سندھ حکومت کا پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی ہٹانے سے انکار

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے پبلک ٹرانسپورٹ کھولنے کی اپیل کے باوجود سندھ حکومت نے پابندی نہ ہٹانے کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ سندھ کے وزیر ٹرانسپورٹ سید اویس شاہ نے کراچی سمیت صوبے کے دیگر شہروں میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے باعث موجودہ صورت حال میں پبلک ٹرانسپورٹ کی بحالی کے امکان کو مسترد کردیا۔
انہوں نے وزیراعظم کی تجویز پر تنقید کی اور کہا کہ وہ کورونا وائرس کے معاملے، اس کے خطرات اور احتیاطی تدابیر پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے قبل ماہرین سے مشورہ کریں۔ سندھ کے وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ ملک کے وزیراعظم کی حیثیت سے ہم ان کے خیالات اور مشوروں کا احترام کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ صوبائی وزیر کا مذکورہ بیان وزیراعظم کی جانب سے ٹی وی پر نشر کیے گئے خطاب کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کورونا وائرس کے خطرے سے جڑی کئی تجاویز اور مستقبل کے امکانات پر بات کی تھی۔ تاہم سید اویس شاہ نے ہم پبلک ٹرانسپورٹ سروس بحال کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے، ہم ہر روز کیسز میں اضافہ دیکھ رہے ہیں اور ایسی صورت حال میں بسوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے دیگر ذرائع کو بحال کرنے کی اجازت دینا لوگوں کو زندگیوں کو خطرے میں ڈالنا بالکل غلط فیصلہ ہوگا۔
انہوں نے رواں ہفتے کے آغاز میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد تاجروں اور خریداروں دونوں کی جانب سے اسٹینڈر آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) اور حکومتی ہدایات کی خلاف ورزی کا حوالہ دیا اور دعویٰ کیا کہ اس سے کورونا وائرس کے کیسز میں تیزی آئی۔
اویس شاہ نے ایسی ہی صورتحال مختلف صنعتی یونٹس کو آپریشنز بحال کرنے کی اجازت دینے کے بعد دیکھی گئی لیکن وہ اپنے وعدوں پر پورا اترنے، سماجی دوری پر عمل اور دیگر احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد میں ناکام ہوگئے۔
خیال رہے کہ سندھ حکومت نے ہر قسم کی پبلک ٹرانسپورٹ سروس پر 23 مارچ کو باضابطہ طور پر لاک ڈاؤن کے نفاذ سے قبل مارچ کے تیسرے ہفتے سے پابندی لگائی ہوئی ہے۔
لاک ڈاؤن کے نفاذ کے رائیڈ- شیئرنگ سروسز کے آپریشنز بھی معطل ہیں جس کے باعث لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے نجی یا ذاتی گاڑیوں پر انحصار کررہے ہیں۔ علاوہ ازیں صوبائی حکومت نے ایک سے دوسرے شہر لوگوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے انٹرسٹی بس سروس پر بھی پابندی لگائی ہوئی ہے۔ پاکستان ریلوے نے ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے تناظر میں 24 مارچ کو تمام مسافر ٹرینوں کا آپریشن معطل کردیا تھا۔پالیسی پر نظر ثانی سے متعلق دباؤ کے باوجود سندھ کے وزیر ٹرانسپورٹ پابندی کے تقریباً 2 ماہ بعد بھی اپنے فیصلے پر قائم رہے اور تنبیہ کی کہ معاشرے کے مخصوص طبقات کی جانب سے لاک ڈاؤن میں نرمی کا مطالبہ اور وفاقی حکومت کی جانب سے اس کی حمایت تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔
اویس شاہ نے اپنے بیان میں کہا کہ کیا ہمارے وزیراعظم ملک کو اٹلی یا وہان بنانا چاہتے ہیں؟ وزیراعظم کو ایسی تجاویز اور فیصلوں کے لیےماہرین سے مشاورت کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اس بات کا شدید خدشہ ہے لاک ڈاؤن میں نرمی سے اٹلی جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، وزیراعظم نے خود اعتراف کیا ہے لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کے بعد ایس او پیز کو نظرانداز کیا گیا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم مشترکہ کوششوں میں صوبوں سے تعاون کی اپیل کرتے ہیں، یہ وقت سیاست کا نہیں لوگوں کی زندگیاں بچانے کا ہے۔
