سموگ کا لاہور پر بڑا حملہ’ تعلیمی ادارے بند ہو گئے

سموگ نے لاہور پر تاریخ کا بدترین حملہ کردیا ہے جس کے بعد شہریوں کو سانس لینے میں شدید دشواری ہے اور آنکھوں میں جلن ہے۔ ذرائع کے مطابق لاہور میں سموگ کی بڑی لہر کی وجہ بھارتی پنجاب کے شہروں جالندھر اور امرتسر میں فصلوں کی کٹائی کے بعد لگائی جانے والی آگ کا دھواں ھے جس نے بارڈر پار آ کر لاہور کو گھیر لیا ہے۔
حکومت پنجاب نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر تمام نجی اور سرکاری تعلیمی ادارے بند کر دیے ہیں۔ گذشتہ روز ٹوئٹر صارفین نے لاہور میں ماحولیاتی آلودگی کا باعث بننے والی سموگ کے فضا میں خطرناک حد تک اضافے پر تشویش اور پریشانی ظاہر کی تو دیکھتے ہی دیکھتے ٹویٹر ٹرینڈز میں لاہور سموگ، فضائی آلودگی جیسے موضوعات ٹاپ ٹرینڈز بن گئے جس کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی ٹویٹ کرتے ہوئے شہر کے تمام نجی و سرکاری سکولز بند رکھنے کا اعلان کر دیا۔


محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور کی فضا بدترین سموگ کی لپیٹ میں آ چکی ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو آنکھوں کی شدید جلن اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لاہور کی فضا میں ایئر کوالٹی انڈیکس 454 ریکارڈ کیا گیا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں پنجاب اسمبلی 731، اپر مال میں 647، ڈیفنس میں 401 جبکہ گڑھی شاہو میں ایئر کوالٹی انڈیکس 457 ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ سموگ ایک ہوائی آلودگی ہے جو دیکھنے کی صلاحیت کو محدود کر دیتی ہے۔ صنعتی علاقوں میں سموگ واضح کثرت سے دیکھی جا سکتی ہے اور یہ شہروں میں اکثر دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس آلودگی کی وجہ سے سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری بغیر ضرورت گھروں سے نہ نکلیں اور اگر باہر جانا ضروری ہو تو چہرے کو کسی گیلے کپڑے یا ماسک سے ڈھک لیں تاکہ سموگ کے مضر اثرات سے بچا جا سکے۔
زیادہ پانی اور گرم چائے کا استعمال سموگ کے اثرات کم کرنے میں فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ گھر آنے کے بعد اپنےہاتھ، چہرے اور جسم کے کھلے حصوں کو صابن سے دھوئیں۔ کھڑکیوں اور دروازوں کے کھلے حصوں پر گیلا کپڑا یا تولیہ رکھیں۔ فضا صاف کرنے کے آلات کا استعمال کریں۔ گاڑی چلاتے ہوئے گاڑی کی رفتار دھیمی رکھیں اور فوگ لائٹس کا استعمال کریں۔ زیادہ ہجوم والی جگہیں خصوصاً ٹریفک سے پرہیز کریں۔


لاہور میں امریکہ قونصل خانے کی جانب سے بھی ٹویٹ سامنے آئی جس میں انھوں نے بتایا کہ ‘ائیر کوالٹی انڈیکس’ یعنی اے کیو آئی کی درجہ بندی پر لاہور میں فضائی آلودگی 500 سے زیادہ ہے جو کہ درجہ بندی کے معیار کے مطابق شدید خطرناک ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ چند برسوں سے لاہور میں موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی فضائی آلودگی میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور چند روز قبل بھی پاکستان میں ماحول کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے والی تنظیم کلائمیٹ ایکشن ناؤ نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ لاہور میں اس وقت پی ایم 2.5 عام سطح سے دس گنا زیادہ ہے۔


ادھر انسانی حقوق کے ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے وزیر اعلیٰ پنجاب کی ٹویٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ ’آپ کے پاس سموگ سے نمٹنے کے لیے 15 ماہ کا عرصہ تھا۔ اس میں ’اچانک‘ کی کوئی بات نہیں ہے‘۔
ٹوئٹر پر اے وائی جمال نے ٹویٹ کی کہ ‘یہ لاہور کینٹ کے علاقے میں دھوئیں کی بو کیوں آ رہی ہے اور یہ کیا جلا رہے ہیں۔ کیا سموگ کافی نہیں ہے ہمیں پھیپڑوں کی بیماری دینے کے لیے؟’


ایک صارف نے لکھا کہ شام چار بجے کے قریب سموگ میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور اتنی جلدی بڑھ گئی کہ گھر میں بھی ماسک پہننے کے باوجود سانس لینا دشوار ہو گیا۔


صارف مریم نے ٹویٹ میں کہا کہ وہ شام میں اسلام آباد سے لاہور پہنچی تھیں کہ ان کی آنکھیں جلنے لگیں اور کھانسی شروع ہو گئی۔ ‘یہ سموگ روزانہ کی سموگ سے زیادہ بری ہے کیا ہو رہا ہے!’


دوسری طرف ایک اور صارف زین رضا نے سوال اٹھایا کہ ساری توجہ لاہور پر ہے لیکن خدارا لاہور کے پڑوس میں بسنے والے شہر جیسے گجرانوالہ، شیخوپورہ، فیصل آباد کو نہ بھولیں جو سموگ سے اتنے ہی متاثر ہیں۔


علاوہ ازیں سموگ سے تنگ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے نجی کالج کی 1 طالبہ لائبہ صدیقی اور 2 اسکول جانیوالے بچے، لیلیٰ عالم اورمشل حیات لاہور ہائی کورٹ پہنچ گئے اور ایک درخواست کے ذریعے یہ استدعا کی کہ فضائی آلودگی سے بچاؤ کے لیے سموگ پالیسی اور ایکشن پلان ترتیب دیا جائے۔تاہم قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مامون رشید شیخ نے درخواست کی خود سماعت کی اور اسے باقاعدہ سماعت کیلئے منظور کر لیا۔
خیال رہے کہ فضائی آلودگی اور سموگ کے تدراک کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں مخلتف درخواستیں زیر سماعت رہیں لیکن یہ اپنی نوعیت کی پہلی درخواست ہے جس میں بچوں نے اس معاملے پر عدالت سے رجوع کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button