کراچی سمیت سندھ بھر میں 3 گھنٹے مکمل لاک ڈاؤن رہا

سندھ حکومت کی جانب سے صوبے بھر میں دوپہر 12 بجے سے تین بجے تک کرفیو جیسا لاک ڈاؤن کیا گیا۔ محکمہ داخلہ سندھ نے کراچی سمیت صوبے بھر میں جمعہ کے روز3 گھنٹے کے انتہائی سخت لاک ڈاؤن کیا ، جس کے تحت دن 12 سے سہہ پہر3 بجے تک تمام دکانیں بند رہیں اور ہر طرح کی ٹرانسپورٹ معطل رہی۔ شہریوں کو نقل و حرکت کی بھی اجازت نہیں ملی اور مساجد میں نماز جمعہ کے اجتماعات نہیں ہوئے۔ انتظامیہ نے شہریوں کو لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر قانونی چارہ جوئی کا انتباہ دیا تھا۔
سندھ حکومت نے صوبے میں عمومی لاک ڈاؤن کی مدت میں توسیع کا بھی باقاعدہ اعلان کیا ہے جس کا باضابطہ نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں لاک ڈاون کےتحت پابندیوں کا اطلاق 14 اپریل تک رہے گا۔
سندھ حکومت نے جمعہ کوصوبے میں دوپہر 12 بجے سے 3 بجے تک مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا۔ سندھ میں نماز جمعہ کے اجتماعات پر مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے صرف تین سے پانچ افراد کومساجد میں باجماعت نماز کی ادائیگی کی اجازت دی گئی تھی.
صوبائی محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ جمعہ کو دوپہر 12 سے سہ پہر 3 بجے تک کوئی دکان کھلی گی نہ ٹرانسپورٹ چلے گی، جبکہ شہریوں کو نقل و حرکت کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ جن دکانوں کو لاک ڈاؤن کے عرصے میں شام 5 بجے تک کھلنے کی اجازت دی گئی ہے وہ صرف جمعہ کو شام ساڑھے 6 بجے تک کھلی رہ سکیں گی، جبکہ دودھ کی دکانیں صبح 5 سے رات 8 بجے تک کھلیں گی۔نوٹیفکیشن میں لاک ڈاؤن کے عرصے کے لیے عائد کی گئی دیگر پابندیوں کو دہراتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مساجد میں پیش امام، موذن اور عملے کے 3 سے 5 افراد کو باجماعت اجازت ہوگی، جبکہ تمام مذہبی اجتماعات پر پابندی ہوگی۔
محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ کریانہ کی دکانیں اور میڈیکل اسٹور صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک کھل سکیں گے، پرندوں کی دکانوں کو دوپہر 12 بجے سے 2 بجےتک کھلنے کی اجازت ہوگی تاہم دکانوں پر خرید و فروخت پر پابندی ہوگی اور مالکان صرف پرندوں کو غذا فراہم کر سکیں گے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ شام 5 بجے سے صبح 8 بجے تک مخصوص حالات میں نکلنے کی اجازت ہوگی، قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعلق رکھنے والوں، ڈاکٹر، میڈیکل عملے، واٹر بورڈ، گیس اور بجلی فراہم والے اداروں کے تکنیکی اسٹاف، گڈز ٹرانسپورٹ کو سامان لےکر جانے اور ہاکرز کو بھی اجازت ہوگی۔محکمہ داخلہ نے کہا کہ گاڑی میں زیادہ سے زیادہ دو افراد کو سفر کرنے کی اجازت ہوگی، دفتر کا شناختی کارڈ اور قومی شناختی کارڈ دوران سفر رکھنا لازمی ہوگا، رجسٹرڈ فلاحی تنظیموں کو اجازت نامے کے تحت کام کرنے کی اجازت ہوگی جبکہ بینکوں کو مختصر عملے کے ساتھ کام کرنےکی اجازت ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button