گورنر سندھ کا اپنی کرسی بچانے کے لیے بھائی لوگوں سے رابطہ

بطور گورنر سندھ اپنی کرسی بچانے کی سر توڑ کوشش میں مصروف کامران خان ٹیسوری نے بھائی لوگوں سے رابطہ کر لیا ہے تاکہ اپنے عہدے پر برقرار رہ سکیں۔ تاہم باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ کامران ٹیسوری کے لیے اپنی کرسی بچانا ممکن نہیں ہوگا۔ وفاقی دارالحکومت میں گردش کرنے والی خبروں کے مطابق اعلیٰ سطح پر مشاورت مکمل ہو چکی ہے اور آئندہ چند ہفتوں میں اہم پیش رفت متوقع ہے۔
یاد رہے کہ سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت سے باقاعدہ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کی برطرفی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ گورنر سندھ آئینی منصب پر فائز ہونے کے باوجود سیاسی کردار ادا کر رہے ہیں اور اپنے اختیارات کو ایم کیو ایم کے فائدے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جو آئین کی روح کے منافی ہے۔ یاد رہے کہ گورنر سندھ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت پر پچھلے کئی مہینوں سے مسلسل سخت تنقید کر رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنماؤں نے حالیہ بیانات اور پارلیمانی گفتگو میں الزام عائد کیا ہے کہ گورنر ہاؤس کو سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ پارٹی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ سرکاری وسائل کسی مخصوص بیانیے یا جماعتی سرگرمی کے فروغ کے لیے استعمال نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ اس سے اداروں پر عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ایک گورنر کو غیر جانبدار اور تمام شہریوں کا نمائندہ ہونا چاہیے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ ایم کی ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار نے گورنر سندھ کا دفاع کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کر دیا ہے جس سے معاملات اور بھی کشیدہ ہو گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر اور صوبائی حکومت کے درمیان مسلسل اختلافات انتظامی ہم آہنگی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ صوبائی معاملات میں مداخلت اور پالیسی امور پر تنقیدی بیانات نے ورکنگ ریلیشن شپ کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث حکومتی امور میں غیر ضروری تناؤ پیدا ہو رہا ہے۔ دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ پاکستان گورنر کے دفاع میں سامنے آ گئی ہے۔ ایم کیو ایم کے سینیئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ اگر گورنر سندھ کو یکطرفہ طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا تو حکومت کے ساتھ چلنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہے گا۔ ان کے مطابق سندھ کی گورنر شپ سے متعلق شہباز شریف کی اتحادی جماعتوں کے درمیان طے شدہ فارمولے کا احترام کیا جانا چاہیے۔
ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے بھی واضح کیا ہے کہ گورنر کے حوالے سے کوئی فیصلہ مشاورت کے بغیر قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس دوران صدر آصف علی زرداری پر بھی تنقید کی گئی اور کہا گیا کہ اگر گورنر سندھ کی برطرفی کا مطالبہ ان کی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے کیا جا رہا ہے تو پھر دیگر آئینی عہدیداروں بشمول صدر زرداری کی حالیہ سیاسی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔
اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں یہ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ گورنر سندھ کو پہلے مرحلے میں پینتالیس دن کی رخصت پر بھیجا جا سکتا ہے۔ اگرچہ کامران خان ٹیسوری نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ معمول کے مطابق اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اور نہ ہی استعفیٰ دے رہے ہیں، تاہم باخبر ذرائع اس معاملے کو سنجیدہ قرار دے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ کامران خان ٹیسوری نے 9 اکتوبر 2022 کو گورنر سندھ کا حلف اٹھایا تھا۔ ان کی تقرری اتحادی وفاقی حکومت کی منظوری سے عمل میں آئی تھی۔ گورنر بننے کے بعد سے انہوں نے بالخصوص کراچی کے بلدیاتی مسائل، امن و امان اور شہری سہولیات کے حوالے سے صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا، جس پر پیپلز پارٹی کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔
گورنر ٹیسوری کو بچانے کے لیے MQM کا صدر زرداری پر حملہ
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تنازع دراصل سندھ میں صوبائی خودمختاری اور وفاقی تقرریوں کے درمیان اختیارات کے توازن کا مسئلہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی گورنر کو جانبدار سمجھا جائے تو اس سے آئینی منصب کی غیر جانبداری متاثر ہوتی ہے، جبکہ دوسری طرف اتحادی سیاست میں طاقت کا توازن بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی قیادت نے وزیراعظم شہباز شریف سے بھی رابطہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ گورنر صوبائی حکومت کے لیے اپوزیشن کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں اگرچہ کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا، لیکن سیاسی درجہ حرارت مسلسل بلند ہو رہا ہے۔ کامران ٹسوری کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی کرسی بچانے کے لیے ایک مرتبہ پھر ڈی جی سی میجر جنرل فیصل نصیر کی مدد حاصل کر لی ہے جو انہیں بچانے کے لیے دوبارہ سے سرگرم عمل ہو گئے ہیں۔
