سندھ کے باسی مردم شماری کے نتائج کیوں نہیں مان رہے؟

2017 میں ہونے والی نئی مردم شماری کے بعد صوبہ سندھ کی بڑھی ہوئی آبادی کے شمار ہو جانے سے صوبائی اور قومی اسمبلی کی سیٹیںوں میں اضافے کا امکان تھا مگر ایسا نہیں ہوا جس وجہ سے برسر برسراقتدار پیپلزپارٹی سمیت صوبے کی تمام بڑی جماعتیں متنازعہ نتائج پر احتجاج کر رہی ہیں۔ دوسرا بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ اب صوبہ سندھ کو نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ اور قومی سطح کی نوکریوں سمیت قومی وسائل کی تقسیم میں منصفانہ حصہ نہیں ملے گا۔
پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور تجارتی مرکز کراچی کی مردم شماری کے اعداد و شمار کو لے کر پیپلزپارٹی سے لے کر ایم کیو ایم تک تمام سیاسی جماعتیں نتائج کو قبول نہ کرنے کا اعلان کر چکی ہیں کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ ان میں شہر کی آبادی کو اصل سے کم ظاہر کیا گیا ہے جو کہ پچھلی مردم شماری کے بعد کے 19 سال میں کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ سندھ کے موقف کے مطابق سندھ کی آبادی چھ کروڑ سے بھی زیادہ ہے مگر مردم شماری میں سندھ کی آبادی تقریباً چار کروڑ 70 لاکھ بتائی گئی ہے۔ تاہم وفاقی حکومت سندھ کے اس موقف سے اتفاق نہیں کرتی۔
وفاقی ادارہ شماریات نے 1998 کے بعد 2017 میں ہونے والی چھٹی مردم شماری میں دس بڑے شہروں کی آبادی کے اعدادو شمار پیش کیے تھے، جن کے مطابق کراچی کی آبادی ایک کروڑ 60 لاکھ 51 ہزار 521 بتائی گئی، جبکہ 1998 کی مردم شماری میں کراچی کی آبادی 98 لاکھ 65 ہزار تھی۔ یوں کراچی سب سے زیادہ آبادی والا شہر جبکہ لاہور دوسرے نمبر پر رہا۔
اس حوالے سے ایم کیو ایم کا موقف تھا کہ 19 سال بعد کراچی کی آبادی بڑھنے کی شرح سو فیصد، جبکہ تھر اور گھوٹکی میں آبادی کا اضافہ چار سو فیصد تک دکھایا گیا ہے، جو بالکل غیرمنطقی ہے۔ سندھ کے مطابق 1998 کی مردم شماری میں سندھ کے شہری علاقوں بشمول کراچی، حیدرآباد اور سکھر کے بلاکس 47.65 فیصد تھے، جو نئی مردم شماری میں دو فیصد تک کم ہو کر 45 فیصد ہوگئے جبکہ 18 سالوں میں دیہی آبادی کے بلاکس 52.35 فیصد سے بڑھ کر 55 فیصد ہوگئے۔ سندھ کا کہنا تھا کہ شفاف مردم شماری کے بعد کراچی میں قومی اسمبلی کی 20 کے بجائے 40 اور سندھ بھر کی 42 کے بجائے 84 نشستیں ہونی چاہییں ۔
گذشتہ دنوں تحریک انصاف کی وفاق میں اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے اپنے مردم شماری پر نظر ثانی کا مطالبات نہ مانے جانے کی وجہ سے ایک بار پھر حکومت سے علیحدہ ہونے کا عندیہ دیا تو کراچی کی مردم شماری کے متازع نتائج کا معاملہ دوبارہ اٹھ کھڑا ہوا۔ دسمبر 2020 میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 2017 میں ہونے والی مردم شماری کے نتائج کی منظوری دی گئی تھی، جس کے بعد ایم کیو ایم پاکستان نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ یاد رہے کہ 2018 میں ایم کیو ایم نے تحریک انصاف کی حکومت میں شامل ہونے کے لیے نو نکات پر مبنی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس میں پہلی شرط کراچی کی مردم شماری کے متنازع نتائج کے حوالے سے تھی۔ لہذا حکومت کی جانب سے متنازعہ مردم شماری نتائج کی منظوری کے بعد ایم کیو ایم نے علیحدہ ہونے کی دھمکی دی جس کے بعد ناراض اتحادی کو منانے کے لیے وفاقی وزیر اسد عمر کی قیادت میں پی ٹی آئی کے وفد نے کراچی میں ایم کیو ایم کی قیادت سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں ایم کیو ایم نے آئندہ الیکشن سے قبل نئی مردم شماری کرانے کا مطالبہ کیا، جس پر وفاقی وزیر ۔منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ مردم شماری موجودہ نہیں بلکہ، پچھلی حکومت نے کروائی ہے۔ لیکن انہوں نے ایم کیو ایم کی قیادت کو یقین دلایا کہ مردم شماری دوبارہ کرائی جائے گی۔
لیکن اس وعدے کے برخلاف وفاقی حکومت کی جانب سے مردم شماری کے نتائج کا اعلان ہوتے ہی سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی سمیت صوبے کی تمام جماعتوں نے ناراضی کا اظہار کیا۔ ایم کیو ایم پاکستان، پاک سرزمین پارٹی اور جماعت اسلامی نے تو اسکے خلاف احتجاجی ریلیاں بھی نکالیں جن میں انہوں نے مردم شماری کے نتائج کو رد کیا اور کراچی میں دوبارہ سے گنتی کروانے کا مطالبہ کیا۔
یاد ریے کہ 2017 میں وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے مردم شماری کے نتائج کے اعلان کے بعد ایم کیو ایم نے مردم شماری میں دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے کراچی میں مردم شماری کے بلاکس کم ہونے کو سپریم کورٹ میں چیلنج بھی کر دیا تھا۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو ایک خط لکھ کر وفاقی کابینہ میں مردم شماری کے نتائج کو منظور کیے جانے پر اعتراض اٹھایا تھا۔ وہ اس کے قبل اس معاملے پر وزیر اعظم کو ایک اور خط بھی لکھ چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے مطابق سندھ کی آبادی چھ کروڑ سے بھی زیادہ ہے مگر مردم شماری میں سندھ کی آبادی تقریباً چار کروڑ 70 لاکھ بتائی گئی ہے۔انہوں نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل نے 2017 میں وزارت شماریات کو کہا تھا کہ حتمی نتائج تیار کرنے سے قبل ہر صوبے کے ایک فیصد سینسس بلاک میں تیسرے فریق سے تصدیق کرائی جائے، جسے بعد میں بڑھا کر پانچ فیصد تک کر دیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ 24ویں آئینی ترمیم منظور کرتے وقت تمام پارلیمانی پارٹیوں کے درمیان معاہدے کی صورت میں کیا گیا تھا، جس میں یہ بھی طے پایا تھا کہ 2018 کے عام انتخابات مردم شماری کے عبوری نتائج کی روشنی میں ہی کرائے جائیں گے۔وزیر اعلیٰ سندھ کے مطابق مشترکہ مفادات کونسل نے اس فیصلے کو مارچ 2018 میں بھی دہرایا، لیکن اس وقت سے اب تک ملک میں مردم شماری کے حتمی نتائج جاری کرنے کا کام تعطل کا شکار ہے۔ اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما تاج حیدر نے الزام لگایا ہے کہ مردم شماری کے دوران وہ تمام لوگ جو دوسرے صوبوں سے آ کر سندھ میں آباد ہوئے، انہیں سندھ کی آبادی کی بجائے دوسرے صوبوں کی آبادی میں شمار کر کے صوبے کی حق تلفی کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے نتیجے میں سندھ کی آبادی ایک کروڑ 40 لاکھ کے قریب کم ظاہر کی گئی۔ پیپلزپارٹی کا موقف ہے کہ 2017 کی مردم شماری میں نہ صرف کراچی بلکہ پورے صوبے کی آبادی کو کم دکھایا گیا ہے، جس کے باعث اب صوبے کو نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ، قومی سطح کی نوکریوں سمیت قومی وسائل کی تقسیم میں منصفانہ حصہ نہیں ملے گا، اس لیے سندھ کو 2017 کی مردم شماری پر اعتراض ہے۔
دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت پہلے دن سے ان نتائج کے خلاف تھی، مگر چونکہ کابینہ میں فیصلے اکثریت سے ہوتے ہیں اور مردم شماری کے نتائج پر کسی اور صوبےکو مسئلہ نہیں تھا تو اس لیے وہ منظور ہوگئے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں انصاف نہ عدالت سے ملا، نہ کابینہ سے، نہ پارلیمان سے۔ اس لیے ہم احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملے کو مشترکہ مفادات کونسل میں لے جایا جائے اور مردم شماری دوبارہ کروائی جائے۔
