سندھ حکومت کا ڈاکٹر فرقان کی موت سے متعلق تحقیقات کا حکم

حکومت سندھ نے ڈاکٹر فرقان کی موت کا سبب بننے والی صورت حال کی تحقیقات کےلیے کمیٹی تشکیل دے دی۔
ڈاکٹر فرقان کراچی میں کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والے تیسرے ڈاکٹر تھے، اس حوالے سے ابتدائی طور پر یہ بات سامنے آئی تھی کہ مبینہ طور پر بروقت وینٹی لیٹر نہ فراہم کیے جانے کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوئی۔
حکومت سندھ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے سماجی روابط کی ویب سائٹ پر ایک پیغام میں بتایا کہ اس بات کی تصدیق کی کہ انکوائری کا آغاز کردیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ معاملے کی تحقیقات کےلیے کمیٹی بنادی گئی ہے جو اپنی رپورٹ 24 گھنٹے میں جمع کروائے گی۔
یہاں یہ بات پیشِ نظر رہے کہ کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیزز سے حال ہی میں ریٹائر ہونے والے ڈاکٹر فرقان کورونا مریضوں کا علاج نہیں کررہے تھے۔
اس ضمن میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر قیصر سجاد نے بتایا تھا کہ ڈاکٹر فرقان کو شہر کے کئی ہسپتالوں کا دورہ کرنے کے باوجود آئسولیشن وارڈ اور وینٹی لیٹر کی سہولت میسر نہ آ سکی جس کے بعد ان کا انتقال ہوگیا۔ وینٹی لیٹرز کی قلت کے حوالے سے جب سندھ حکومت کا مؤقف جاننے کی کوشش کی گئی تو صوبائی وزیر صحت کی میڈیا کوآرڈنیٹر میران یوسف نے بتایا کہ سول اسپتال کراچی اور جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر میں وینٹی لیٹرز اور بیڈز دستیاب ہیں تاہم ہم نے واقعے کی انکوائری شروع کردی ہے۔
دوسری جانب انڈس ہسپتال کے سی ای او ڈاکٹر عبدالباری نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر فرقان نے علاج میں تاخیر کردی اور اس کی وجہ کورونا وائرس سے متعلق سماجی رویہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر فرقان کی بھتیجی ہمارے انڈس اسپتال میں کام کرتی ہیں اور انہوں نے اپنے چچا پر اسپتال میں داخل ہونے کےلیے زور دیا تھا لیکن انہوں نے آس پڑوس میں یہ خبر پھیلنے کے خوف سے انکار کردیا۔ ڈاکٹر عبدالباری نے تصدیق کی کہ متوفی انڈس اسپتال نہیں آئے تھے۔
واضح رہے کہ 30 اپریل کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 8 ہیلتھ ورکرز کورونا وائرس کاشکار بن کر جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button