سندھ ہر کام میں سب سے پیچھے کیوں ہوتا ہے

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے پانی کی قیمت اور استعمال کے طریقہ کار سے متعلق کیس کی سماعت کی،عدالت نے پیش رفت رپورٹ جمع نہ کرانے پر سندھ حکومت پر برہمی کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سندھ ہر کام میں سب سے پیچھے کیوں ہوتا ہے۔ سارے جہاں کا گندا پانی کینجھر جھیل میں جا رہا اور سب سے بڑا ذخیرہ سندھ میں ہونے کے باوجود سندھ والے پانی کو ترس رہے ہیں۔
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ملک میں پانی کی قیمتوں اور استعمال کے طریقہ کار کے حوالے سے ازخود نوٹس پر عملدرآمد کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے آغاز میں جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ لا اینڈ جسٹس کمیشن نے حکومت کو سفارشات بھیجی تھیں اس کا کیا بنا؟۔
اس موقع پر چیف جسٹس کا سندھ کے افسران کے ساتھ مکالمہ ہوا جس میں انہوں نے ریمارکس دیے کہ تمام صوبوں نے رپورٹ جمع کرا دی ہے سوائے سندھ کے، آپ کا صوبہ سب سے پیچھے ہے، سندھ آخر میں کیوں آتا ہے؟
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ابھی بھی رپورٹ آپ کے ہاتھ میں ہے اب ہم کیا کریں، چیدہ چیدہ چیزیں بتا دیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 2018 سے یہ کیس چل رہا ہے ہم تو کیس نمٹانے لگے ہیں اس پر سندھ کے افسران نے بتایا کہ انڈر گراؤنڈ اسکیم بنائی ہے اور 64 ڈیمز بھی بنا رہے ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ نئی گج ڈیم کے لیے وفاق کی جانب سے جاری کردہ 6 ارب روپے بھی خردبرد ہوگئے۔
جس پر محکمہ آب پاشی سندھ کے ڈپٹی سیکریٹری نے نئی گج ڈیم منصوبے میں کرپشن کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ محکمہ اینٹی کرپشن نے 17 افراد کے خلاف کارروائی کی اجازت مانگی ہے۔
جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا وزیراعلٰی سندھ اینٹی کرپشن کو کارروائی کی اجازت دیں گے؟
جس کے جواب میں ڈپٹی سیکریٹری نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انکوائری بھی وزیراعلٰی کے حکم پر شروع کی گئی تھی۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ کینجھر جھیل پاکستان کی سب سے بڑی جھیل ہے جو سندھ میں ہے اور سارے جہاں کا گندا پانی کینجھر جھیل میں جا رہا ہے جبکہ سب سے بڑا ذخیرہ سندھ میں ہونے کے باوجود سندھ والے پانی کو ترس رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ہمارے ملک میں فصل کاشت کرنے کا کوئی نظام نہیں ہے، ایسی فصلیں لگائی جانی چاہئیں جو پانی کم پیتی ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کپاس کی جگہ گنے کی کاشت سے ملک کو نقصان ہو رہا ہے اور زرعی ملک ہوتے ہوئے بھی ہمیں کپاس درآمد کرنی پڑتی ہے جبکہ کاشت کار مل مالکان کے دباؤ میں بھی گنا کاشت کرتے ہیں کیوں کہ کاشت کار کو ڈر ہوتا ہے گنا نہ اگایا تو مل مالک زمین ہی ہتھیا لے گا۔
ڈپٹی سیکریٹری نے عدالت کو بتایا کہ سندھ میں آج بھی 200 روپے فی فصل پانی کی قیمت وصول کی جاتی ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایک فصل سے آمدن کروڑوں روپے کی ہوتی ہے اور پانی کے صرف 200 روپے وصول ہوتے ہیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ سیمنٹ، ٹیکسٹائل، چمڑے سمیت دیگر صنعتوں کے لیے ٹیرف متعارف کروانا تھا، اگر صنعت کو پانی مفت مل رہا ہے تو وہ پانی کی قدر نہیں کریں گے، یہ وہی بات ہو جائے گی کہ ‘مال مفت دل بے رحم’۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ لاہور، قصور، کراچی اور حیدر آباد میں زیر زمین پانی آلودہ ہوگیا ہے، جتنا پانی دریاؤں میں ہے اتنا ہی پانی زیر زمین سے نکلا جا رہا ہے، حکومتی محکمے کس اصول کے تحت پانی کی رقم وصول کریں گے؟
پاکستان کمیشن فار انڈس واٹر کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ اس سلسلے میں ہم اپنی سفارشات دے چکے ہیں، صوبوں کو بتا دیا ہے کہ 10 لاکھ کیوسک کی رقم 50 لاکھ ڈالر ہے۔
کمیشن کے نمائندے کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے ٹی او آرز بنا لیے ہیں اور جو رقم ہم نے تجویز کی ہے وہ امریکا کے مقابلے میں کم ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ واٹر سپوزیم کی سفارشات پر کس حد تک عملدرآمد ہوا ہے جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ پنجاب نے بتایا کہ پنجاب نے اپنی عملدرآمد رپورٹ جمع کروا دی ہے۔
اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پنجاب نے صرف کاغذی کارروائی کی ہے، پنجاب کو صرف کاغذ نہیں بھرنے بلکہ تمام صوبوں نے نتائج دینے ہیں۔
جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ پنجاب واحد صوبہ ہے جس نے 115 کلو میٹر کی نئی نہر کے منصوبے پر کام کا آغاز کیا، ایک لاکھ 70 ہزار ایکٹر زمین کو اس نہر سے سیراب کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ 45 ارب روپے کا منصوبہ ہے جس کی فنڈنگ ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) کر رہا ہے۔
بعدازاں عدالت نے چاروں صوبوں اور وفاق کو واٹر سمپوزیم پر عملدرآمد سے متعلق تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کی مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت ایک ماہ تک ملتوی کر دی۔
خیال رہے کہ گزشتہ برس 26 اگست کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے زیر زمین پانی کے استعمال سے متعلق چاروں صوبوں سے رپورٹ طلب کرنے کے ساتھ یکساں قانون سازی کے مسودے سے متعلق بھی صوبوں کو 4 ہفتوں کی مزید مہلت دی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button