) November 6, 2019
ادھر انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے وزیر اعلیٰ پنجاب کی ٹویٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ ’آپ کے پاس سموگ سے نمٹنے کے لیے 15 ماہ کا عرصہ تھا۔ اس میں ’اچانک‘ کی کوئی بات نہیں ہے‘۔
ٹوئٹر پر اے وائی جمال نے ٹویٹ کی کہ ‘یہ لاہور کینٹ کے علاقے میں دھوئیں کی بو کیوں آ رہی ہے اور یہ کیا جلا رہے ہیں۔ کیا سموگ کافی نہیں ہے ہمیں پھیپڑوں کی بیماری دینے کے لیے؟’
Why the heck is their a smell of smoke in the Lahore Cantt area apart from the usual smog. What the heck are they burning? Isn’t smog enough to give us lung diseases and now this too! WTF.
— Aima. (@AYJamal_) November 6, 2019
ایک صارف نے لکھا کہ شام چار بجے کے قریب سموگ میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور اتنی جلدی بڑھ گئی کہ گھر میں بھی ماسک پہننے کے باوجود سانس لینا دشوار ہو گیا۔
I’ve just reached #Lahore from Islamabad and immediately felt an assault of gross smoke. Eyes burning, lungs feeling heavy, coughing. This feels more severe than our familiar (also gross) smog. What’s going on? #LahoreSmog
— Mariam TS (@mariamtee) November 6, 2019
صارف مریم نے ٹویٹ میں کہا کہ وہ شام میں اسلام آباد سے لاہور پہنچی تھیں کہ ان کی آنکھیں جلنے لگیں اور کھانسی شروع ہو گئی۔ ‘یہ سموگ روزانہ کی سموگ سے زیادہ بری ہے کیا ہو رہا ہے!’
While Lahore is getting all the attention, please do not forget its neighboring cities like Gujranwala, Sheikhupura, Sialkot, Faislabad, etc, which are equally suffering from smog. @DrMuradPTI @UsmanAKBuzdar @GOPunjabPK please close schools in these cities also. #LahoreSmog
— Zain Raza (@smzrz) November 6, 2019
دوسری طرف ایک اور صارف زین رضا نے سوال اٹھایا کہ ساری توجہ لاہور پر ہے لیکن خدارا لاہور کے پڑوس میں بسنے والے شہر جیسے گجرانوالہ، شیخوپورہ، فیصل آباد کو نہ بھولیں جو سموگ سے اتنے ہی متاثر ہیں۔
Petitioners speak to the press. pic.twitter.com/tBeVMf6H6G
— Aysha Raja (@aysharalam) November 5, 2019
علاوہ ازیں سموگ سے تنگ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے نجی کالج کی 1 طالبہ لائبہ صدیقی اور 2 اسکول جانیوالے بچے، لیلیٰ عالم اورمشل حیات لاہور ہائی کورٹ پہنچ گئے اور ایک درخواست کے ذریعے یہ استدعا کی کہ فضائی آلودگی سے بچاؤ کے لیے سموگ پالیسی اور ایکشن پلان ترتیب دیا جائے۔تاہم قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مامون رشید شیخ نے درخواست کی خود سماعت کی اور اسے باقاعدہ سماعت کیلئے منظور کر لیا۔
خیال رہے کہ فضائی آلودگی اور سموگ کے تدراک کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں مخلتف درخواستیں زیر سماعت رہیں لیکن یہ اپنی نوعیت کی پہلی درخواست ہے جس میں بچوں نے اس معاملے پر عدالت سے رجوع کیا۔
