سوات میں سکول وین پر فائرنگ سے طلبہ زخمی، ڈرائیور ہلاک

خیبرپختونخوا کے ضلع سوات میں ںامعلوم افراد کی جانب سے نجی سکول کی وین پر فائرنگ سے ڈرائیور ہلاک جبکہ دو طلبا زخمی ہوئے ہیں۔پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ پیر کی صبح تحصیل چار باغ کے علاقے گلی باغ میں پیش آیا ہے جس میں دو طلبہ زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے لیے شہر خوازہ خیلہ کے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ملزم کی تلاش کے لیے پولیس اور سکیورٹی اداروں نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا، پولیس کے مطابق فی الحال اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہوگا کہ فائرنگ کے واقعے میں کون ملوث ہے۔ خیال رہے کہ تین ہفتے قبل 13 ستمبر کو ضلع سوات کے علاقے براہ بانڈئی میں امن کمیٹی کے رکن ادریس خان بم دھماکے میں پانچ افراد سمیت ہلاک ہو گئے تھے۔
ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) سوات زاہد مروت نے بتایا تھا کہ ادریس خان کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔اس سے قبل اگست میں ضلع لوئر دیر میں تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی ملک لیاقت نامعلوم افراد کی فائرنگ سے زخمی ہو گئے تھے جبکہ واقعے میں ان کے بھائی، بھتیجا، ایک پولیس اور ایک لیوی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔
صوبہ خیبرپختونخوا کے مالاکنڈ ڈویژن کے کئی علاقوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسندوں کی مبینہ واپسی کے خلاف متعدد مظاہرے ہو چکے ہیں۔حال ہی میں سوات کی تحصیل مٹہ میں شہریوں نے صوبے میں طالبان کی ممکنہ موجودگی کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔ احتجاج کے شرکا کا کہنا تھا کہ وہ اپنے علاقے میں مسلح جنگجوؤں کو کسی صورت قدم نہیں جمانے دیں گے۔
مظاہرین نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ سنہ 2009 والی صورتحال دوبارہ پیدا ہونے سے روکے جب مقامی طالبان کے خلاف فوج کو آپریشن کرنا پڑا تھا اور اہل علاقہ کی زندگی اجیرن ہو گئی تھی۔
لوئر دیر کے علاقے میں ’امن جلسہ‘ منعقد ہوا تھا جس میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے قیام کا مطالبہ کیا۔
