سندھ نے ارسا کے بیراجوں پر نگرانی کے منصوبے کو مسترد کردیا

حکومت سندھ نے سندھ اور پنجاب کے بیراجوں پر پانی کے بہاؤ کی پیمائش کی نگرانی کے مجوزہ پروگرام کو اس پر مشاورت کے مناسب عمل کو شروع کیے بغیر مسترد کردیا۔
یہ پروگرام انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کی طرف سے تجویز کیا گیا تھا کہ قلت کے دوران وقفے وقفے سے پانی کی تقسیم پر دونوں فریقین کے مابین سخت کشیدگی ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ سندھ دونوں صوبوں کے بیراجز پر بہاؤ کی نگرانی پر اپنا نمائندہ نہ بھیج کر اس عمل سے فی الوقت کےلیے پیچھا ہٹا ہے کیو کہ جلد بازی کا مظاہرہ غلطیوں، وقت، وسائل اور محنت کے ضیاع کا سبب بنے گا۔ ان کے مطابق ارسا نے مشاورت کے بغیر 8 جون کو پانی کے خروج کی پیمائش کا شیڈول جاری کیا۔ حکومت سندھ نے سکریٹری آب پاشی محمد سلیم رضا کے توسط سے 9 جون کو ارسا چیئرمین کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے 8 جون کے بہاؤ کی نگرانی کے پروگرام کو مسترد کردیا۔ سیکریٹری نے خط میں ارسا کے سندھ کے رکن کو بتایا کہ بغیر کسی مشاورتی عمل اور اسٹیک ہولڈرز کا اجلاس طلب کیے خطے میں 8 جون سے شروع ہونے والے سندھ اور پنجاب کے بیراجز پر بہاؤ کی نگرانی کے پروگرام کو مسترد کرتے ہیں۔ 27 مئی کو وزیر اعظم کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے، مسٹر رضا نے نوٹ کیا کہ اجلاس میں اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے کہ آب پاشی کے پانی کو تین درجے کے فارمولے کے تحت تقسیم کرنا واٹر ایکارڈ 1991 کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ ارسا آفیسر نے 4 جون کے واپڈا جی ایم کے خط کے جواب میں کہا تھا کہ اس مرحلے پر سہ فریقی اجلاس بلانے سے خروج کی پیمائش کا مقصد حاصل کرنے میں غیر ضروری تاخیر ہوگی، یہ بتانا بہت مناسب ہے کہ 6 جون تک چشمہ سے کوٹری (بیراجز) کو 36 ہزار کیوسک نقصان پہنچا ہے جب کہ منگلا (ڈیم) سے پنج ناد تک 3500 کیوسک کا فائدہ ہوا ہے۔ 27 مئی کو وزیر اعظم کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے نشاندہی کی کہ اجلاس میں اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا تھا کہ پانی کو تین درجے کے فارمولے کے تحت تقسیم کیا جانا پانی کے معاہدے 1991 کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ سندھ کے سیکریٹری آبپاشی نے ان کی بات سے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ پنجاب کے علاقے تونسہ اور گڈو تک زیادہ نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تونسہ اور گڈو بیراجوں کے درمیان 294 کلومیٹر کے علاقے میں 18 ہزار کیوسک (19 فیصد) پانی کا نقصان رپورٹ کیا گیا ہے جب کہ یہ گڈو اور کوٹری بیراج کے درمیان کے 565 کلومیٹر کے درمیان 11 ہزار کیوسک ہے۔ سیکریٹری آبپاشی کا کہنا تھا کہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دوگنا فاصلہ، وسیع ندیوں کے رقبے اور بھاری سلٹ ڈپوزیشن کے باوجود سندھ میں پانی کے نقصانات پنجاب سے کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ارسا کے اعدادوشمار میں غلط طریقے سے دکھایا گیا کہ سندھ نقصان زیادہ ہے۔ انہوں نے ارسا کے سیکریٹری کو مشورہ دیا کہ وہ خشک سالی سے دوچار سندھ کے خلاف کوئی بھی الزام لگانے سے قبل اس حقیقت کو دھیان میں رکھیں۔ حکومت سندھ نے ارسا کی جانب سے جاری کردہ خروج ہونے والے پانی کی پیمائش کے عارضی منصوبے’ کا نوٹس لے لیا۔ ارسا پانی کا پیمائش نیسپاک کی تجویز کردہ ‘مشترکہ موثر خروج’ (سی ڈی) کے تخمینوں سے کرنا چاہتا ہے جب کہ سندھ کے محکمہ آبپاشی کا کہنا ہے کہ سی ڈی کا تخمینہ اس کےلیے ناقابل قبول ہے۔ سندھ کے محکمہ آبپاشی کے ماہرین یہاں تک کہ واپڈا نے بھی ارسا کے ساتھ سہ فریقی نگرانی کا منصوبہ بناتے ہوئے کسی حد تک دانشمندی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایک افسر کا کہنا تھا کہ واپڈا کے جنرل مینیجر کے 4 جون کو ارسا کے چیئرمین کو لکھے گئے خط سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے جس میں جی ایم کا کہنا تھا کہ واپڈا صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم سے متعلق امور کے تناظر میں (سہ فریقی نگرانی) کو بہت اہم سمجھتا ہے اور وزیر اعظم کی ہدایت کے مطابق اپنی خدمات / مہارت کو پیش کرنے کےلیے تیار ہے۔

Back to top button