سواتی کے لئے شور ڈالنے والے عمران رانا ثنا کو کیوں بھول گئے؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی نے کہا ہے کہ آج اپنے ساتھی اعظم سواتی کی گرفتاری کو ناجائز قرار دے کر انصاف کی دہائیاں مانگنے والے عمران خان بھول گئے کہ ان کے دور میں رانا ثناءاللہ خان کو کیسے ایک جھوٹے منشیات سمگلنگ کے مقدمے میں ملوث کرکے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالا گیا تھا اور اب وہ اس کیس میں بری بھی ہوچکے ہیں۔ رانا ثنا کو PTI کے دور حکومت میں یکم جولائی 2019 کو گرفتار کیا گیا اور کہا گیا کہ ان سے 15 کلو گرام منشیات برآمد ہوئی ہیں۔ انہوں نے چھ ماہ ناجائز جیل کاٹی جسکے بعد 24 دسمبر 2019 کو لاہور ہائی کورٹ نے قبل ازگرفتاری ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت میں منشیات برآمد کرنے والے اسسٹنٹ ڈائریکٹرز نے بھی الزام کی تردید کر دی، ANF سپیشل کورٹ میں پراسیکیوشن کے دو گواہ منحرف ہو گئے، جبکہ دیگر شریک ملزمان بھی بری ہو گئے۔ دونوں گواہان نے اپنے بیان حلفی عدالت میں جمع کرواتے ہوئے کہا کہ منشیات برآمدگی کا واقعہ انکے سامنے نہیں رونما نہیں ہوا، انسپکٹر احسان عظیم اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر امتیاز چیمہ نے بیان حلفی اے این ایف کی عدالت میں جمع کرواتے ہوئے کہا کہ رانا ثناء سے ہمارے سامنے کوئی منشیات برآمد نہیں ہوئیں اور وہ اس کیس میں گواہ نہیں بن سکتے۔ گواہان کا کہنا تھا کہ اے این ایف نے انہیں خود گواہ نامزد کیا حالانکہ ان کے سامنے کوئی منشیات برآمد نہیں کی گئیں۔

 

انصار عباسی کہتے ہیں کہ منشیات اسمگلنگ کیس میں رانا ثنا اللہ کی بریت کے بعد تحریک انصاف دور کے وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی اور تب کے اے این ایف کے ڈی جی میجر جنرل عارف ملک کی پریس کانفرنس یاد آ گئی جس میں رانا صاحب کی گرفتاری پر اُنہیں منشیات کے کسی بین الاقوامی گروہ کا اہم رکن بنا کر پیش کیا گیا تھا اور قوم کو یقین دلایا گیا تھا کہ تمام ثبوت موجود ہیں، ویڈیوز بھی حکومت کے پاس ہیں، اس کے علاوہ گواہیاں بھی مکمل ہیں اور سب کچھ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔  بعد میں شہریار آفریدی بار بار کبھی قومی اسمبلی کے فلور پر تو کبھی ٹی وی چینلز پر قسمیں کھا کھا کر کہتے رہے کہ رانا ثنا اللہ کے خلاف تمام ثبوت اُنہوں نے خود دیکھے۔ وہ کہتے رہے کہ میں نے جا ن اللہ کو دینی ہے لہذاا جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں سو فیصد سچ ہے اور دنیا کے سامنے عدالت میں ثابت ہوگا۔  جب رانا ثنا کو گرفتار کیا گیا تو تحریک انصاف کے علاوہ دوسری سیاسی جماعتوں کے رہنما اور میڈیا کی بڑی تعداد نے اس گرفتاری پر سوال اُٹھانے شروع کر دیے۔ بعد میں جب واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی تو اس نے سارے جھوٹ کا پول کھول دیا لیکن اس کے باوجود شہریار آفریدی اور اے این ایف اپنے الزامات کو دہراتے رہے۔ بعد میں ایک ٹی وی پروگرام میں فواد چوہدری نے تسلیم کیا کہ رانا ثنا اللہ پر جھوٹا کیس بنایا گیا جس کا الزام اُنہوں نے اے این ایف پر ڈالا۔

 

انصار عباسی کے بقول جس کیس میں رانا ثنا کو ملوث کیا گیا اُس کی سزا موت ہے۔ اُنہیں موت کی سزا پانے والے مجرموں کی کوٹھڑی میں رکھا گیا۔ شہریار آفریدی اب وزیر نہیں رہے، اے این ایف کے جھوٹے فوجی سربراہ بھی ریٹائر ہو چکے۔ سوال یہ ہے کہ یہ جھوٹا کیس اُنہوں نے کیوں بنایا، کیوں ایک بے قصور شخص پر منشیات کی سمگلنگ کا اتنا بڑا کیس بنایا؟ اللّہ کو سب نے جان دینی ہے۔کیا شہریار آفریدی اور ریٹائرڈ میجر جنرل عارف ملک رانا صاحب سے اور قوم سے معافی مانگیں گے اور اپنا جرم تسلیم کریں گے۔  یہ تو وہ ہے جو کم از کم ہے جو اُن دونوں کو کرنا چاہیے۔ ورنہ جھوٹا کیس بنانے پر دونوں کے خلاف کیس چلنا چاہیے اور ریٹائرڈ میجر جنرل کا کورٹ مارشل کر کے اُن سے ریٹائرمنٹ کی تمام سہولتیں واپس لینی چاہیے۔

 

انصار عباسی کہتے ہیں کہ آپ ویسے عمران خان جو آج کل اعظم سواتی اور شہباز گل کی گرفتاری کے دوران اُن سے مبینہ بدسلوکی پر قانون کی عملداری اور انصاف کی بات کرتے ہیں کیا رانا صاحب کے کیس میں بھی کچھ بولیں گے؟  خان صاحب کو یاد دہانی کرانی ہے کہ جو کچھ رانا صاحب کے ساتھ ہوا اس وقت عمران خان ملک کے وزیر اعظم تھے اور شہریار آفریدی اُن کی کابینہ کے رکن تھے۔

Back to top button