سندھ حکومت کی کراچی کےعوام سے معذرت

وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے کراچی کی عوام سے معذرت کرلی۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں بارش نے تباہی مچا دی ہے۔کراچی کے علاقوں میں نکاسی کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ موسلادھار بارش کے باعث اورنگی ٹاؤن، بلدیہ ٹاؤن گلبرگ سمیت کئی علاقہ مکینوں کے گھروں میں پانی جمع ہوا لیکن عوام کی مدد کےلیے سماجی اداروں کی تنظیموں کے سوا کوئی نظر نہیں آیا، پاکستان تحریک انصاف کراچی کی صدر وومن ونگ فضہ ذیشان نے کہا کہ وزیر بلدیات سے اگر اپنا کام سرانجام نہیں دیا جاتا تو گھر چلے جائیں شہر کئی کئی فٹ پانی سے ڈوب گیا لیکن سندھ حکومت کی جانب سے اقدامات نہیں کیے گئے، بارش کی پیشگی کے بعد نالوں کی صفائی کا کام نہیں کروایا گیا سندھ حکومت کی نااہلی سے شادمان ٹاؤن، گجرنالہ بارش سے پھٹ پڑا انہوں نے مزید کہا کہ بارش نے پیپلز پارٹی کے دعوے بھی بہا دیے صوبے میں بلدیاتی وزارتیں میوزیکل چئیر کی طرح تبدیل ہوتی ہیں، شہر میں جانی نقصان ہوتے ہیں تو زرداری صاحب کے کیک کاٹے جاتے ہیں پیپلز پارٹی کو کراچی کے لوگوں کی تکلیف سے کوئی سروکار نہیں۔
اسی حوالے سے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ہوئے وزیر اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ کراچی میں بارش سے تکلیف پہنچنے پر لوگوں سے معذرت کرتا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں بہت کام کیا ہے اب بڑی شاہراہوں سے دو ڈھائی گھنٹے میں پانی کی نکاسی ہو جاتی ہے۔ نالوں کی صفائی اور بہتری کےلیے ورلڈ بینک سے قرضہ لے کر شفاف طریقے سے کام شروع کیا ہے۔
ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ بارش کی زیادتی قدرتی آفت کی صورت میں نمودار ہوتی ہے، شہر میں بارشوں کا نیا اسپیل پہلے سے زیادہ مقدار میں برسا ہے، حکومت سندھ تمام وسائل و افرادی قوت کے ساتھ میدان عمل میں موجود ہے۔ ان خیالات کا اظہار سید ناصر حسین شاہ نے دوران بارش شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے کیا۔
ناصر حسین شاہ گزشتہ دو روز سے متواتر شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے رہے ہیں جس میں انہوں نے بلدیاتی افسران کے ہمراہ برساتی نالوں، چوکنگ پوائنٹس، انڈر پاسز اور مختلف اہم او ر حساس مقامات کا دورہ کیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ شہر میں بارشوں کی ریکارڈ برسات مکمل طور پر قدرتی عمل ہے، حکومت سندھ گزشتہ کئی ماہ سے اس حوالے سے جامع اور مربوط پالیسی کے تحت ہنگامی اقدامات پر عملد در آمد کرواہی ہے۔
