’وفاق، صوبوں اور اداروں سمیت کہیں بھی شفافیت نہیں

کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے حوالے سے لیے گئے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ وفاق، صوبوں اور اداروں کے کام میں شفافیت کہیں بھی نظر نہیں آ رہی۔ کسی صوبے اور محکمے نے شفافیت پر مبنی رپورٹ نہیں دی، عوام اور بیرون ملک سے لیا گیا پیسہ نہ جانے کیسے خرچ ہو رہا ہے۔ کھربوں روپے خرچ ہو چکے اور مریض صرف 5 ہزار ہیں، زکوۃ کے پیسے سے دفتری امور نہیں چلائے جا سکتے، زکوۃ کا پیسہ بیرون ملک دوروں کے لیے نہیں ہوتا .
چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی لارجر بینچ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے اٹھائے اقدامات کی تفصیلی رپورٹ ایک ہفتے میں جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔13 اپریل کو سپریم کورٹ میں کورونا وائرس کی صورتحال میں ہسپتالوں میں ناکافی سہولیات پر لیے گئے ازخود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا تھا کہ حکومتی کابینہ 50 رکنی ہوگئی، اس کی کیا وجہ ہے؟ کئی کابینہ ارکان پر جرائم میں ملوث کے مبینہ الزامات ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ وہ ریمارکس دینے میں بہت احتیاط برت رہے ہیں، عدالت کو حکومتی ٹیم نے صرف اعدادو شمار بتائے، بریفننگ میں حکومتی ٹیم سے پانچ سوال پوچھے تھے جن جوابات نہیں ملے۔
پیر کو اٹارنی جنرل خالد جاوید خان، سیکرٹری صحت اور دوسرے اعلیٰ حکام عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے سیکرٹری صحت کو تین قرنطینہ سینٹرز کا آج ہی دورہ کرنے کا حکم دے دیا۔چیف جسٹس نے سیکرٹری صحت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حاجی کیمپ، او جی ڈی سی ایل اور پاک چائنا سینٹرز کا دورہ کریں۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ حاجی کیمپ میں لوگ چیخ رہے ہیں۔ وہاں کیا سہولیات دی گئی ہیں؟دوران سماعت چیف جسٹس نے سیکرٹری صحت سے پوچھا کہ اسلام آباد میں کتنے قرنطینہ سینٹرز قائم کیے گئے ہیں؟ سیکرٹری صحت نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد میں 16قرنطینہ سینٹرز قائم ہیں۔ ’ان میں ہوٹلز،حاجی کیمپ، او جی ڈی سی ایل بلڈنگ اورپاک چائنہ سینٹر شامل ہیں۔‘انہوں نے بتایا کہ بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کو 24گھنٹے ان قرنطینہ سینٹرز میں رکھا جاتا ہے۔
عدالت کے سوال پر سیکرٹری صحت نے بتایا کہ قرنطینہ سینٹرز میں رکھے جانے کا خرچ حکومت برداشت کرتی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ قرنطینہ مراکز میں مقیم افراد سے پیسے لیے جارہے ہیں۔ ’ قرنطینہ کے لیے ہوٹلز کا انتخاب کن بنیادوں پر کیا گیا؟ تمام ہوٹلز کو قرنطینہ بنانے کاموقع کیوں نہیں دیا گیا؟‘جو پیسے نہیں دے سکتے انہیں مفت قرنطینہ میں منتقل کیا جانا چاہیے۔ سیکرٹری صحت تنویر قریشی نے عدالت کو بتایا کہ حاجی کیمپ اور پاک چائینہ سینٹرز میں مفت قرنطینہ سہولت ہے ، حاجی کیمپ قرنطینہ مرکز نہیں دیکھا، آج ہی دورہ کر کے سہولیات کی فراہمی یقینی بناؤں گا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مردان میں سعودی عرب سے آئے شخص نے کرونا پھیلایا، وہ پیناڈول کھا کر ائیرپورٹ سے نکلا اور پوری یونین کونسل بند کرنا پڑی، تفتان کے قرنطینہ میں رہنا بھی ڈراؤنا خواب تھا۔ حکومت پیسے خرچ کررہی ہے لیکن نظر کچھ نہیں آ رہا۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دے کہ وفاق، صوبوں اور اداروں کے کام میں شفافیت کہیں بھی نظر نہیں آ رہی۔
سماعت کے دوران بینچ کے رکن جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ زکوٰۃ کی مد میں 9.251 بلین روپے جمع ہوئے مگر نہیں پتا صوبوں نے کہاں خرچ کیے۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ زکوٰۃ کا پیسہ کہاں خرچ ہو رہا ہے اس حوالے سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ محکمہ زکوٰۃ نے کوئی معلومات نہیں دیں، جواب میں صرف قانون بتایا گیا ہے۔ جس پر اٹارنی جنرل خالد خان نے کہا کہ وفاقی حکومت زکوۃ فنڈ صوبوں کو دیتی ہے۔ صوبائی حکومتیں زکوۃ مستحقین تک نہیں پہنچاتیں، اس فنڈ کا بڑا حصہ تو انتظامی اخراجات پر لگ جاتا ہے۔اٹارنی جنرل کے جواب پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مسئلہ یہ ہے کہ کسی کام میں شفافیت نہیں، صرف یہ بتایا گیا کہ امداد دی گئی لیکن تفصیل نہیں دی گئی۔ کسی صوبے اور محکمے نے شفافیت پر مبنی رپورٹ نہیں دی.زکوٰۃ فنڈ کا سارا پیسہ ایسے ہی خرچ کرنا ہے تو کیا فائدہ۔کیا زکوة کے پیسے سے انتظامی اخراجات کرنا جائز ہے؟کیا محکمہ زکوة کا بنایاگیا قانون شریعت سے متصادم نہیں۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے بیت المال نے بھی کوئی جواب جمع نہیں کرایا۔ انہوں نے کہا کہ زکوٰۃ کا پیسہ عملے کی تنخواہ پر نہ لگایا جائے۔ بیت المال کے فنڈز کا بڑا حصہ انتظامی امور پر خرچ ہوتا ہے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ مسئلہ یہ ہے کہ ملک میں کسی کام میں شفافیت نہیں۔ ’صرف یہ بتایا گیا کہ امداد دی گئی تفصیل نہیں دی گئی۔ مستحقین تک رقم کیسے جاتی ہے اس کا کچھ نہیں بتایا گیا۔‘ انہوں نے کہا کہ حکومت کو زکوٰۃ فنڈ کا آڈٹ کروانا چاہیے۔ ’زکوٰۃ فنڈ کے آڈٹ سے صوبائی خودمختاری متاثر نہیں ہو گی۔‘چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ مزارات کے پیسے سے افسران کیسے تنخواہ لے رہے ہیں؟ اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ افسران کی تنخواہیں حکومت کو دینی چاہییں۔
دوران سماعت ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ سندھ میں 569 ملین روپے 94 ہزارسے زائد افراد کو دیئے گئے، سندھ میں فی کس 6 ہزار روپے زکوة دی گئی، تمام رقم زکوة فنڈز سے مستحقین کو دی گئی۔ زکوة ان ہی افراد کو دی گئی جنہیں ہرسال دی جاتی ہے۔ عدالت کو فراہم کی گئی تمام معلومات درست ہیں، صبح 4 سے سات بجے تک گھرگھر راشن تقسیم کیا جاتا ہے، لازمی نہیں کورونا کا ہر مریض بیمار بھی ہو،12 اپریل تک ان 11 یونین کونسلوں سے 234 کورونا کیسز نکلے تھے، سیل کی گئی 11 یونین کونسل کی کل آبادی 6 لاکھ 74 ہزار سے زائد ہے، 168 افراد کو گھروں میں ہی قرنطینہ کیا گیا ہے، 45 مریض اسپتال میں ہیں تمام کی حالت تشویشناک ہے۔ ،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سندھ حکومت چھوٹا ساکام کرکے اخباروں میں تصویریں لگواتی ہے، کسی کو علم نہیں ہوا سندھ حکومت نے ایک ارب کا راشن بانٹ دیا۔
عدالت نے زکوة فنڈز کی رقوم کی ادائیگی میں شفافیت سے متعلق تمام صوبوں اور وفاق سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔
اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے بیت المال کی شفافیت سے متعلق رپورٹ طلب کرنے سمیت حکم دیا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل اورمفتی تقی عثمانی سے رائے لی جائے کہ زکوة کا فنڈ تنخواہ اورانتظامی اخراجات پر خرچ ہوسکتا ہے۔
عدالت نے چاروں صوبوں اور وفاق سے آئندہ سماعت سے قبل کورونا وائرس پر رپورٹ طلب کی اور کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی ہے۔
