سنتھیا ISPR کے ساتھ مل کر کن منصوبوں پر کام کر رہی ہے؟

https://www.youtube.com/watch?v=T_CSjKSpTTo
اسلام آباد ہائیکورٹ نے 10 برس سے وفاقی دار الحکومت میں قیام پذیر مشکوک امریکی خاتون سنتھیا ڈی رچی کے حوالے سے وزارت داخلہ کی عدالت میں جمع کروائی گئی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے سیکریٹری داخلہ سے کہا ہے کہ وہ تفصیلی رپورٹ جمع کروائیں اور اس سوال کا جواب بھی دیں کہ سنتھیا آئی ایس پی آر کے کن منصوبوں پر کام کر رہی ہے اور آیا ان میں پبلک فنڈز استعمال ہوئے ہیں یا نہیں؟
یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے سنتھیا رچی کو ملک سے بے دخل کرنے کی درخواست کی سماعت کے دوران وزارت داخلہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر سنتھیا کے بارے میں ایک رپورٹ جمع کروائی تھی جس کا جائزہ لینے کے بعد چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے یہ کہا ہے کہ امریکی شہری کے خلاف الزامات سنجیدہ نوعیت کے تھے لیکن وزارت داخلہ کی رپورٹ میں بہت سارے پہلوؤں کو نظر انداز کر دیا گیا ہے جس سے بہت سارے سوالوں کے جواب نہیں مل پائے۔ ساتھ ہی انہوں نے انہوں نے وزارت داخلہ سے ان منصوبوں کے بارے میں پوچھ لیا یے جن پر ایک امریکی شہری آئی ایس پی آر کے اشتراک سے کام کر رہی ہے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت داخلہ سے اس سوال کا جواب بھی مانگا ہے کہ آیا آیی ایس پی آر کے ان منصوبوں کے لیے ٹیکس دہندگان کے فنڈز کا استعمال کیا گیا ہے؟
عدالت نے یہ احکامات پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن افتخار احمد کی جانب سے دائر کردہ اس درخواست کی سماعت کے دوران دیے جس میں انہوں نے استدعا کی تھی کہ وزارت داخلہ کو ہدایت کی جائے کہ وہ سنتھیا رچی کے ویزا اور پاسپورٹ سے متعلق معاملات اور پیپلزپارٹی کی قیادت کے خلاف مبینہ ہتک آمیز ٹوئٹس کرنے پر سنتھیا رچی کو ملک بدر کرے۔ خیال رہے کہ وزارت داخلہ نے حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں رپورٹ جمع کروائی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ سنتھیا رچی پاکستان میں توسیعی ویزے پر ہیں، تاہم عدالت کی جانب سے پوچھے جانے کے باوجود پی پی پی قیادت کے خلاف ہتک آمیز ٹوئٹس کے الزامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا تھا اور یہ موقف لیا گیا تھا کہ یہ عدالتی معاملہ ہے۔
اپنی رپورٹ میں وزارت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ امریکی بلاگر سنتھیا ڈی رچی پاکستان میں بزنس ویزا پر آئی تھیں اور وہ فوج کے میڈیا امور کے ونگ انٹر سروسز پبلک ریلشنز اور خیبر پختونخوا کے اشتراک سے فلمی منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔ واضح رہے کہ عدالت نے امریکی بلاگر سنتھیا رچی کا مؤقف سننے کے بعد زبانی حکم نامے کے ذریعے معاملے کو وزارت داخلہ کو بھیج دیا تھا۔ علاوہ ازیں درخواست گزار کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے نقطہ اٹھایا کہ سنتھیا رچی ملک میں کسی بھی حلقے میں بطور ووٹر رجسٹرڈ نہیں تھیں اور پھر بھی انہوں نے مقامی سیاسی معاملات پر ٹوئٹ کیا۔
اس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے یہ کہا کہ امریکی شہری کے خلاف الزامات سنجیدہ نوعیت کے تھے لیکن وزارت داخلہ نے ان کا جواب نہیں دیا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ یہ ریاست کی ذمہ داری تھی کہ وہ بلاگر کے خلاف الزمات سے متعلق ایک شفاف تحقیقات کرے جبکہ وزارت داخلہ کو اس معاملے کو دیکھتے ہوئے ملک کی ساکھ کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق محمود کھوکھر نے حکومت سے ہدایات حاصل کرنے کےلیے عدالت سے کچھ وقت طلب کیا، جس پر کیس کی سماعت کو ملتوی کردیا گیا۔
واضح رہے کہ 17 جولائی کو وزارت داخلہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو پیش کی گئی اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ سنتھیا رچی نے اپنی درخواست میں بتایا کہ وہ آئی ایس پی آر اور خیبر پختونخوا حکومت کے اشتراک سے واک اباؤٹ فلمز کے ساتھ مل کر ملک میں فلموں کے مختلف منصوبوں پر کام کررہی ہیں، ساتھ ہی انہوں نے مزید بتایا کہ وہ ایک سال سے اپنے بزنس ویزا کی باضابطہ توسیع کے لیے مکمل دستاویزات کی منتظر تھیں جس میں کچھ دن اور لگ سکتے ہیں لہٰذا انہوں نے اپنے ویزے میں عارضی طور پر 30 دن کی توسیع کی درخواست کی تھی۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق محمود کھوکھر نے جواب داخل کرتے ہوئے کہا تھا کہ سنتھیا رچی کے ویزا میں 31 اگست تک توسیع کی گئی ہے اور جس طرح سے الزام عائد کیا گیا اس کے برعکس وہ کسی بھی قسم کی غیر قانونی حرکت یا ناپسندیدہ یا ریاست مخالف سرگرمی کی مرتکب نہیں ہوئیں۔
خیال رہے کہ امریکی بلاگر سنتھیا رچی کافی عرصے سے پاکستان میں بھائی لوگوں کی آشیرباد سے مقیم ہے لیکن پچھلے ماہ اس نے سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے حوالے سے ایک ’نامناسب‘ ٹوئٹ کی جس کے بعد ان کے پیپلز پارٹی سے اختلافات کھل کر سامنے آئے تھے۔ پی پی پی رہنماؤں کی جانب سے اس کے خلاف مقدمہ درج کروانے کے لیے عدالت سے رجوع کیا گیا جہاں سے حکام کو امریکی بلاگر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا حکم جاری ہوا، انہوں نے اس کارروائی کو روکنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تاہم وہ مسترد ہوگئی۔دوسرا اور سب سے اہم معاملہ سنتھیا رچی کی جانب سے سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک پر ریپ اور پی پی پی کے دور دیگر رہنماؤں پر دست درازی کرنے کا الزام عائد کیا جانا تھا۔ مذکورہ الزامات پر سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور رحمٰن ملک کی جانب سے امریکی بلاگر کو ہتک عزت کے نوٹسز بھجوائے گئے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button